Voice of Asia News

مرسی، فرعونِ وقت کے سامنے نہ جھک کر امر ہوگئے:محمد قیصر چوہان

فرعونِ وقت مصر کے فوجی سربراہ جنرل عبدالفتاح سیسی کے زنداں میں جدیدمصر کے واحد منتخب صدر محمد مرسی چھ برس قید تنہائی میں گزارنے کے بعد 17 جون کوعدالت میں سماعت کے دوران اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ہر ذی نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے مگر جس شان سے مرسی نے جان، جان آفرین کے سپرد کی اور جس طرح سے آمر سیسی کے حربوں کا دلیرانہ مقابلہ کیا ، اس نے ان کا قد پوری دنیا میں بلند کردیا ہے۔محمد مرسی فرعونِ وقت آمر سیسی کے سامنے نہ جھک کر تاریخ میں امر ہوگئے۔مرسی کے الفاظ رہتی دُنیا تک آمروں اور سامراجی طاقتوں کے خلاف اعلان حق کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔’’ہمارا مقصد حیات اﷲ ہے۔ ہمارے لیڈر محمدؐہیں۔ ہمارا آئین قرآن ہے۔ جہاد ہماراراستہ ہے۔اﷲ کی رضا کی خاطر جان دینا ہماری سب سے عزیز خواہش ہے‘‘۔مرسی ایک ایسا عظیم انسان تھاجس نے پوری زندگی اپنے دین، ملت اور قوم کیلئے وقف کی، تاہم اس کے ہم وطن مقتدر طبقے ہی نے اسے اسلام پسندی اور جمہوریت نوازی کے جرم میں سیاسی انتقام کی بھینٹ چڑھا دیا، اور مصر کی سیاہ تاریخ میں ایک اور باب کا اضافہ کردیا۔
محمد مرسی نے قاہرہ یونیورسٹی سے 1975 میں انجینئرنگ کی ڈگری لی اور پھر 1975سے 1976تک مصری فوج میں کیمیکل وارفیئر یونٹ میں خدمات انجام دیں۔اس کے بعد اپنی تعلیم کا سلسلہ پھر شروع کیا اور 1978میں میٹلرجکل انجنیئرنگ میں ایم ایس کیا۔ایم ایس کے بعد محمد مرسی نے سرکاری اسکالرشپ حاصل کی اور پی ایچ ڈی کرنے امریکا چلے گئے۔انہوں نے 1982 میں پی ایچ ڈی ڈگری حاصل کی۔محمد مرسی نے کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر 1982 سے 1985 تک پڑھایا۔مصر واپسی کے بعد وہ زقازیق یونیورسٹی کے شعبہ انجینئرنگ کے سربراہ مقرر ہوئے اور 2010تک پڑھاتے رہے۔محمد مرسی2005-2000 تک بطورآزاد اُمیدوار پارلیمنٹ کے رکن رہے۔ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کی شعلہ بیانی سراہی جاتی تھی۔
سال 2011 میں مصری عوام اس وقت کے آمر حکمراں حسنی مبارک کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ دارالحکومت قاہرہ کے تحریر اسکوائر سے شروع ہونے والے پولیس کے بہیمانہ تشدد، آمرانہ قوانین، انتخابی دھاندلی، سیاسی سنسرشپ، کرپشن، بے روزگاری، مہنگائی اور کم اجرت کے خلاف احتجاج کی یہ چنگاری دیکھتے ہی دیکھتے پورے مصر میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ لاکھوں کی تعداد میں مظاہرین نے حسنی مبارک کو صدارت کے منصب سے اتار نے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والے پر تشدد تصادم میں کم از کم 846 افراد جاں بحق اور 6000سے زائد زخمی ہوئے۔پچیس جنوری 2011کو شروع ہونے والے احتجاج کے ڈھائی ہفتے بعد 11فروری کو نائب صدر عمر سلیمان نے حسنی مبارک کے استعفے کا اعلان کیا اور اختیارات سپریم کونسل آف آرمڈ فورسز کے حوالے کردیے۔جس کے بعد کونسل نے 13فروری کو ملک میں آئین کی معطلی کا اعلان کیا، دونوں پارلیمان کو تحلیل کردیا گیااور بتایا گیا کہ فوج اقتدار چھ ماہ تک اپنے پاس رکھے گی(جب تک الیکشن نہیں ہوجاتے )۔ سابق کابینہ بشمول وزیر اعظم احمد شفیق کو نئی حکومت کے آنے تک نگراں قرار دیا گیا۔حسنی مبارک کے خلاف انقلاب اور سپریم کونسل کے اقتدار کے بعد اخوان المسلمون زبر دست کامیابی کے ساتھ اقتدار میں آئی اور جون 2012 کو محمد مرسی کو بطور صدر منتخب کیا۔محمد مرسی عیسی العیاط جدیدمصر کے عام انتخابات میں 52 فیصد کی اکثریت حاصل کرکے 30 جون 2012 کو مصر کے پہلے صدر منتخب کیے گئے تھے۔ ان کی دلیرانہ قیادت نے عالم اسلام کے دشمنوں کو مضطرب کردیا تھا۔محمد مرسی نے مصری قوانین کو اسلامی قوانین میں تبدیل کرنے کیلئے کام شروع کردیا تھا۔ اور وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ آیندہ کوئی آمر مصر کے عوام کے حق ھکمرانی پر شب خون نہ مارے۔ جس کیلئے انہوں نے بطور صدر اپنے اختیارات میں اضافہ بھی کرلیا تھا۔ یہ وہ فیصلے تھے جو محمد مرسی کے تختہ الٹنے کی بڑی وجہ بنے۔
فوجی اور سیکولر اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی پر 28جون 2013کو محمد مرسی کے خلاف احتجاج شروع ہوا۔جس کو بہانا بنا کراْس وقت مصری فوج کے سربراہ جنرل سیسی نے صدر مرسی کو مسائل حل کرنے کیلئے 48 گھنٹوں کا وقت دیا اور دھمکی دی کہ بصورت دیگر وہ کوئی اور رستہ اختیار کریں گے تاہم محمد مرسی نے اس ا لٹیمیٹم کورد کردیا۔اور فوج کی بات ماننے کے بجائے اپنی حکومت جانے کو ترجیح دی۔ 3جولائی 2013کو مصری فوج نے ان کے خلاف بغاوت کی اور ان کے وزیر دفاع جنرل عبدالفتاح السیسی نے اسرائیل اور دیگر اسلام دشمنوں کی حمایت سے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور مرسی سمیت اخوان المسلمون کے ہزاروں کارکنان کو پابند سلاسل کردیا۔ عقوبت خانوں میں اسیر کارکنان کے ساتھ ان کے قائد مرسی پر تشدد کے پہاڑ توڑ دیے گئے۔ اب تک اخوان کے 50 سے زاید نوجوانوں کو پھانسی دی جاچکی ہے جبکہ ہزاروں کارکنان اب بھی پابند سلاسل ہیں۔مرسی کو اقتدار سے محروم کرنے اور انہیں پابند سلاسل کرنے میں عرب ممالک کی اندرونی سیاست کا بھی بڑا دخل ہے۔ جن کو اپنے ملک میں اسلامی انقلاب کا خطرہ تھا۔
مرسی کی گرفتاری کے بعد دو ماہ تک معزول مصری صدر کو خفیہ جگہ رکھا گیا۔ اور پھر ستمبر 2013میں محمد مرسی پر الزام عائد کرکے مقدمہ بنایا گیا کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کو ایک صحافی اور دو اپوزیشن مظاہرین کو قتل کرنے کیلئے اکسایا۔ان الزامات کا تعلق دسمبر 2012میں صدارتی محل کے باہر اخوان المسلمون اور اپوزیشن مظاہرین کے درمیان ہونے والے تصادم سے ہے۔ نومبر 2013 میں محمد مرسی پر14مزید اخوان المسلمون شخصیات کے ساتھ مقدمہ شروع ہوا اور اپریل 2015 میں انہیں اور دیگر کو 20سال کی قید ہوئی۔محمد مرسی قتل کے مقدمے سے بری ہوئے لیکن مظاہرین کی گرفتاری اور تشدد کاحکم دینے کے مرتکب پائے گئے۔
محمد مرسی مسلم امہ کے درمیان اتحاد اور بہترین روابط کے داعی اور اسرائیل سمیت تمام سامراجی قوتوں کے خلاف شدید جذبات رکھتے تھے۔لیکن یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ اس وقت مسلمان ممالک بالخصوص عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ شیر و شکر ہیں اور اسرائیل کے مسلم دشمن معاملات میں خاموش رہ کر اس کی حمایت کررہے ہیں جبکہ بعض معاملات میں تو اسرائیل کا داہنا بازو بھی بنے ہوئے ہیں۔ جب مرسی برسراقتدار آئے تھے تو اس وقت کے آمر حسنی مبارک پر ملک میں لوٹ مار کے مقدمات چل رہے تھے۔ صرف برطانیہ میں ہی حسنی مبارک کے 70 ارب ڈالر مالیت کے اثاثو ں کا پتا چلا تھا۔ سیسی کے اقتدار سنبھالتے ہی محب وطن مرسی تو پابند سلاسل کردیے گئے اور ملک کا مجرم حسنی مبارک آزادی کے مزے لے رہا تھا۔ حیرت انگیز طور پر جمہوریت کی قوالی گانے والا یورپ اور امریکا آمر سیسی کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ ایک مجرم کو پھانسی دینے پر چراغ پا ہونے والا مغرب اخوان کے کارکنان کی پھانسی پر کہیں مدہوش پڑا ہے اور کہیں سے بھی سیسی کے خلاف کوئی آواز بلند نہیں ہوئی۔ حقوق انسانی کی تنظیموں نے کوئی واویلا کیا اور نہ ہی اقوام متحدہ نے کوئی سانس لی۔ اس کے بعد اس آمر کے خلاف احتجاج کرنے والوں رابعہ العدویہ پر ٹینک چڑھا دیے گئے۔اس سانحے میں چار ہزار لوگ شہید ہوئے تھے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب بات کسی اسلامی ملک میں اصلاح پسند کی ہو تو سب اس کے خلاف ہوجاتے ہیں۔ مرسی صرف مصر کے رہنما نہیں تھے بلکہ انہیں پورے عالم اسلام میں عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ مرسی کی شہادت پر پاکستان میں بھی اسی طرح لوگ افسردہ ہیں جس طرح مصر میں۔جس طرح سے مرسی کی تدفین کی گئی ہے ، وہی یہ بات بتانے کیلئے کافی ہے کہ شہید مرسی زندہ مرسی سے زیادہ طاقتور ہے۔ یہ مرسی کے اہلخانہ اور مصر ی عوام کا حق تھا کہ انہیں مرسی کی تدفین میں شرکت کی اجازت دی جاتی اور یوں رات کے اندھیرے میں خفیہ طور سے تدفین نہ کی جاتی۔ یقینا مرسی کا خون رائیگاں نہیں جائیگا اور مصر میں انقلاب آئے گا جو پورے عالم اسلام کو اپنی روشنی سے منور کرے گا۔ مرسی کی قید کے بعد سے ہی اس طرح کی اطلاعات سامنے آنا شروع ہوگئی تھیں کہ انہیں راستے سے ہٹانے کیلئے زہر دیا جاسکتا ہے۔ اس خدشے کا اظہار خود مرسی نے بھی کئی مرتبہ کیا۔ اب بھی یہی خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں کہ المرسی زہر کا شکار کیے گئے ہیں۔ مصر کے آمر سیسی سے تو کوئی امید نہیں ہے اس لیے سیسی سے کوئی مطالبہ کرنا حماقت ہی ہوگی البتہ ہم اقوام متحدہ اوردیگر عالمی اداروں اور تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مرسی کی موت کی تحقیقات کی جائے۔ مصر میں قید اخوان کے تمام کارکنان کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور آمر سیسی کو تخت سے اتار کر مرسی کے قتل اور اخوان کے کارکنان کو پھانسیاں دینے کے جرم میں سزا دی جائے۔ لیکن یہ ادارے سزا کیوں دیں گے یہ تو خود مجرم ہیں۔ایک منتخب صدر کو پنجرے میں عدالت میں لایا جاتا تھا۔محمد مرسی 17 جون 2019 کو جاسوسی کے مقدمے میں کمرہ عدالت موجود تھے جہاں وہ اچانک بے ہوش ہوگئے۔ جس کے بعد اْنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ راستے ہی میں دم توڑ گئے۔ان کی عمر 67 برس تھی۔صدر مرسی کی وفات نے مصر کے فوجی حکمران جنرل سیسی کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کردیا۔ فوج اور وزارتِ داخلہ نے ممکنہ ردعمل کے خوف سے ملک بھر میں ہائی الرٹ کردیا اور رات کے اندھیرے میں صدر مرسی کو مدینہ النصر کے قبرستان میں اخوان المسلمون کے مرحوم مرشدین کے پہلو میں دفن کردیا گیا۔اپنی ہی قوم کے مقتدر طبقے کا ظلم سہنے والے صدر محمد مرسی اب منوں مٹی تلے آرام کررہے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے اپنے دین کی سربلندی کیلئے بے قرار اس روح کو بالاآخر اپنے پاس بلا کر اس ڈَھلتے جسم کو قبر کی آغوش میں راحت بخش دی ہے۔ وہ ساری زندگی اسلام اور مسلمانوں کے عروج کا خواب دیکھتے رہے۔ انہوں نے اسی مقصد کیلئے جان دی۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •