Voice of Asia News

بجٹ کے محنت کشوں کی زندگیوں پر اثرات:شوکت علی چوہدری

تحریک انصاف کی حکومت نے اپنا پہلا باضابطہ بجٹ براے 2020.2019 پیش کر دیا ہے۔بجٹ کے اعلان سے قبل حکومتی مشیر خزانہ نے اپنی حکومت کی معاشی کارکردگی کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جو خاصی مایوس کن تھی جس کے مطابق معاشی ترقی کی شرح 6.2% کے مقابلہ میں 3.3% رہی۔اسی طرح زراعت میں بھی ترقی کی شرح 3.8% کے مقابلہ میں 0.85% رہی۔غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی 52% کی کمی ہوئی۔زراعت اور صنعت دو ایسے شعبے ہیں جو قومی آمدنی میں اضافہ کے ساتھ ساتھ عوام الناس کو روز گار فراہم کرنے کا بھی بڑا زریعہ ہیں ان دونوں شعبوں میں تنزلی سے ملک میں روزگار کے مواقعوں میں کمی واقعہ ہوء ہے اور تجزیہ نگاروں کے تجزیوں کے مطابق تقریبا” دس لاکھ محنت کش بے روزگار ہوے ہیں اور بقول ماہرین معیشت آنے والے سال میں اتنی ہی مزید تعداد کا ان بے روزگاروں کی فوج میں اضافہ ہو جائے گا۔حکومتی پالیسی سازوں کا سارا زور غیر ملکی سرمایہ کاری پر ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری ملک میں آے گی تو اس سے حکومت کو ریونیو کی مد میں جو آمدنی ہو گی سو ہو گی اس کے علاوہ روزگار کے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے جب کہ ایسا ہر گز نہیں ہے آج جدید ٹیکنالوجی کے دور میں روز گار دینے والے بھی 100 کے مقابلہ میں 10 افراد کو ہی ملازمتیں دیتے ہیں۔ یہ ہی حال ان اداروں کا ہوتا ہے جن کی نج کاری کی جاتی ہے اب تک کی نج کاری کا اگر جاہزہ لیا جائے تو تمام کے تمام اداروں میں ملازمین کی تعداد میں اضافہ نہی ہوا کمی ہوئی ہے۔جہاں تک حکمرانوں کا تعلق ہے تو اگر ان کی 71 سالہ پالیسیوں کا جائزہ لیا جاے تو انہوں نے ہمیشہ یا تو ملکی اشرافیہ کا بھلا سوچا ہے یا ان غیر ملکی آقاوں کو خوش کرنے کی۔کوشش کی ہے جن کے دست شفقت کی وجہ سے ان۔کا راج سنگھاسن سلامت رہے۔بنیادی طور پر پاکستان ایک نیم جاگیردارانہ، نیم سرمایہ دارانہ اور قباہلی نظام پر مشتمل ملک ہے اور قیام پاکستان سے آج تک اس کی اس ہیت ترکیبی میں کوء خاص فرق نہی آیا ہے۔آج بہت سے کہنے والوں کا اصرار ہے کہ اب پاکستان میں ماضی کی طرح کی جاگیرداریاں نہی رہی ہیں اگر ایک لمحے کو یہ مان لیا جاے کہ اب جاگیردارانہ نظام اپنی ماضی والی حیثیت میں برقرار نہیں ہے تو کیا پاکستانی سیاست پر سے ان جاگیرداروں وڈیروں اور قباہلی سرداروں کا اثر ختم ہو گیا ہے جس کا جواب ہے کہ ہر گز نہی۔تاریخی طور پر ایک بات طے ہے کہ جو معاشرہ جتنا پس ماندہ ہو گا اس معاشرے کی سیاست اور معیشت پر سامراجی سیاست اور معیشت کی گرفت اتنی ہی مضبوط ہو گی۔پاکستان اس ماڈل کی ایک عمدہ مثال ہے کہ کروڑوں ایکٹر زرعی زمیں ہونے کے باوجود یہ ملک زراعت میں خود کفیل نہ ہو سکا اور آج تک آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک جیسے سامراجی اداروں کا بندہ بے دام بنا ہوا ہے۔اسی طرح صنعتی میدان میں بھی ماسواے ٹیکسٹائل سیکٹر ،سرجیکل اور سپورٹس گڈز کے کسی اور شعبہ میں ترقی نامی کوء شے ہمارے نامہ اعمال میں نہیں ہے۔ٹیکسٹائل سیکٹر میں ہونے والی ترقی بھی اب آہستہ آہستہ سمٹنا شروع ہو چکی ہے اور دیگر بہت سے ممالک اپنی بہتر منصوبہ بندی کی وجہ سے ہم سے آگے نکلتے جارہیے ہیں۔بات زرا سمیٹتے ہوئے اپنے اصل موضوع بجٹ کے محنت کشوں کی زندگیوں پر اثرات کا جاہزہ لیتے ہیں۔ پاکستان میں حکومتی اعدادوشمار کے مطابق لگ بھگ ساڑھے چھ کروڑ محنت کش ہیں۔ان کی بڑی تعداد ملکی فیکٹریوں۔کارخانوں اور سروسز مہیا کرنے والے مختلف اداروں میں کام کرتی ہے۔بجٹ سے قبل تک کام کرنے والے محنت کشوں کی کم سے کم ماہانہ تنخواہ پندرہ ہزار روپے تھی جسے اب حکومت نے 17500 روپے ماہوار کرنے کا اعلان کیا ہے۔اسی طرح ملازمیں کی پینشن میں بھی 10% اضافہ کا اعلان کیا گیا ہے۔بوڑھے ریٹارہرڈ پینشنرز جو EOBI میں رجسٹرڈ ہیں اور 60 سال کی عمر تک اپنی تنخواہ کا ایک حصہ اس امید پر EOBI کے پینشن فنڈ میں جمع کرواتے رہتے ہیں کہ ریٹاہرڈ ہونے کے بعد ان کو ایک معقول رقم پینشن کی مد میں مل جاے گی۔اس فنڈ میں محنت کشوں کے علاوہ سرمایہ دار بھی محنت کشوں کی تنخواہ کا ،4تا 8% جمع کرواتے ہیں۔یہ اربوں کی رقم حکومتی کنٹرول میں اور حکومتوں کے مقرر کردہ افسران کے داہرہ اختیار میں رہتی ہے۔سالہا سال تک حکومتی کنٹرول میں رہنے والی اس رقم سے افسران اعلی اور حکومتی اکابرین جی بھر کے من مانیاں کرتے ہیں۔اب جب بجٹ میں ان محنت کشوں کی پینشن میں اضافہ کا مماملہ آیا تو سرکار نے شان بے نیازی سے ان کو پہلے ہی سے ملنے والی 6500 روپے ماہانہ پینشن کو ہی برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا۔اب اگر مارکیٹ میں بڑھتی ہوء مہنگاء اور افراط زر میں ہونے والے اضافہ کا جاہزہ لیا جاے تو حکومت نے محنت کشوں کو کچھ بھی نہی دیا ماسواے لولی پوپ کے۔کیونکہ جس اضافہ کا حکومت نے اعلان کیا ہے وہ اضافہ تو مارکیٹ کے معاشی بحران کا مقابلہ کرنے کی سکت ہی نہیں رکھتا۔اوپر سے حکومت نے گھی چینی سمیت دیگر روزمرہ ستعمال کی اشیاء کی قیمتوں پر ظالمانہ ٹیکس لاگو کرکے غریب محنت کشوں کی زندگیوں کو اجیرن کرنے میں کوئی کسر نہی چھوڑی۔نہ جانے کیوں پاکستان میں اقتدار میں آنے والا ہر حکمران وہ خواہ مارشل لاء کے ذریعے آیا ہو یا انتخابات کے نتیجہ میں،اقتدار میں آتے ہی محنت کش اور غریب دشمن ہو جاتا ہے۔اور اس کی یہ ہی کوشش ہوتی کہ ان محنت کشوں اور غریب عوام کے تن کے کپڑے تک اتار لیے جاہیں۔وہ حکمران خواہ پاکستان کی کسی درسگاہ کا پڑھا لکھا ہو یا یورپ کی اعلی یونیورسٹیوں کا سب ہی محنت کشوں سے چھین کر امیروں کا پیٹ بھرنے کی ہی پالیسیاں بناتے ہیں۔آج تک کوئی ایسا حکمران نہیں آیا جس نے امیروں کی دولت اور ان کی زمینوں جائیدادوں اور کاروباروں کے منافع پر ان سے پورا پورا ٹیکس وصول کیا ہو،ٹیکس نہ دینے اور ٹیکس چوری کرنے کے تمام طریقوں کو یہاں باقاعدہ ہر طرح کا تحفظ حاصل ہے ۔حکمران خود اس بات کا اقرار کرتے ہیں پاکستان میں جمح ہونے والا ٹیکس دنیا میں سب سے کم ہے۔ حکمران اپنے اخراجات یا تو قرض لے کر پورے کرتے ہیں یہ غریب عوام پر سیلز ٹیکس جیسے ٹیکس نافز کر کے یہ ہی وجہ رہی کہ اس ملک کی محنت کش کلاس کا معیار زندگی آج تک بلند نہیں ہو سکا اور ایک قابل ذکر مڈل کلاس جو پاکستان جیسے معاشروں کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی تھی اس کی تعداد بجاے بڑھنے کے کم ہوئی ہے۔امیر امیر سے امیر تر اور غریب غریب سے غریب تر تک ہوتے چلے جارہے ہیں۔ اگر دیکھا جاے تو موجودہ حکومت نے بھی ایک رواہیتی اور فرسودہ بجٹ پیش کیا ہے۔جس نے اس ملک کی آبادی کے بہت بڑے حصے کو مزید غربت اور مایوسی کے اندھے کنویں میں پھینک دیا ہے۔اب بھی وقت ہے کہ حکومت امیروں کی آمدنیوں پر دولت ٹیکس کا نفاذ کرے۔ملک میں موجود بڑی بڑی جاگیرداروں کی زرعی آمدنیوں پر ٹیکس لاگو کرے۔ خود موبلائزیشن کر کے ملکی وسائل کا ایمان دارانہ استعمال کرتے ہوے اور ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزاء ئی کرتے ہوئے زراعت اور صنعت کو فروغ دے کر نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کرے بلکہ قومی آمدنی میں بھی اضافہ کرے تاکہ حکومت سرماے کی کمی سے نجات حاصل کر سکے۔ابھی تو جو جی آے تشریح کر لیں حکومتی ماہرین معیشت محنت کش اور غریب عوام سے لے کر امیروں کو پالنے کی پالیسی پر ہی گامزن ہیں حکمرانوں کی یہ پالیسیاں اس ملک کو تباہ و برباد کردیں گیں اور ماسواے افرتفری اور بھوک مری کے کسی کے ہاتھ کچھ نہی آے گا۔

mazdoormahaz@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •