Voice of Asia News

پنجاب کا تعلیمی بجٹ:سیف اعوان

 
پنجاب حکومت تعلیم کیلئے سالانہ اربوں روپے کا بجٹ مختص کرتی ہے ۔لیکن اس کے باوجود پنجاب میں شرح خواندگی انتہائی کم ہے ۔والدین اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کرانے کی بجائے پرائیویٹ سکولوں میں داخل کراتے ہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ پنجاب کے سرکاری سکولوں میں تعلیمی نظام بہتر نہ ہونا ہے ۔پنجاب کے بڑے شہروں میں ہائی کوالیفائی اساتذہ ٹیچرز ہیں لیکن جنوبی پنجاب سمیت دیگر پسماندہ اور چھوٹے شہروں میں آج بھی میٹرک اور ایف اے پاس اساتذہ ڈیوٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔اس کے علاوہ پنجاب کے بیشتر شہروں کے سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ان میں سب سے بڑا مسئلے سکولوں کے چاردیواری ،پینے کا صاف پانی،فرنیچر کی کمی ،اساتذہ کی کمی سمیت کئی مسائل درپیش ہیں۔جبکہ اس کے مقابل پرائیویٹ سکولوں میں ہر طرح کی بہترین سہولیات میسر ہوتی ہیں۔سرکاری سکولوں میں فیس بھی نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ دوسری جانب پرائیویٹ سکولوں میں کم از کم ماہانہ فیس پانچ ہزار روپے ہے۔اس کے باوجود والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں داخل کراتے ہیں۔
پنجاب حکومت نے 2017-18میں تعلیم کیلئے 345بلین کا بجٹ مختص کیا جو بجٹ کا 17.5فیصد بنتا ہے ۔جبکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کا 2017-18میں دو لاکھ تیس ملین بجٹ رکھا۔جو 2016-17کی نسبت 28فیصد زائد بجٹ تھا۔گزشتہ پانچ سالوں میں تعلیم کا بجٹ دو لاکھ 82ہزارملین سے بڑھاکرتین لاکھ 45ہزار ملین تک پہنچ گیا۔جبکہ 2018-19میں پنجاب حکومت نے تعلیم کیلئے 373ارب کا بجٹ رکھا ۔پانچ سو ملین پرائمری سکولوں کیلئے ،50ملین ٹیکنیکل ٹریننگ اینڈ ایجوکیشن کیلئے رکھے گئے تھے۔ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مالی سال ختم ہونے میں 20دن باقی رہ گئے ہیں لیکن 3ارب 10کروڑ کے تعلیمی وظائف ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔پنجاب حکومت نے پھرتیاں دیکھاتے ہوئے مالی سال ختم ہونے سے پہلے ہی 3ارب 10کروڑ کے تعلیم وظائف کیلئے گرانٹ جاری کردی۔قبل ازوقت فیصلے سے کروڑوں کے تعلیمی فنڈز ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔مالی سال ختم ہو نے سے بیس دن قبل سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کو 3ارب 10کروڑ کے فنڈز جاری کیے گئے ۔دوسری جانب سرکاری سکولوں میں چھٹیاں ہیں اور حکومت نے وظائف کے فنڈز جاری کردیے ہیں۔اگر طالبات کو وظائف کے فنڈز نہ دیے گئے تو یکم جولائی کے بعد 3ارب 10کروڑ کی خطیر رقم ضائع ہو جائے گی جو بعدازراں شرینی کی طرح بانٹ لی جائے گی۔لاہور سمیت پنجاب کے ہزاروں طلبا کو حکومت کی جانب سے وطیٖہ دیا جانا تھا ،وظائف کیلئے اہل زیادہ تر طالبات کا تعلق بھی بھی جنوبی پنجاب سے ہے۔جنوبی پنجاب سے حکومت میں بیٹھے ایسے کئی بڑے لوگ شامل ہیں ان کو چاہیے کہ وہ ان وظائف کو مالی سال ختم ہونے سے پہلے اپنے اپنے اضلاع میں تقسیم کرائیں تاکہ مستحق طلبہ و طالبات کو ان کا حق مل سکے۔
موجودہ حکومت نے تعلیم کیلئے 383ارب کی ریکارڈ بجٹ رکھا ہے۔محکمہ ہائیر ایجوکیشن کا بجٹ 50 ارب سے بڑھا کر 73 ارب کر دیا گیا۔سکولز ایجوکیشن کیلئے 32ارب کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ پی ایچ ای سی کیلئے 10 کروڑ، پیف سکالر شپ کیلئے 30 کروڑ اور صوبے میں چار نئی یونیورسٹیاں قائم کرنے کے لیے بجٹ مختص کیا ہے۔ حکومت نے لاہور نالج پارک کے منصوبے کی چھٹی کرا دی۔ بجٹ دستاویز کے مطابق 10 سرکاری کالجوں میں بی ایس آنرز بلاکس کی تعمیر کے لیے 19 کروڑ 45 لاکھ روپے، پنجاب میں 63 نئے ڈگری کالجزکا قیام جب کہ سرکاری کالجوں کو کیمونٹی کالجز میں تبدیل کرکے دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری شروع کرنے کیلئے 9 کروڑ 67 لاکھ روپے، چار نئی یونیورسٹیز کی تعمیر اور سب کیمپسز کے قیام کے لیے ایک ارب 35 کروڑ 50 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔
محکمہ لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن کا بجٹ ایک ارب 80 کروڑ سے بڑھا کر 2 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیا گیا ہے۔ چار سے سولہ سال تک کے بچوں کی نان فارمل پرائمری ایجوکیشن کیلئے 75 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ سپیشل ایجوکیشن کے لیے آئندہ مالی سال کے لیے ایک ارب روپے اور سپیشل طلباء کو ٹرانسپورٹ کی سہولیات دینے کی مد میں 33 کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پنجاب میں تحصیل، ٹاؤن، ضلع کی سطح پر سپیشل ایجوکیشن سنٹرز بنائے جائیں گے۔
تعلیم کے شعبے پر کام کرنے والی غیر سیاسی تنظیم ’’آواز‘‘ کے چیف ایگزیکٹیو ضیاء الرحمن کا کہنا ہے کہ ہر سال شعبہ تعلیم کیلئے اربوں روپے کا بجٹ مختص کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود پنجاب میں تعلیم کا نظام بہتر نہیں ہو رہا ۔اس کی سب سے بڑی وجہ شعبہ تعلیم کیلئے مختص بجٹ کا بروقت اور درست استعمال نہ ہونا ہے۔پنجاب میں سب سے زیادہ بجے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔جبکہ سرکاری سکولوں کی حالت بھی خستہ حال ہے ۔جہاں تک بات جنوبی پنجاب کی ہے تو جنوبی پنجاب میں سرکاری سکولوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔یہاں بیشتر سکولوں کی چاردیواری تک نہیں ہے اور نہ ہی دیگر بنیادی سہولیات میسر ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا تعلق بھی جنوبی پنجاب سے ہے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو چاہیے کہ وہ جنوبی پنجاب میں تعلیم کی حالہ صورتحال پر خصوصی طور پر توجہ دیں ۔خصوصا بچیوں کی تعلیم کو فوکس کیا جائے۔امنگ کی کمپئین منیجر مریم امجد خان کے مطابق پنجاب کی سرکاری سکولوں میں سب سے بڑا مسئلہ لڑکی کی تعلیم کا ہے۔پنجاب میں ایک بڑی تعداد بچیوں کی بنیادی تعلیم سے محروم ہے۔لڑکیوں کی تعلیم کے بغیر ہم ترقیافتہ معاشرے کا تصور نہیں کر سکتے۔لڑکی پڑھی لکھی ہو گی تو ایک پڑھے لکھے معاشرے کو جنم دے گی۔پنجاب حکومت کو بچیوں کی تعلیم پر خصوصی طور پر توجہ دینی چاہیے۔

saifawan60@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •