Voice of Asia News

آئی ایم ایف ڈگڈگی پر ناچتی پاکستانی معیشت:محمد قیصر چوہان

پاکستانی معیشت کی حیثیت اس بندریا کی سی ہے جو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی ڈگڈگی پر برسوں سے ناچ رہی ہے اور پاکستانی قوم اس تماشے میں مدتوں سے’’تماشائی‘‘ کا کردار ادا کررہی ہے۔جبکہ پاکستان کے حکمران مداری کے ’’بچہ جمورا ‘‘کی طرح ’’تماشائی‘‘کی جانب سے ملنے والے پیسوں کو اکٹھا کر نے میں مگن ہیں۔پاکستان کے تمام حکمرانوں نے پاکستان کی معیشت کو ’’قرضوں کی معیشت‘‘ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جنرل ایوب کے وزیر خزانہ ڈاکٹر شعیب عالمی بینک سے آئے تھے۔ جنرل ضیا الحق کے وزیر خزانہ محبوب الحق کا تعلق بھی عالمی بینک سے تھا۔ جنرل پرویزمشرف کے وزیر خزانہ شوکت عزیز کا تعلق بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے تھا۔ نگراں وزیراعظم بھی عالمی مالیاتی اداروں کے ایجنٹ تھے۔ نوازشریف اور پیپلزپارٹی کی حکومتیں بھی مالیاتی اداروں کے اشاروں پر ناچتی رہیں۔ صرف میاں نوازشریف نے ملک و قوم پر 38 ارب ڈالر کے قرضوں کا بوجھ لادا ۔ عمران خان کی معاشی ٹیم کے کئی اہم لوگ آئی ایم ایف کے اہلکار نہیں بلکہ اْس کے ایجنٹ ہیں۔ قومیں صرف اپنی ’’سیاسی آزادی‘‘ سے نہیں، اپنی ’’معاشی آزادی‘‘ سے بھی پہچانی جاتی ہیں، مگر جیسے ہمارے فوجی اور سول حکمرانوں نے ہمیں کبھی امریکا کے شکنجے سے نکلنے اور سیاسی آزادی حاصل نہیں کرنے دی اسی طرح انہوں نے ہمیں شعوری طور پر معاشی آزادی سے بھی محروم رکھا۔
پاکستان کی معیشت آئی ایم ایف اور عالمی بینک جیسے معاشی دہشت گردوں کے ہاتھ میں ہے۔ معیشت اور بالخصوص بجٹ ایک پیچیدہ چیز ہے، چنانچہ ہمارے حکمران معاشی اصطلاحوں اور معاشی اعداد و شمار کو ایک پردے کی طرح بروئے کار لاتے ہیں، اور عوام کو کبھی معلوم نہیں ہونے دیتے کہ وہ عوام کے ساتھ کیسا گھناؤنا کھیل کھیل رہے ہیں۔ہماری بجٹ دستاویز ہماری معاشی غلامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2019-20ء کے بجٹ کا مجموعی حجم 6800 ارب روپے ہے۔ اس رقم میں سے 3000 ارب روپے بیرونی قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے۔ قومی دفاع پر 1150 ارب روپے صرف ہوں گے۔ ان اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو ہماری ’’معاشی غلامی‘‘ پوری طرح آشکار ہوجاتی ہے، اس لیے کہ ہمارے قومی بجٹ کا 44 فیصد بیرونی قرضوں کے سود کی ادائیگی پر صرف ہوگا جب کہ 17 فیصد بجٹ قومی دفاع پر خرچ ہوگا۔ابھی آئی ایم ایف نے ہمارے دفاعی بجٹ کو محدود کیا ہے، پھر اس کے بعد وہ شاید ایٹمی پروگرام کو محدود یا بند کرنے کا مطالبہ کرے گا۔ ملک کے معاشی حالات خراب ہوئے تو پاکستان کے حکمران کہہ دیں گے کہ اب ملک چلانا ہے تو ایٹمی پروگرام سے متعلق آئی ایم ایف کے مطالبات کو ماننا ہوگا۔ امریکا کئی مرتبہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو محدود کرانے کی سازش کرچکاہے۔ ہمارے تمام حکمرانوں نے ملک کی معیشت کو ’’قرضوں کی معیشت‘‘ نہ بنایا ہوتا تو آج طرح طرح کے معاشی، سیاسی، تزویراتی اور دفاعی خطرات ہمارے سروں پر نہ منڈلا رہے ہوتے۔تاریخی حقائق سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے ادارے امریکا اور اسرائیل کے ہتھیاروں کی حیثیت رکھتے ہیں، ان ہتھیاروں کا مقصد غریب اور کمزور بالخصوص اسلامی ممالک کی معیشت کو بحران سے نکالنا نہیں بلکہ اسے بحران میں مبتلا کرنا اور بحران میں مبتلا ’’رکھنا‘‘ ہے۔
پاکستان کی غریب عوام کو کرپشن ،مہنگائی اور آئی ایم ایف کی غلامی سے نجات دلاکر ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے دعویدار عمران خان نے بجٹ میں غریب عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مزید ٹیکس لگا مہنگائی کی چکی میں پسنے والی غریب عوام کی پریشانی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ جن بے خبرلوگوں نے بجٹ میں اس طرح کے ٹیکس عائد کرنے کے مشورہ دیا ہے۔ ان بے خبر لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ ملک میں صرف چند فیصد لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں اور بقیہ لوگ مزے کرتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ایک فقیر بھی اگر کوئی چیز خریدتا ہے تو وہ اس پر ٹیکس کی ادائیگی کرتا ہے۔ چاہے جھونپڑی والا ہو یا پھر دومرلے
کے ایک چھوٹے سے گھر میں رہنے والا محنت کش ، بجلی گیس سمیت ہر چیز پر نہ صرف پورا ٹیکس ادا کرتے ہیں بلکہ اکثر زاید بلنگ کا شکار بھی رہتے ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں کے پاس کوئی اثر و رسوخ بھی نہیں ہوتا ، اس لیے یہ لوگ اسے ادا کرنے پر مجبور بھی ہوتے ہیں۔ایک عام آدمی کی تنخواہ سے فوری طور پر ٹیکس منہا کرلیا جاتا ہے جبکہ موبائل فون کے بیلینس ، موبائل فون کی کال ، دواؤں ،ہسپتال کے بل ، کس چیز پر ایک عام آدمی ٹیکس ادا نہیں کرتا۔ اگر کوئی یہ ٹیکس ادا نہیں کرتا تو وہ طبقہ اشرافیہ ہے۔ عمران خان پارلیمنٹ کے اراکین کا معیار زندگی دیکھ لیں اور انہوں نے کتنا انکم ٹیکس ادا کیا ہے ، یہ دیکھ لیں۔ خود عمران خان ، آصف زرداری اور نواز شریف کی جانب سے کتنا انکم ٹیکس ادا کیا گیا ہے ، اگر یہ اعداد و شمار دیکھ لیے جائیں تو ایک عام شخص حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ جب ایک شخص انکم ٹیکس کی سلیب میں آتا ہی نہیں ہے تو وہ کس طرح سے انکم ٹیکس ادا کرسکتا ہے۔ تاہم دن بھر وہ ہر شے کے استعمال یا خریداری پر ٹیکس دیتا ہے ، وہ حکومت کے نزدیک کسی شمار قطار ہی میں نہیں ہے۔ ہر روز ایک نیا بزرجمہر سامنے آتا ہے اور اپنی دانشوری بگھارتا ہے کہ اتنے لوگ عمرے پر گئے مگر صرف اتنوں نے ٹیکس ادا کیا۔ کوئی یہ اعداد و شمار نہیں جاری کرتا کہ افواج کو عام اشیاء کی خریداری پر جو ایکسائیز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس معاف ہے ، اس کا قومی خزانے پر کتنا اثر پڑتا ہے ، ارکان پارلیمنٹ کو کیفے ٹیریا میں کتنے کی سبسڈی دی گئی ، ارکان پارلیمنٹ پرملک میں اور ملک سے باہر علاج کرانے کیلئے کتنے ارب روپے خرچ ہوئے ، ان ہی ارکان پارلیمنٹ کو کتنی تنخواہ اور مراعات دی جاتی ہیں جو ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں ، اسی طرح کا معاملہ عدلیہ کے ساتھ ہے۔ اگر ان تینوں بڑے اداروں پر سے ٹیکس معافی ختم کردی جائے تو ملک کو سیکڑوں ارب روپے کی بچت تو ایسے ہی ہوسکتی ہے۔ حکومت کا کام ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ مناسب طریقے سے مناسب ٹیکس کی وصولی کرے اور اسے ایک عام فرد کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے۔ یہاں پر تو صورتحال یہ ہے کہ جو محروم طبقہ ہے ، اسی سے ٹیکس کی وصولی پر زور ہے اور جو طبقہ اشرافیہ سے ہے ، اس کیلئے ہر سطح پر استثناء کی کوئی نہ کوئی صورت موجود ہے۔ اشیائے خور و نوش سمیت بجلی اورگیس کے بلوں پر ٹیکس کی وصولی کو سفاکانہ اقدام ہی کہا جاسکتا ہے۔ ان تمام سہولیات کی ہر شخص کو فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ حکومت اپنی یہ ذمہ داری تو پوری کر نہیں رہی ہے الٹا ان اشیاء پر بھاری ٹیکس وصول کررہی ہے اور شرمندہ بھی نہیں ہے۔
عمران خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے معاشیات کا کوئی ایک اشاریہ ایسا نہیں ہے جو مثبت ہو۔ ایسا نہیں ہے کہ عمران خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک کسی جنگ میں شامل ہوگیا ہو یا کسی قدرتی آفت نے تباہی مچادی ہو ، جس کی وجہ سے ملک کی اقتصادیات کی نیّا ڈوب رہی ہو۔ جو بھی خرابی آئی ہے وہ عمران خان کی اپنی ٹیم کی لائی ہوئی ہے۔عمران خان کی ٹیم میں کوئی ماہر معیشت ہی نہیں تھا جو پہلے دن سے معاشی پالیسی تشکیل دیتا۔ لے دے کر ایک اسد عمر تھے جن کا چہرہ کبھی بھی بطور ماہر معیشت سامنے نہیں آیا۔ وہ ایک بڑی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ضرور تھے مگر مذکورہ کمپنی میں بھی ان کی کارکردگی بہتر نہیں رہی اور اطلاعات کے مطابق انہیں جبری طور پر مستعفی ہونا پڑا۔ اس کے بعد ماہرین معیشت کے نام پر آئی ایم ایف کے حاضر سروس ملازمین پاکستان پر مسلط کردیے گئے۔ پہلے آئی ایم ایف کے دیے گئے املا پر اسد عمر اینڈ کمپنی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری کررہی تھی جس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت گرداب میں پھنسی کشتی کی طرح بری طرح ہچکولے کھانے لگی۔ بعد میں بینک دولت پاکستان کو آئی ایم ایف کے براہ راست حوالے کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب روپے کی بے قدری کے آگے کوئی روک ٹوک ہی نہیں ہے اور روز روپیہ ڈالر کے مقابلے میں گرنے کا نیا ریکارڈ قائم کرتا ہے۔ بینک دولت پاکستان کے موجودہ گورنر رضا باقر جب مصر میں آئی ایم ایف کے نمائندے تھے ، وہاں پر بھی ان کی یہی کارگزاری تھی جس نے مصر کو معاشی طور پر تباہ کرکے رکھ دیا۔ پاکستان کی معاشی لگام آئی ایم ایف کو دینے کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ پاکستانی معیشت مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔
عمران خان اور ان کے مشیر خزانہ عوام سے بار بار قربانی کی اپیل کررہے ہیں مگر ایوان وزیر اعظم اور ایوان صدر کے بجٹ میں کتنی کٹوتی کی گئی ہے ، اس پر مکمل خاموشی ہے۔ اسی طرح عمران خان اور ان کی معاشی ٹیم بار بار ایک ہی قوالی گارہی ہے کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے مگر اربوں روپے کی جائیداد رکھنے والے عمران خان خود کتنا انکم ٹیکس دیتے ہیں ، یہاں پر تحریک انصاف کی پوری ٹیم کو سکتہ ہوجاتا ہے۔ ایک غریب آدمی تو ہر لمحے ہی ٹیکس دیتا رہتا ہے۔ بجلی ، گیس ، اشیائے خور و نوش ، ادویہ ، اسپتال کے بل، ریلوے کے کرایے ، تعلیمی اداروں کی فیس ہر چیز میں ٹیکس دیتا ہے۔ وزیر اعظم تو مفت کی بجلی استعمال کرتے ہیں ، ایوان وزیر اعظم سے بنی گالہ جانے کیلئے عوام کے ٹیکسوں کی آمدنی سے ہیلی کاپٹر میں سفر کرتے ہیں اور اربوں روپے کی جائیداد رکھتے ہوئے ، شاہانہ طرز زندگی گزارتے ہوئے چند لاکھ روپے کا بھی انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے ہیں۔ عمران خان اور ان کی معاشی ٹیم قوم کو کیوں آگاہ نہیں کرتی کہ محض روپے کی بے قدری کے ایک فیصلے ہی نے ملک کی معیشت کو تلپٹ کرکے رکھ دیا ہے۔ بہتر ہوگا کہ عمران خان گزشتہ حکومتوں کا رونا رونے کے بجائے اپنی ایک برس کی کارکردگی کی بات کریں۔ گزشتہ ادوار میں اگر پاکستان کو لوٹا گیا ہے تو اس لوٹی گئی رقم کو واپس لانے کیلئے عمران خان اور ان کی ٹیم نے اب تک کون سا تیر مارا ہے۔ عمران خان کو یہ تسلیم کرلینا چاہیے کہ ان کی حکومت پاکستان کے تاریخ کی ناکام ترین حکومت ہے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •