Voice of Asia News

مفاہمت یا مزاحمت;سیف اعوان

پاکستان میں آج کل سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج کو پہنچ چکا ہے۔میاں نواز شریف ،مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کی سزاؤں کا فیصلہ معطل ہوا لیکن میاں نواز شریف کو ایک بار پھر جیل جانا پڑ گیا۔میاں نواز شریف کے بعد اب آصف زرداری بھی جیل میں ہیں جبکہ آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور بھی اپنے بھائی کے ساتھ ہمسفر ہیں۔اس کے علاوہ مسلم لیگ( ن )کے خواجہ سعد رفیق،خواجہ سلمان رفیق ،حافظ سلمان اور کامران مائیکل بھی نیب’’ احتساب سب کا ہوگا‘‘ کے شکار ہیں اور جیل کے سلاخوں کے پیچھے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف آشیانہ اور رمضان شوگر ملز کیسز میں ضمانت پررہا ہیں ۔شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز بھی بڑی مشکل سے نیب کے ہٹھے چڑھ گئے ہیں لیکن وہ آج کل پروڈکشن آڈر انجوائے کررہے ہیں۔پروڈکشن جاری ہونے کا بنیادی مقصد اسمبلی اجلاس کی کاروائی میں شرکت کرنا ہے لیکن حمزہ شہباز بدقسمتی سے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی بھی ہیں ۔جب سے حمزہ شہباز کے پروڈکشن آڈر جاری ہوئے ہیں انہوں نے صرف ایک مرتبہ پنجاب کے بجٹ پر تقریر کی ہے اور مطالبات زر کی منظوری کے دوران ایوان میں پہنچے اس کے علاوہ ان کا اسمبلی کی کاروائی میں عمل دخل نہ ہونے کے برابر رہا ہے۔یہی صوتحال ان کے والد محترم کی ہے ۔اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کو جن ایشو پر بات کرنی چاہیے وہ ایشوز مسلم لیگ ن پنجاب کے سابق ترجمان ملک احمد خان کرتے ہوئے ہیں ۔حمزہ شہباز کے والد محترم قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تو ہیں لیکن ان کے کرنے والی ساری باتیں احسن اقبال اور خواجہ آصف کو کرنی پڑھ رہی ہیں۔دونوں باپ بیٹا ابھی بھی مفاہمت کی راہ پر چل رہے ہیں شاید کوئی درمیانی راستہ نکل آئے لیکن فی الحال ایسی کو راہ نہیں نکل رہی۔دوسری جانب میاں نواز شریف جیل میں بیٹھ کر بھی اپنے بیانیے پر چٹان کی طرح کھڑے ہیں اور ان کی بیٹی مریم نواز اپنے والد کے بیانیے پر چلتے ہوئے مزاحمت کی سیاست کررہی ہیں۔میاں نواز شریف ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ اور ’’سویلین بالادستی‘‘ کا نعرہ لگارہے ہیں۔میاں نواز شریف کے قابل بروسہ ساتھی شاہد خاقان عباسی،خواجہ آصف،احسن اقبال اورخواجہ سعد رفیق اپنے لیڈر کے بیانیے پر کھڑے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اﷲ کے بیانیے کی ابھی سمجھ نہیں آرہی لیکن ایک بات طے ہے وہ بھی حکومت کیخلاف تحریک چلانے کے حامی گروپ میں شامل ہیں۔
دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کیلئے ہر گزرتا دن نئی سے نئی مشکلات لے کر آرہا ہے۔فی الحال تو حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے کوئی خاص خطرہ نہیں ہے لیکن ملک کی معاشی صورتحال اور پارٹی میں اختلافات وزیر اعظم عمران خان کیلئے دردسر بننے ہوئے ہیں۔شاہ محمود قریشی اور جہانگیرترین کے اختلافات تو پوری قوم کے سامنے آچکے ہیں لیکن پنجاب اور وفاق کی کابینہ میں مفادات اور اختیارات کی رسہ کشی جاری ہے۔وزیر اعظم عمران خان جہانگیرترین اور شاہ محمود قریشی کو خاموش کرانے میں تو کامیاب ہو گئے ہیں لیکن ان کیلئے فواد چوہدری کو خاموش کرانا مشکل ہو گیا ۔فواد چوہدری وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔کیونکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت میں فواد چوہدری فٹ نہیں ہورہے ۔نہ سائنس ان کا سبجیکٹ ہے اور نہ ٹیکنالوجی۔اگر بات کی جائی ملک کی معاشی صورتحال کی تو آج ڈالر 160روپے سے بھی تجاوز کرچکا ہے اور سونا فی تولہ 80ہزار سے آگے نکل گیا ہے۔سٹاک مارکیٹ ہے کہ اوپر اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔امپورٹ کیے گئے وزیر خزانہ حفیظ شیخ بھی فی الحال گرتی ہوئے معیشت کو سہارا دینے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔
اگر اب ہم بات کریں میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کی تو مولانا فضل الرحمن بھی کچھ حد تک میاں نواز شریف کے بیانیے پر چل رہے ہیں ۔کیونکہ جس طرح 2018کے انتخابات سے قبل میاں نواز شریف فوج سمیت تمام اداروں کی سیاست میں مداخلت پر پر کھل کے تنقید کرتے تھے مولانا فضل الرحمن بھی آج کل اسی بیانیے پر چل رہے ہیں ۔مولانا فضل الرحمن نے تو ایک انٹرویو میں کھل کر کہہ دیا تھا کہ 2018کے الیکشن میں فوج نے دھندلی کرائی ہے ۔ایسے ہی کچھ خیالات کا اظہار مریم نواز نے بھی ماڈل ٹاؤن لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا تھا ۔مریم نواز نے کہا تھا کہ فوج ،آئی ایس آئی اور ایم آئی کو سیاست سے دور رہنا چاہیے ۔ان اداروں کو حکومت کی اس گندی سیاست کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
موجودہ حالات میں مریم نواز پارٹی کو مضبوط اور مستحکم کرنے میں اہم رول ادا کر سکتی ہے ۔ ان کو اپنے والد کے بیانیے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ اور ’’سویلین بالادستی‘‘ کے ساتھ کھڑے رہنے چاہیے ۔مسلم لیگ ن کے تمام بڑے چہروں کے اکثریت مریم نواز کی سیاست اور پالیسیوں سے اتفاق کرتے نظر آرہے ہیں ۔مسلم لیگ ن کا ووٹربھی مریم نواز کے ساتھ کھڑا ہے ۔اب مریم نواز کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے تو پارٹی کے تمام لوگوں کے آپس میں اختلافات ختم کرائے اورسب سے بڑھ کر پارٹی کے پرانے اور مخلص کارکنوں سے ملاقاتیں کریں تاکہ کارکنوں کی حوصلہ افزائی ہو سکے ۔ایک بات طے شدہ ہے جب تک مسلم لیگ ن کے تمام بڑے چہرے ایک پیج پر نہیں ہونگے میاں نواز شریف کا بیانیہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔
saifawan60@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •