Voice of Asia News

کرکٹ ورلڈکپ ،پاکستان میں اربوں روپے کا سٹہ کھیلا جا رہا ہے رپورٹ: محمد قیصر چوہان

 

گوروں کے دیس میں جاری کرکٹ ورلڈ کپ 2019کے میچوں پر پاکستان کے بڑے شہروں میں اربوں روپے کا جواء پولیس اور بااثر سیاسی شخصیات کی زیر سرپرستی کھیلا جا رہا ہے۔ کرکٹ بک چلانے کیلئے مختلف شہروں میں مختلف بولی لگائی گئی مافیا کی طرف سے بولی میں حصہ لینے والے بکر میکروں کی بک پر پولیس کا چھاپہ نہ پڑنے کی ضمانت بھی دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان میں جواء مافیا کی سرپرستی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) کے سابق عہدیدار اور بھارت کے انڈر ورلڈ ڈان اور انڈین کرکٹ بورڈ کے سابق عہدیدار کر رہے ہیں۔ جن کا رابطہ چند سابق پاکستانی ٹیسٹ کرکٹرز سے ہے۔ورلڈ کپ کے میچوں پر لگنے والے جوئے کی مانیٹرنگ انڈیا کے شہر ممبئی اور متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی اور جنوبی افریقہ کے معروف شہر جوہانسبرگ میں موجود انڈر ورلڈ ڈان کے کارندے کر رہے ہیں۔
گوروں کے دیس میں جاری کرکٹ ورلڈ کپ 2019 میں اب تک کھیلے گئے میچوں پر سب سے زیادہ سٹہ 16 جون کو پاکستان اور بھارت کے مابین ما نچسٹرمیں کھیلے گئے میچ پر لگا ، ،اس اہم ترین میچ میں صرف پاکستان اور بھارت میں37 اربروپے سے زائد کا سٹہ کھیلا گیا۔ اس میں سے نصف رقم کی بکنگ میچ سے پہلے ہوئی ۔دبئی میں موجود عالمی سٹہ مارکیٹ کے اہم ترین ذرائع کے مطابق 37 ارب کے سٹے میں سے 3 ارب کا سٹہ صرف ٹاس پر ہوا۔70 سے زائد فیصد سٹہ ٹاس جیتنے کی صورت میں پاکستان کی جانب سے پہلے بیٹنگ کرنے کے فیصلے پر لگایا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق عالمی کپ کے ہر میچ پر سٹہ کھیلا جا رہا ہے،پاک بھارت میچ کے بعد زیادہ سٹہ پاکستان اور میزبان ملک انگلینڈ کے مابین کھیلے گئے میچ پر لگا تھا جس کی مالیت 30 ارب روپے تھی۔اس میچ میں انگلینڈ کی ٹیم فیورٹ تھی ۔لیکن اسے پاکستان کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔بھارت اور آسٹریلیا کی ٹیموں کے مابین کھیلے گئے عالمی کپ کے اہم ترین میچ میں بھارت اور پاکستان میں 26 ارب روپے کا سٹہ کھیلا گیا تھا۔اس میچ میں آسٹریلیا فیورٹ تھی لیکن اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کی ٹیموں کے مابین کھیلے جانے والے میچ میں بنگلہ دیش ، پاکستا ن اور بھارت کے مختلف شہروں میں 13 ارب روپے سے زائد کا سٹہ کھیلا گیا۔اس میچ میں جزائر غرب الہند کی کالی آندھی فیورٹ تھی جس کوبنگلہ دیش کے ہاتھوں غیر متوقع شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔
ورلڈ کپ کے میچوں پر پاکستان کے مختلف شہروں میں سٹہ کراچی اور لاہور میں بیٹھے بدنام بکیز دبئی میں موجود سٹہ کی عالمی مارکیٹ سے وابستہ بھارتی بکیوں سے مل کر کرارہے ہیں۔ جبکہ دبئی میں بیٹھے بھارتی بکیوں کا رابطہ ممبئی اور جوہانسبر گ کے عالمی سٹہ بازار سے ہے۔پاک بھارت کشیدگی پر دونوں ممالک کے تعلقات بری طرح متاثر ہوئے۔ تاہم اس کشیدگی کے باوجود پاک بھارت بکیوں کا گٹھ جوڑ عروج پر ہے۔ جس پر تبصرہ کرتے ہوئے لاہور کے ایک بکی کا کہنا تھا ’’جس طرح فنکاروں کی کوئی جغرافیائی سرحد نہیں ہوتی۔ اسی طرح مافیا اور بکیوں کی بھی جغرافیائی سرحدیں نہیں ہوتیں۔ ان کو صرف پیسے سے مطلب ہوتا ہے‘‘۔
سٹہ کی عالمی مارکیٹ کے وابستہ ایک بکی کے مطابق بھارت کے رمیش لال،قادر بھائی بمبئی والے ،انو کمار،راجیش،راجن چندی گڑھ والا دبئی میں ’’را‘‘کی سر پرستی میں چلنے والے جوئے کے دھندے کو لیڈ کر رہے ہیں جبکہ کراچی اورلاہور کے بڑے بک میکرز بھارتی بک میکرز کیساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق پاکستان میں جوئے کی سب سے بڑی بُک پرویز خا ن اوریاسر بروسٹ کے مالک حاجی ناصرچلاتے ہیں۔ ان کے مکھن پورہ کے علاقے سے تعلق رکھنے والے قیصر گجر ،سمن آباد کے رہائشی حاجی یعقوب اور بازار حسن سے تعلق رکھنے والے سہیل میڈیکل اسٹور والا ،کا شمار لاہور کے بڑے بک میکروں میں ہوتا ہے۔ عالمی سٹہ بازار کے ذرائع کے مطابق اس وقت پاکستانی بکی چوہدری شمشاد دبئی میں بدنام بھارتی بکی لعل چند کے ساتھ مل کر ورلڈ کپ کے میچوں پر سٹہ کرارہا ہے۔ چوہدری شمشاد لاہور کے علاقے موہنی کا رہائشی ہے۔ چوہدری شمشاد ایک قتل میں ملوث ہے۔ اس قتل کے بعد وہ دبئی فرار ہوگیا تھا اور پھر واپس نہیں آیا۔ بعد ازاں چوہدری شمشاد نے لعل چند سے تعلقات استوار کرلئے اور اس کے پارٹنر کے طور پر دبئی سے بیٹھ کر متعدد بڑی بکیں چلانے لگا۔ ان میں پچاس کروڑ سے لے کر ایک ارب روپے تک گنجائش رکھنے والی بکیں شامل ہیں۔ اور ان بکوں پر جوا کرانے کا دائرہ بھارت ، پاکستان ، بنگلہ دیش ، سری لنکا ، افغانستان ، جنوبی افریقہ سے لے کر آسٹریلیا تک پھیلا ہوا ہے۔ان دونوں کے ریکٹ میں ایک درجن سے زائد پاکستانی ، بھارتی ،بنگالی اور افغانی ایجنٹ بھی شامل ہیں۔ دبئی میں قائم لعل چند اور چوہدری شمشاد کا نیٹ ورک انڈین پریمیئر لیگ، بنگلہ دیش پریمیئر لیگ ، پاکستان سپر لیگ ، آسٹریلوی بیگ بیش کے علاوہ مختلف ممالک میں ٹی ٹوئنٹی، ون ڈے اور ٹیسٹ میچز پر بھی سٹہ بک کرتا ہے۔ ذرائع کے مطابق عالمی سٹہ بازار میں یہ بات عام ہے کہ لعل چند بدنام بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کے پے رول پر ہے۔ لعل چند ، شمشاد ریکٹ کی بڑی فرنچائز کراچی اور لاہور میں بھی ہیں۔ پاکستان میں اس نیٹ ورک کے رابطے بدنام بکیوں پرویز خان اور حاجی ناصر کے ساتھ ہیں۔
پاکستان میں سب سے زیادہ سٹہ صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں کھیلاجا رہا ہے ۔بعض ناگزیر وجوہات کی بنیاد پرپاکستان میں جوئے کی سب سے بڑی مارکیٹ کراچی سے لاہور شفٹ ہو گئی ہے۔ کراچی ، حیدرآباد، فیصل آباد،اوکاڑہ ،دیپالپور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ملتان، راولپنڈی،جہلم ، گجرات،سرگودھا ،ایبٹ آباد ،مردان ،کوہاٹ ،اور پشاور میں کھیلا جا رہا ہے ان شہروں میں چھوٹی اور بڑی بکیں کھلی ہوئیں ہیں۔ جولندن ، ممبئی اور دبئی سے نکلنے والے ریٹ کو فالو کرتی ہیں جبکہ سکھر، بہاولپور، خانیوال، ساہیوال، بورے والا، وہاڑی، ڈی جی خان، بھکر، قصور، میانوالی، جھنگ، گجرات، جہلم، ایبٹ آباد، مانسہرہ، مردان وغیرہ میں چھوٹے بک میکرز اپنی مرضی سے ریٹ نکالتے ہیں۔ سٹے کے اس غیر قانونی کاروبار کو روکنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے حساس ادارے بھی ناکام ہو گئے ہیں۔ اس ناکامی کی وجہ بعض حلقوں میں انڈر ورلڈ مافیا، سیاستدان اور صنعتی شخصیات کی اثر اندازی ہے، جو اپنی بلیک منی کو ڈبل کرنے کیلئے بھارتی سٹہ مافیا سے مسلسل رابطوں میں ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کوارٹر فائنل مرحلہ شروع ہونے پر سٹے کا حجم 100 فیصد بڑھا دیا جائے گا۔ جس سے سٹے باز راتوں رات کروڑ پتی بن سکتے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق یاسر بروسٹ کے مالک حاجی ناصر، سمن آباد کے رہائشی حاجی یعقوب اور بٹی سٹی کے رہائشی سہیل کا شمار لاہور کے بڑے بک میکروں میں ہوتا ہے۔ حاجی ناصر اور حاجی یعقوب کے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم، معین خان، سلیم ملک، شاہدخان آفریدی سمیت دیگر کرکٹرزسے بھی ذاتی مراسم ہیں حاجی ناصر اور حاجی یعقوب کرکٹ میچوں کے علاوہ گھوڑا ریس پر بھی جوئے کی بک چلاتے ہیں۔ حاجی ناصر کا مین آفس گارڈن ٹاؤن کے علاقے میں ہے۔ جبکہ حاجی یعقوب سمن آباد میں خضراء مسجد کے قریب ایک چھوٹا سا جنرل اسٹور چلاتے تھے ان کے بھائی جو خالو کی عرفیت سے مشہور تھے وہ جوئے کے لین دین کے تنازعہ میں قتل ہو چکے ہیں۔ حاجی یعقوب جو ماضی میں سمن آباد خضراء مسجد کے ساتھ ایک چھوٹا سا جنرل اسٹور چلاتا تھا۔ آج جوئے کی کمائی کی وجہ سے کروڑ پتی بن چکا ہے۔ ان کے سابق ٹیسٹ کرکٹرز کے علاوہ سیاسی شخصیات اور پولیس کے اعلیٰ آفیسرز سے ذاتی مراسم ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ حاجی ناصر ، حاجی یعقوب اور سہیل ہر پانچ اوورز کے اختتام پر فیگر بک کرتے ہیں اوورلڈ کپ کے میچ پر 19 مرتبہ فیگر بک کیا جاتا ہے۔ پانچ اوورز کے اختتام پر کلی اور جوٹا کے نام سے بھی فیگر بک کر کے جواء کھیلا جاتا ہے۔ آؤٹ ہونے پر، چوکے اور چھکے لگے گا یانہیں؟ اس پر بھی جواء لگتا ہے۔
با خبر ذرائع نے اُمت کو بتایا کہ میچ پر جواء لگانے کیلئے بھاؤ برطانیہ کی مشہور بک بیٹ فیئر سے لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد لاہور کے معروف بک میکر ایوب ٹیسٹ ورک دیتا ہے اس کی پٹی بھی چلتی ہے اور لاہور کے تمام بک میکرز اس کے اکاؤنٹ میں ماہوار 10ہزار روپے جمع کراتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان نامور بک میکروں کے ممبئی، دبئی اور جوہانسبرگ میں غیر قانونی جوئے کی بکیں چلانے والے انڈر ورلڈ ڈاؤن مافیا کے لوگوں سے رابطے ہیں اور یہ بک میکرز جوئے کی رقم ان مافیا کے لوگوں کو ہنڈی کے ذریعے بھجواتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق لاہور شہر میں تقریباً سات ہزار کے قریب افراد جوئے کے دھندے میں ملوث ہیں۔ چھوٹے بک میکرز کے کارندے پانچ سو روپے کا جواء بھی بک کر لیتے ہیں اور پھر ان چھوٹی چھوٹی رقم کو اکٹھا کر کے کسی بڑے بک میکر کے پاس جواء لگا دیتے ہیں۔ ان چھوٹے بک میکرز کے کارندوں کو 7 فیصد کمیشن ملتی ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب کے ایک وزیر کے بھائی نیا مزنگ کے علاقے رسول پارک میں کارپوریشن والی ڈسپنسری کے ساتھ اپنے ڈیرے پر کرکٹ، گھوڑا ریس اور کبوتروں پر جوئے کی بک چلاتے ہیں۔ مزنگ، اچھرہ اور سمن آباد کے علاقے میں لیاقت اور مجاہد نامی افراد اس کے کارندوں کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ڈیفنس سے ملحقہ علاقے سپر ٹاؤن میں واحد بٹ نامی شخص بک چلاتے ہیں۔ ملک اکبر نامی شخص ان کی معاونت کرتے ہیں۔
شمالی لاہور کے معروف علاقے شاد باغ میں خورشید بھیاء اور سندھو بک چلاتے ہیں جبکہ شاد باغ کی اسکیم نمبر 2 میں مسلم لیگ (ن) اسکیم نمبر 2 کے صدر او مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے چوہدری شہباز کے منظور نظر چوہدری لطیف پہلوان بک چلاتے ہیں۔ مصری شاہ میں حاجی ایوب جن کا انتقال ہو چکا ہے ان کا بیٹا اب بک چلا رہا ہے۔ سنگھ پورہ کے علاقے میں انور عرف انو نے جوئے کی بُک کھول رکھی ہے۔اس کو علاقے کی پولیس کی بھر پور سپورٹ حاصل ہے ۔مصری شاہ میں ہی عبدالرزاق عرف جاکا پہلوان اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ بک چلاتے ہیں۔ بادامی باغ کے علاقے میں معروف بدمعاش پیشے خان جو قتل ہو چکا ہے کا بیٹا لالاسوہنی بک چلاتا ہے۔ باغبانپورہ کے علاقے میں علاقے میں طاہر عرف چیئرمین ،عامر ،اور میاں شان کرکٹ میچوں پر جوا کرواتے ہیں۔ علامہ اقبال ٹاؤن کے کریم بلاک میں محبوب احمد نامی شخص بک چلاتا ہے۔ اس شخص کا گاڑیوں کا شوروم بھی ہے۔ مصری شاہ میں اقبال عرف بالا بُک چلا رہا ہے۔طارق لکڑ، مقصود سودا ،مسلم لیگ (ن) کے رہنما شفیق چوہدری بھی جوئے کی بۃک چلا رہے ہیں ۔شادباغ کے علاقے میں الیاس، رضا بٹ اور عاطف چھوٹی بکیں چلاتے ہیں۔اقبال ٹاؤن کی مشہور مون مارکیٹ میں راحیل شاہ جوئے کی بُک چلاتا ہے ۔شاہدرہ میں اویس ، دادتا دربار کے مجاور وکی نے بھی جوئے کی بُک کھول رکھی ہے۔اندرون شہر کے معروف علاقے سید مٹھا بازار میں جاوید عرف جیدی ،رام گلی میں افضال عرف لاڈا گجر ،گوالمنڈی میں سہیل بٹ جوئے کی بُک چلا رہے ہیں۔سبزہ زار کے علاقے میں دانیال عرف دانی اور خاقان عرف گوگا جوئے کی بُک چلاتے ہیں۔لاہور کے معروف بازارحسن میں ببلی نامی طوائف بھی بُک چلاتی ہے اس کے علاوہ ہیرا منڈی کی مشہور ٹبی گلی کی کئی طوائفیں بھی چھوٹی بُک چلاتی ہیں۔ذرائع کے مطابق لاہور میں سب سے زیادہ جواء پاکستان اور بھارت کے میچ پر لگتا ہے اس کے بعد جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے میچ پر جواء لگتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ برطانوی سر زمین پرجاری ورلڈ کپ کے میچز پر جوا کرانے کیلئے ہمیشہ کی طرح کراچی کے نواحی اور پوش علاقوں میں بکیوں نے سیٹ اپ لگارکھا ہے۔ نیوکراچی ، گھاس منڈی ، بغدادی ، عزیز آباد، ڈیفنس ، کلفٹن ، لانڈھی ، پی آئی بی کالونی ، میٹھادر ، لیاقت آباد ، بولٹن مارکیٹ ، لائنز ایریا ، گرومندر ، اختر کالونی ، کورنگی ، کیماڑی ، شیر شاہ ، لیاری ، بلدیہ ٹاؤن ، بفرزون ، محکمہ موسمیات کے عقبی علاقوں اور گلشن اقبال میں بکیوں نے مختلف فلیٹوں اور بنگلوں میں بڑا سیٹ اپ لگایا ہے۔ ان بکیوں کو متعلقہ پولیس اور بعض سیاسی شخصیات کی سرپرستی حاصل ہے۔ کراچی کے کالز سینٹرزاور مختلف منی ایکسچینج سٹے کے کاروبار کو کراچی میں طول دے رہے ہیں۔ بعض ذرائع سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ کراچی میں موجود سٹے کے تقریباً 115 جبکہ ملک بھر میں 5ہزار سے زائد غیر قانونی طریقے سے دبئی اور بھارت میں رقم پہنچائی جا رہی ہے۔ بک میکرز کی منظم نیٹ ورکنگ کا اصل مرکز بھارتی شہر ممبئی ہے جہاں کے بڑے سٹے باز کراچی اور لاہور میں فعال بک میکرز سے مسلسل رابطوں میں ہیں جو سٹے کے اتار چڑھاؤ کے حوالے سے کراچی میں موجود مختلف اداروں کو اطلاعات فراہم کرتے ہیں۔کراچی کے علاقے گھاس منڈی، بغدادی، عزیز آباد، ڈیفنس، لانڈھی، پی آئی بی کالونی اور گلشن اقبال جوئے کے سب سے بڑے مراکز بن کر سامنے آئے ہیں جہاں ورلڈ کپ کے میچوں پر اربوں روپے کا جواء کھیلا جارہا ہے۔
ورلڈ کپ میچز پر پاکستان میں لاہور کے بعد زیاد ہ جواء کراچی شہر میں کھیلا جا رہا ہے کراچی شہر میں جوئے کے اڈوں کو ایم کیو ایم اور پولیس کی سرپرستی حاصل ہے کئی علاقوں میں بکیوں کو پیپلز پارٹی کے ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ سیاسی حمایت کی وجہ سے پولیس جوئے کے ان اڈوں کا رخ نہیں کرتی۔ ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ بکیں کراچی میں چل رہی ہیں۔ کراچی کے مشہور علاقے کلفٹن، گلشن اقبال، میٹھا در، لیاقت آباد، عزیز آباد، بولٹن مارکیٹ، ڈیفنس سمیت شہر بھر میں بڑی بکیں چل رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سلاوٹ محلہ اور لکھ پتی ہوٹل کے قریب ان بکیوں نے فلیٹ کرائے پرحاصل کر کے وہاں پر سسٹم لگائے ہیں جہاں پولیس کی سرپرستی میں کرکٹ کی بکیں چل رہی ہیں۔ مذکورہ بکیوں کو پولیس افسران کی سرپرستی ہونے کی وجہ سے علاقہ تھانہ بکیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ان کی سرپرستی کر رہا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ میٹھا در میں اقبال میمن بھائی اور پٹنی بھائی کی بکیں چل رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جواریوں کی جانب سے پولیس کے بیٹر کو شکایت کی گئی ہے کہ جن علاقوں میں بکیں چل رہی ہیں وہاں پولیس کا گشت کم کرا دیں کیونکہ پولیس کو دیکھ کر بعض بکی اس جگہ نہیں آتے ہیں۔ ساؤتھ زون میں پولیس کے اعلیٰ افسران ساری معلومات رکھنے کے باوجود بکیں چلنے کے حوالے سے لا علمی ظاہر کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایسٹ زون میں ڈی آئی جی ایسٹ آفس کی موکل پر کرکٹ پر بکیں چل رہی ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ ٹی پی او گلشن اقبال آفس کی جانب سے اپنے انٹیلی جنس نیٹ ورک سے بکیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ بھی ٹی پی او گلشن اقبال کو کوئی ٹھوس معلومات فراہم نہیں کر سکے۔ نیوٹاؤن اور بہادر آبادمیں کرکٹ ورلڈ کپ پر جواء ہو رہا ہے اور ان بکیوں کی سرپرستی ایم کیو ایم کے لوگ کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بہادر آباد میں ان بکیوں نے ایک فلیٹ میں اپنا جدید کمپیوٹرائز سسٹم نصب کیا ہے جہاں پر بکیوں کی جانب سے جواء بک کیا جا رہا ہے۔شہر قائد میں بکیزنے دھورا جی کالونی، کارساز اور بیت المکرم مسجد کے عقب میں واقع مکانات اور فلیٹ حاصل کر رکھے ہیں۔ گلشن اقبال ٹاؤن میں کراچی کے ایک معروف بکی کے ایک درجن سب ایجنٹ ہیں جو موبائل فونز پر کام کر رہے ہیں۔ ایک ایجنٹ کے پاس 10 سے زائد نمبر ہیں اور وہ مختلف اسٹیٹ ایجنسیوں اور کارشو رومز میں بیٹھ کر جواء بک کراتے ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گلشن اقبال ٹاؤن میں نیو ٹاؤن، بہادر آباد اور مبینہ ٹاؤن بکیوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں جب کہ عزیز بھٹی میں لیاری گینگ وار کے بلوچ کے کارندے ورلڈ کپ میچوں پر جواء بک کرتے ہیں۔ساؤتھ زون میں سول ہسپتال کے عقب میں وسیم عرف سول بھی بک چلا رہا ہے، جبکہ جمشید کوارٹر کے علاقے میں زبیر میمن کی چار بکیں چل رہی ہیں جن کو ساؤتھ زون پولیس کی سرپرستی حاصل ہے۔ ذرائع کے مطابق اعلیٰ سیاسی شخصیات کی سرپرستی میں سٹی ٹاؤن اور کلفٹن ٹاؤن میں کرکٹ بکیں بڑی گرم جوشی کے ساتھ کرکٹ میچز پر جواء کھیلا رہی ہیں۔ اسی طرح لانڈھی ٹاؤن میں بھی کرکٹ پر بڑے پیمانے پر جواء ہو رہا ہے۔
پچھلی ایک دہائی سے سٹے کی عالمی مارکیٹ سے جڑے ایک بکی کے بقول کراچی سٹہ بازار میں سب سے بڑا نام جاوید یو بی ایل والے کا ہے جس کے نیٹ ورک کے رابطے ممبئی ، دہلی (بھارت) جوہانسبرگ (جنوبی افریقہ) اور کولمبو (سری لنکا) سے لے کر دبئی کے بڑے بکیوں کے ساتھ ہیں۔ کراچی کے تمام بکیوں میں جاوید یوبی ایل کو ’’استاد‘‘ کا درجہ حاصل ہے۔اسی طرح لاہور میں جوئے کی سب سے بڑی بک پرویز خان اور حاجی ناصر چلارہے ہیں۔ اس میں تیسرا بڑا نام حاجی یعقوب کا ہے جو گھڑ ریس پر بھی جوئے کی بک چلاتا ہے۔ حاجی ناصر کا مرکزی آفس گارڈن ٹاؤن کے علاقے میں ہے جبکہ حاجی یعقوب نے سمن آباد میں اپنا سیٹ اپ لگارکھا ہے۔ یہ دونوں ورلڈ کپ کے میچوں پر بڑی بکیں چلارہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق لاہور کے بکیوں کے دبئی میں بیٹھے لعل چند کے علاوہ دیگر بدنام بھارتی بکیز رمیش لعل ، قادر بھائی بمبئی والے ، انوکمار، راجیش اور راجن چندی گڑھ والا سمیت برطانیہ کے بدنام بکی جونسن، جنوبی افریقہ کے بھارتی نڑاد بکی رائے سنگھ ، بنگلہ دیش کے ٹاپ بکی دلاور حسین اور سری لنکا کے بکی دھرمانے کے ساتھ بھی رابطے ہیں۔ لاہور میں سٹے کے نیٹ ورک پر گہری نظر رکھنے والے ایک سابق ٹیسٹ کرکٹر کے بقول کرکٹ پر سٹے کی بڑی بکوں کے علاوہ شہر کے گلی کوچوں میں چھوٹے پیمانے پر جوا کرانے والے بکیوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ یہ چھوٹے بڑے بکی سات ہزار کے قریب ہیں۔ چھوٹے جواری بیٹ فیئر کے بجائے اپنا الگ بھاؤ کھولتے ہیں اور پانچ سو سے لے کر پچاس ہزار روپے تک کا جوا بک کرتے ہیں۔ ان کے پاس آنے والے جواریوں میں زیادہ تر دیہاڑی دار اور لوئر مڈل کلاس کے لوگ ہیں۔ عموماً چھوٹے بکیز رقوم کو اکٹھا کرکے کسی بڑے بک میکر کے پاس پیسہ لگادیتے ہیں۔
برطانوی ویب سائٹ کے مطابق بک میکرز کے پاس موجود بکس کی مخصوص گنجائش ہوتی ہے جس کے پورا ہوجانے پر اپنے سے اوپر والے بکس سے رابطہ کیا جاتا ہے۔ سابقہ رقم دے کر نئی بک حاصل کر لی جاتی ہے۔ مذکورہ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی میں جوئے کیلئے استعمال ہونے والی بکس کی مالیت ایک لاکھ روپے سے 10ارب روپے تک کی ہوتی ہے۔ جس کے مطابق بکی اپنے گاہک کو ایک لاکھ روپے سے زائد کا جواء نہیں کھلا سکتا۔ اگر گاہک بڑھ جائیں تو ایسی صورت میں چھوٹا بکی اپنے سے بڑی بک والے سٹے باز سے رابطہ کرتا ہے۔ اربوں روپے مالیت تک کی بکیں مکمل ہوجانے یا اپنی حدوں کو چھو جانے پر بھارت میں موجود سٹے باوں سے رابطہ کیا جاتا ہے، جن کے پاس زیادہ مالیت کی بکس ہوتی ہے۔ سٹے بازی کے لیے استعمال ہونے والی بکس کے نمبر عموماً گیمبلرز اپنے موبائل یا لینڈ لائن نمبرز کے مطابق رکھتے ہیں۔ سٹہ کھیلنے کا کوئی بھی خواہشمند نمبروں پر رابطہ کر کے سٹے باز کے کسی قریبی فرد کا حوالہ دیتا اور رقم داؤ پر لگاتا ہے۔ لاہور کے سٹے بازوں سے وابستہ ایک ذرائع کے مطابق بکیز جوئے کے عمل کو فینسی، لانگ اور جیت کا نام دیتے ہیں۔ فینسی نامی سٹہ ان لوگوں کے جوئے کو کہاجاتا ہے جو ہر پانچ اوور کے اختتام پر چوکے، چھکے اور آؤٹ ہونے یا نہ ہونے پر رقم لگانے والوں کیلئے ہوتا ہے۔ کرکٹ مقابلے کے آغاز پر بکیز میچ میں شریک ہر دو ٹیموں کے لیے الگ الگ مقدار مقرر کر کے جواء کھیلنے کے خواہشمندوں کو ٹیم اور نمبر چننے کا کہتے ہیں۔ ’’80،90 کا بھاؤ ہے، کھالو یا لگالو‘‘ قسم کے جملے اس دوران کوڈ ورڈ کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مقابلہ برابر ہونے کی صورت میں تمام داؤ ملتوی کر دیئے جاتے ہیں جس سے کسی کو کوئی رقم نہیں ملتی۔ ذرائع کے مطابق مقابلے میں شریک دونوں ٹیموں کے مضبوط ہونے کی صورت میں داؤ پر لگائی جانے والی رقمیں مختصر لیکن ایک ٹیم کے کمزور، دوسرے کے طاقتور ہونے کی صورت داؤ کی رقم زیادہ ہوتی ہے۔
پاکستان میں 12ہزار سے زائد بکیز نے کرکٹ ورلڈ کپ کے میچوں پر لگنے والے سٹہ کی خطیر رقم کرغیر قانونی طریقے سے بھارت، دبئی اور جوہانسبرگ منتقل کی جاتی ہے۔امت کو دستیاب اطلاعات کے مطابق ملک میں 23مختلف مقامات پر 12بکیز یا ہینڈلرز اس کاروبار کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کراچی اور لاہور میں واقع قائم ایکسچینج کمپنی ایسے بینک کے طور پر کام کررہی ہے جو پاکستان میں جوئے کی مد میں جمع ہونے والی رقم کو ممبئی ،دبئی اور جو ہانسبرگ منتقل کرتی ہے۔ ایکسچینج کمپنی ہونے کے باوجود یہاں عام فرد کیلئے غیرملکی کرنسیوں کا تبادلہ نہیں کیا جاتا۔ کراچی شہر میں صنعتی و کاروباری دفاتر اور بینکوں و میڈیا آرگنائزیشنز کے صدر دفاتر سمیت ایشیا کی نمایاں ترین اسٹاک ایکسچینجز میں سے ایک کراچی اسٹاک ایکسچینج کے قریب قائم کئے جانے والے غیر قانونی ’’بینک‘‘ کے مالکان شہر کے دیگر بکیز خصوصاً مالدار اشرافیہ میں نمایاں ترین حیثیت رکھتے ہیں۔ شاید یہی سبب ہے کہ کچھ ’’معلوم‘‘ ہونے کے باوجود ’’نامعلوم‘‘ کر دیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق جوئے میں استعمال ہونے والی بکس کے مکمل ہوجانے پر رقم کو ممبئی،دبئی اور جوہانسبرگ میں سے کسی بھی شہر میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کیلئے سنگین خطرہ بن جانے والی گیمبلنگ انڈسٹری اپنا حجم اتنا پھیلا چکی ہے کہ اینٹی کرپشن یونٹ اور ٹریبونل کی جانب سے 3پاکستانی کھلاڑیوں کو سزا سنا دیئے جانے کے باوجود کونسل اس پر قابو نہیں پا سکی ہے۔ گیمبلنگ انڈسٹری کا مرکز کہلانے والے شہردبئی میں تمام بکس کو جمع کر کے ہر قسم کی کرنسیوں میں ان کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت میں موجود جوئے کی بکس بھی اپنی گنجائش سے بڑھ جانے کے بعد دبئی منتقل کر دی جاتی ہیں۔ کاروبار کے مستقبل کے حوالے سے پیشگوئی کرتے ہوئے ذرائع کے مطابق ایک درست فیصلے سے ارب پتی بنا دینے اور ایک غلطی سے سب کچھ سے محروم کر دینے والا یہ کاروبار تیزی سے نتائج پیدا کرنے کے سبب مستقبل میں بھی فروغ پائے گا۔پاکستان میں جو اریوں نے اپنا ’’ورلڈکپ‘‘ شروع کر رکھا ہے۔ جس میں چند سابق کھلاڑی اور ان کے رشتے داروں سمیت چند موجود کھلاڑیوں کے عزیز بھی شریک ہیں۔ یہ گٹھ جوڑ سرکاری حکام کو صرف کراچی سے اربوں روپے کی ’’آمدن‘‘ مہیا کررہا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ رقوم کی غیر قانونی منتقلی میں ملوث منی ایکسچینج کمپنی کے علاوہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں متعدد خفیہ ٹھکانوں سے جوا ء کھیلا اور کھلایا جاتا ہے۔ جبکہ کراچی کے پوش علاقوں کے قریب بکیز نے متعدد فلیٹس اور گھر کرائے پر لے رکھے ہیں جہاں وہ اپنی پردہ پوشی کیلئے معمول کے کرائے دس ہزار روپے کے بجائے 20ہزار روپے کرایہ دے کر کاروبار کرتے ہیں۔ برطانوی ویب سائٹ کے مطابق بک میکرز کے پاس موجود بکس کی مخصوص گنجائش ہوتی ہے جس کے پورا ہوجانے پر اپنے سے اوپر والے بکس سے رابطہ کیا جاتا ہے۔ سابقہ رقم دے کر نئی بک حاصل کر لی جاتی ہے۔ مذکورہ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی میں جوئے کیلئے استعمال ہونے والی بکس کی مالیت ایک لاکھ روپے سے 15ارب روپے تک کی ہوتی ہے۔ جس کے مطابق بکی اپنے گاہک کو ایک لاکھ روپے سے زائد کا جواء نہیں کھلا سکتا۔ اگر گاہک بڑھ جائیں تو ایسی صورت میں چھوٹا بکی اپنے سے بڑی بک والے سٹے باز سے رابطہ کرتا ہے۔ اربوں روپے مالیت تک کی بکیں مکمل ہوجانے یا اپنی حدوں کو چھو جانے پر بھارت میں موجود سٹے باوں سے رابطہ کیا جاتا ہے، جن کے پاس زیادہ مالیت کی بکس ہوتی ہے۔ سٹے بازی کیلئے استعمال ہونے والی بکس کے نمبر عموماً گیمبلرز اپنے موبائل یا لینڈ لائن نمبرز کے مطابق رکھتے ہیں۔ سٹہ کھیلنے کا کوئی بھی خواہشمند نمبروں پر رابطہ کر کے سٹے باز کے کسی قریبی فرد کا حوالہ دیتا اور رقم داؤ پر لگاتا ہے۔
لاہور کے سٹے بازوں سے وابستہ ایک ذرائع کے مطابق بکیز جوئے کے عمل کو فینسی، لانگ اور جیت کا نام دیتے ہیں۔ فینسی نامی سٹہ ان لوگوں کے جوئے کو کہاجاتا ہے جو ہر پانچ اوور کے اختتام پر چوکے، چھکے اور آؤٹ ہونے یا نہ ہونے پر رقم لگانے والوں کیلئے ہوتا ہے۔ کرکٹ مقابلے کے آغاز پر بکیز میچ میں شریک ہر دو ٹیموں کے لیے الگ الگ مقدار مقرر کر کے جواء کھیلنے کے خواہشمندوں کو ٹیم اور نمبر چننے کا کہتے ہیں۔ ’’85،80 کا بھاؤ ہے، کھالو یا لگالو‘‘ قسم کے جملے اس دوران کوڈ ورڈ کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مقابلہ برابر ہونے کی صورت میں تمام داؤ ملتوی کر دیئے جاتے ہیں جس سے کسی کو کوئی رقم نہیں ملتی۔ ذرائع کے مطابق مقابلے میں شریک دونوں ٹیموں کے مضبوط ہونے کی صورت میں داؤ پر لگائی جانے والی رقمیں مختصر لیکن ایک ٹیم کے کمزور، دوسرے کے طاقتور ہونے کی صورت داؤ کی رقم زیادہ ہوتی ہے۔ سٹے بازوں سے وابستہ ذرائع کے مطابق عالمی کپ کے سمیئی فائنل مرحلہ شروع ہونے پر توقع ہے کہ سٹہ کی رقم پانچ کھرب روپے سے زائد ہو جائے گی۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •