Voice of Asia News

حریت قیادت کے ساتھ مذاکرات بھارتی آئین کے اندر رہ کر ہی ہو سکتے ہیں ،بی جے پی

 
سرینگر(وائس آف ایشیا ) بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی نے واضح کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آئین ہند پر یقین رکھنے والوں کے ساتھ مذاکرات کیلئے مرکزی حکومت کے دروازے کھلے ہیں۔ بی جے پی کے قومی ناب صدر اور امور کشمیر انچارج اویناش رائے کھنہ نے کہا کہ وزیر اعظم ہند نریندر مودی بتدریج کشمیر میں پرامن حالات تیار کر رہے ہیں۔ سرینگر میں بی جے پی کی طرف سیسنگھٹن پراؤ سادھستیاں ابھیان(انجمن ممبران مہم جشن)کی تقریب کے حاشیہ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کھنہ نے کہا مرکزی سرکار حریت کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہے ،تاہم بی جے پی کا روز اول سے یہ موقف رہا ہے کہ آئین ہند کے دائرے کے اندر بات کی جائے۔ انہوں نے کہاہم بات چیت کیلئے تیار ہیں،حریت لیڈر ہمارے اپنے لوگ ہیں،وہ جموں کشمیر کے شہری ہیں،تو وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بات چیت کا خیر مقدم کیا جائے گا،تاہم آئین ہند کے دائرے میں۔ کھنہ نے تاہم واضح کیا کہ جن لوگوں کو آئین کی عزت نہیں ہے،ان سے بات چیت کا کوئی بھی مطلب نہیں ہے۔انہوں نے کہا مرکزی حکومت نے جب سے اصل صورتحال لوگوں کے سامنے لائی ہے،تب سے تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ان کا کہنا تھا کہ بی جے کا مقصد ریاست میں قیام امن و خوشحالی ہے،تاہم کچھ لوگ قانون میں رخنہ ڈال رہے ہیں۔ کھنہ نے کہاکہ قانون کو بنائے رکھنا اور لوگوں کا اس پر اعتماد بڑھانا مرکزی کی ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ہند نریندر مودی آہستہ آہستہ وادی میں پرامن ماحول تیار کر رہے ہیں تاکہ ریاست کے ہر ایک شہری کا اعتماد جیتا جاسکے۔ نامہ نگاروں کی طرف سے سر نو حد بندی پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابھی تک اس پر کوئی بھی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ رائے نے کہا کہ بی جے پی کے آئین میں ارکان سازی میں20فیصد اضافہ کرنا ہے،جس کیلئے6جولائی سے ممبر شپ مہم شروع ہوگی اور یہ6 اگست تک جاری رہے گی،جس کے بعد پارٹی کا انتخاب بھی عمل میں لایا جائے گا۔ادھر نیشنل کانفرنس صدر اور رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداﷲ نے نئی دہلی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں امن کی بحالی اور دیرینہ مسائل حل کرنے کی خاطر حریت کانفرنس کیساتھ مذاکرات شروع کئے جائیں۔ڈاکٹر فاروق نے کہا اگر گورنر نے کہا ہے کہ حریت بات چیت کیلئے تیار ہے تو حریت کیساتھ بات چیت کی جانی چاہیے۔ ڈاکٹر فاروق کے بیان سے ایک روز قبل گورنر ستیہ پال ملک نے ایک تقریب کے دوران اس بات کا خلاصہ کیا تھاکہ حریت کانفرنس سے وابستہ لیڈران اب مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔گورنر کا کہنا تھا کہ حریت لیڈران اب نئی دہلی کے ساتھ بات چیت کے خواہاں ہے۔پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے حریت(ع)کی طرف سے مرکز کے ساتھ مذاکرات پر اپنے موقف میں لچک لانے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔محبوبہ مفتی نے ٹویٹ میں کہا: ‘دیر آید درست آید، پی ڈی پی اور بی جے پی کے اتحاد کا بنیادی مقصد بھی مرکز اور تمام متعلقین کے درمیان بات چیت کا سلسلہ شروع کرانا تھا، میں نے اپنے دور حکومت میں اس کے لئے حتی الوسیع کوشش کی، بہرحال خوشی ہوئی کہ حریت نے بالآخر اپنے موقف میں لچک لائی ہے’۔قابل ذکر ہے کہ ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے گزشتہ روز سری نگر کے شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سنٹر میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران دعوی کیا کہ حریت رہنماؤں کے رویے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور وہ اب بات چیت کے لئے تیار ہیں۔ان کا کہنا تھا: ‘جب میں یہاں آیا تو اس وقت جو حرارت تھی وہ اب بہت نیچے آئی ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •