Voice of Asia News

لائف دو نقطوں کا درمیانی فاصلہ خواجہ جمشید امام

زندگی وقت کے ایک خاص دورانیے کا نام ہے جو ایک مخصوص وقت پر شروع ہو کر ایک نامعلوم وقت پر ختم ہو جاتی ہے۔ پیدائش اور موت کے دو نقاط کے درمیان بسر کرنے والے وقت کا نام ہی زندگی ہے لیکن ان دونقطوں کے درمیان گزرنے والی قیامتیں کتنی ہیں اس کا ادراک ہی انسانی عقل سے باہر ہے۔ انسان جسم اور ایک نظر نہ آنے والی روح کے ملاپ کا نام ہے ممکن ہے میرے کامریڈ دوست اسے میری مذہب پسندی کہیں لیکن کوئی ہے جس سے خود کلامی کرتے ہیں جوہمارے ہر دکھ کا ساتھی اور ہمارے ہر سوال کا جواب ہمیں انتہائی دیانتداری سے دیتاہے۔ انسان داخلی دنیا کی مخلوق ہے لیکن اسے بسر خارجی دنیا میں کرنا پڑ گئی جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ خارجیت نے اسے روح کے رشتوں سے دور کرکے مادیت پرست دنیا کا سورما بنا دیا۔ اس مادیت پرستی میں وہ اتنی دور نکل گیا کہ چاہتے ہوئے بھی لوٹ کر اپنی داخلی دنیا کی طرف نہیں لوٹنا چاہتا جہاں احساس ٗ محبت ٗ انسانیت اوردرد کے نایاب رشتے اُس کے منتظر ہیں۔ہر وقت دوسرے سے ایک قدم آگے نکلنے کی دوڑ نے بہت سے انسانی رشتوں اور قدروں کو کہیں بہت دور چھوڑ دیا ہے۔بے رحمیت ٗمادیت پسندی کی دنیا کا سب سے کامیاب ہتھیار ہے آپ جتنے بے رحم ہوں گے یہ مادی دنیا آپ کو ترقی کے اتنے زینے فراہم کردے گی۔روح کو سیراب کرنے والے مناظر اور آوازیں یا تو ہم سننا نہیں چاہتے یا پھر ”ترقی“ کے شوق میں ہم اِن زندہ آوازوں کو نفع اور نقصان کے قبرستان میں دفن کردیتے ہیں۔مجھے اب اپنے سماج کو سماج لکھتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے کہ سماج میں تو ایک انسان دوسرے سے جڑا ہوتا ہے لیکن یہاں تو اپنے سے نچلے طبقات سے دوری یا اُس کے استحصال کو کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ہم لوگ انسان کہاں رہ گئے ہیں خواہشات کے ہمالہ ہیں جس کی ایک چوٹی کے بعد دوسری کو سر کرتے کرتے ایک دن اچانک دوسرا نقطہ واپسی کا اعلان کردیتا ہے اور سب کچھ دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے اگر کچھ باقی رہتا ہے تو آپ کا حسن سلوک یا انسانیت کیلئے کیا ہوا آپ کا وہ کام جس کو زندگی اور موت کے درمیانی نکات سے ماوراء تخلیق کیا گیا ہے۔زندگی کو موت ختم کردیتی ہے لیکن آپ کے اچھے الفاظ اور بہترین خدمات ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو جاتی ہیں اوریہ لوح محفوظ کسی نامعلوم مقام پر نہیں انسانوں کے دلوں میں محفوظ ہوتی ہے۔ ”لائف“ بظاہر ایک غیر روایتی سماجی تنظیم کا نام ہے جس میں صرف انسان ہوں گے وہ انسان جو زندگی کو قریب سے دیکھنے کے تمنائی ہیں۔جو رشتوں کے اُس لمس کو محسوس کرنا چاہتے ہیں جنہیں وہ کہیں پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ وہ ہنسنا چاہتے ہیں کہ حالات نے اُن کے چہرو ں پر صرف مصنوعی کاروباری ہنسی کو منجمند کر دیا ہے۔ جن کی سماعت اچھی بات سننے کوترس چکی ہے اور جن کے کان خوبصورت سروں کی آوازوں سے نا آشنا ہو چکے ہیں۔یہ تنظیم بنانے والے سب سماج کے زندہ لوگ ہیں کہ مردہ ذہنوں میں ایسے خیالات جنم ہی نہیں لیتے۔ یہاں کسی کو دانشوری کا زعم نہیں ٗکوئی اپنی عقلی نرگسیت میں مبتلا نہیں ٗ کسی کا کوئی سیاسی یا کاروباری مقصد نہیں ٗسب کا ایک ہی کاز ہے کہ حقیقی زندگی کیلئے اکھٹے ہو کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو زندہ رہنے پر مجبور کیا جائے انہیں بتایا جائے کہ رزق روزی کمانا ایک کام ہے جبکہ زندہ رہنے کیلئے بہت سے کام کرنے پڑتے ہیں۔میں اس تنظیم کے تمام عہدیداران جس میں شہر لاہور کے درویش منش انسان جناب طارق جاوید کو تنظیم کا سرپرستِ اعلیٰ ٗ برق رفتاری سے فیصلے کرتیں اور ہر دم سوچتی آنکھوں والی عمرانہ مشتاق کو تنظیم کا چیئر پرسن بنایا گیا ہے جو تنظیم بنانے اور چلانے کا ایک وسیع تجربہ رکھتی ہیں ٗ استاد محترم اور ذوق جمالیات کے اظہار کے پیکرِ یکتا جناب اجمل نیازی صاحب ”لائف“ کے چیئرمین سپریم کونسل ہیں ٗخوبصورت لہجے کے شاعر انسان دوست ساتھی اور مجھے سرِ راہ ملنے والا گنجِ نایاب کہ جسے اللہ مالک و مختار نے میرے لیے اُس راہ گزر پر لا کھڑا کیا تھا۔جی ہاں! جناب ریاض احمد احسان ”لائف“ کے چیف آرگنائزرمقرر ہوئے ہیں جو کسی احسان سے کم نہیں ٗ یار غار ٗ جانِ جگر ٗ میرا چھوٹا بھائی ٗ میرا لیڈراور پاکستان بھر کے حلقوں کی معروف ترین شخصیت جس کی علم دوستی اور یارنوازی کا شہرہ چہار عالم میں ہے وہی برادرم نواز کھرل ”لائف“ کے سیکرٹری جنرل نامزد ہوئے ہیں ٗماضی میں دلوں پر راج کرنے والی شہرہ آفاق فلم آرٹسٹ اور ان گنت کامیاب ترین فلموں میں ہیروین کا بے مثال کردار کرنے والی نشوبیگم ”لائف“ کی سینئروائس چیئرپرسن ہیں ٗ جان عزیز منشا ء قاضی کا ذکر کیے بغیر”لائف“ کا تعارف مکمل ہی نہیں ہو سکتا یہ وہ بزرگ ہستی ہیں جنہوں نے عمر بھر سماج میں بہتری کیلئے کچھ نہ کچھ بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے ”لائف“ کیلئے یہ بات کیسی اعزاز سے کم نہیں کہ عزت مآب منشاء قاضی اس تنظیم کے نائب صدر ہیں ٗ ہارون آباد سے محبت ٗ دوستی اور پیار کے جذبوں کو اپنے اشعار میں سمونے والی خوبصورت شاعرہ اور میری چھوٹی بہن ڈاکٹر مریم نازکا نائب صدر ہونا بھی قدرت کا احسان ہی سمجھتا ہوں ٗ گوجرانوالہ سے برادرم چوہدری شیراز طاہر ایک باکمال سیاسی ورکر ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین انسان اور قابل اعتبار دوست بھی ہیں۔ میرے لیے اس سے زیادہ خوشی اور کیا ہو گی کہ ”لائف“ کے اس سفر میں وہ میرے ہمرکاب ہوں کہ اُن کے ساتھ بہت سے خوشگوار سفر زندگی کا حصہ رہے ہیں۔ہمارے پیغامات ٗ تصاویر اورویڈیو آپ دوستوں تک پہنچانے کیلئے میں سوشل میڈیا ٹیم کے دوستوں بالخصوص عبداللہ خان اور سید ایاز علی کی ”لائف“ میں شمولیت کو احسان ِ خداوندی سے تعبیر کرتا ہوں کہ یہ نوجوان بغیر کسی معاوضہ یا سہولت کے اس کارِ خیر کا حصہ ہیں۔اس کے علاوہ دوستوں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں صرف دو قدریں مشترک ہیں کہ یہ انسان ہیں اور دوسرے انسانوں کو زندگی کے حقیقی مقاصدکی طرف لانے کیلئے کوشاں ہیں۔میں نے عمر بھر تنظیموں میں ہی کام کیا ہے۔مجھے اس کے سواء کچھ نہیں آتا ٗ میرا دانشوری کا کوئی دعوی نہیں میں تو اچھا لکھنے اور بولنے پر بھی قدرت نہیں رکھتا لیکن اللہ رب العزت جانتے ہیں کہ انسان کے ساتھ انسانوں کی طرح زندہ رہنے کی کوشش پہلے دن سے کی ہے اور آج بھی جاری ہے۔ ”لائف“ کا پلیٹ فارم میرے لیے آکسیجن کا وہ سلنڈر ہے جو دم توڑتے مریض کویکلخت میسر آجائے جس
کیلئے میں تمام دوستوں کا شکرگزار بھی ہوں اور اللہ رب العزت سے دعا گو بھی ہوں کہ وہ وجودِ زندگی تک ”لائف“ کو انسانوں کی فلاح اور خدمت کا موقع عطا فرمائیں۔ آج ہم ہیں تو کل کوئی اور اسے چلا رہا ہو کہ دو نقطوں کے درمیان بسر کرنے والوں کا دوسرا نقطہ غیر اعلانیہ آ ٹپکتا ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •