Voice of Asia News

اسحاق ڈار نے بجٹ 20-2019ء پر مایوسی کا اظہار کر دیا

اسلام آباد ( وائس آف ایشیا ) وفاقی حکومت نے گذشتہ روز آئندہ مالی سال 20-2019ء کا بجٹ پیش کیا جس پر سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مایوسی کا اظہار کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں تعلیم اور پرائیویٹ سیکٹر سمیت عوام کے لیے کوئی ریلیف نظر نہیں آ رہا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جو بجٹ پیش کیا اْس کی کوئی سمت نہیں ہے۔ بجٹ کو دیکھ کر اور سْن کر بہت مایوسی ہوئی۔ ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ اگر میں دو چار الفاظ میں اس بجٹ کو بیان کروں تو میں یہ کہوں گا کہ اس بجٹ میں سوشل سیکٹر اور عوام کے لیے کوئی ریلیف نہیں نظر آیا۔ میرے مطابق یہ عوام دوست بجٹ نہیں ہے۔کیونکہ یہ جی ڈی پی اور ٹیکسز کا ہدف کیسے حاصل کریں گے۔اْن کا کہنا تھا کہ اس بجٹ پر مجھے شدید مایوسی ہوئی۔ آپ کی اطلاع کے لیے بتا دوں کہ مجھ سے کافی ٹی وی چینلز نے رابطہ کیا اور وقت مانگا کہ ہم بجٹ کے بعد آپ سے بات کرنا چاہیں گے اور اس بجٹ پر آپ کا تجزیہ لینا چاہیں گے، میں نے ان سے کہا کہ دیکھ لو پیمرا ہے، پاکستان میں ایسی حکومت ہے جس کا لیڈر عمران خان نیازی ہے۔ اور وہی ہوا کہ انہوں نے عین وقت پر معذرت کر لی اور کہا کہ پیمرا کو پتہ چل گیا ہے ، پیمرا نے سختی سے ہمیں منع کیا ہے کہ اسحاق ڈار کو بیپر پر نہ لیا جائے۔انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اتنا کیوں خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ میں صرف آپ کو حقیقت بتاتا ہوں لیکن آپ کبھی کسی ٹی وی چینل کو جْرمانے کروا دیتے ہیں تو کبھی کسی ٹی وی چینل کو۔ کبھی آپ اینکرز کو بْلا کر کہتے ہیں کہ آپ اسحاق ڈار کو پروگرام میں کیوں لیتے ہیں ایسا نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ ایک سال کی تباہی ہے، اس میں کوئی روڈ میپ نہیں ہے۔ہماری بد قسمتی ہے کہ آج تک اس حکومت نے جس طرح کی کارکردگی دکھائی ہے اْسی طرح کا بجٹ دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار علاج کی غرض سے لندن گئے تھے اور پھر واپس نہیں آئے۔اسحاق ڈار سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے سمدھی ہیں اور سپریم کورٹ نے ایک مقدمے میں اسحاق ڈار کی سینیٹ کی رکنیت معطل کر رکھی ہے۔اسحاق ڈار کو عدالت نے کئی مرتبہ طلب کیا لیکن وہ وطن واپس نہیں آئے جس کے بعد انہیں مفرور قرار دے دیا گیا تھا۔ تب سے اب تک اسحاق ڈار کبھی لندن اور کبھی امریکہ میں قیام کرتے ہیں۔ البتہ انہوں نے حال ہی میں ملکی معاشی صورتحال پر ویڈیو پیغام کے ذریعے قوم کو آگاہی دینے کا فیصلہ کیا تھا ، جس کے بعد سے وہ اکثر و بیشتر سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر ویڈیو پیغام جاری کرتے ہیں اور موجودہ حکومت کو معیشت پر کئی تجاویز بھی دیتے ہیں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •