Voice of Asia News

سپیکر کی بصیرت اور پنجاب کا’ یتیم‘ بجٹ: محمد نوازطاہر

پنجاب اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری دیدی ہے ، تادمِ تحریر وفاق اور دوسرے صوبوں میں بجٹ کی منظوری کا عمل جاری ہے جبکہ مرکز میں بجٹ رد کیے جانے کے دعوے دہرائے جارہے ہیں ، بظاہر یہ محض دعوے اور دکھاوے ہیں ۔ بجٹ پیش ہی منظوری کے لئے ہوتا ہے، رد کرنا یا تنقید کرنا سیاسی مخالفت سے زیادہ فیشن کی طرح دکھانا مقصود ہوتا ہے خاص طور پر ایسے میڈیا کی موجودگی بلکہ قیادت میں جہاں سعور سے زیادہ جہالت کو پروموٹ کرنا ہی ایجنڈا ہو۔ ایک دعویٰ میرا بھی ہے کہ اگر اسمبلیوں کے ساری اجلاس اور خاص طور پر بجٹ کی مکمل کارروائی ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر براہِ راست نشر کی جائے تو سیاسی و انتظامی دوہرے چہرے عوام کی نظروں زیادہ نہیں تو اتنے ضرور دھل سکتے ہیں جتنے سردیوں میں بھاپ لینے سے پہلے بھاپ کا پانی دیگچی میں چیک کرتے کرتے چہرے دھل جاتے ہیں گو یہ بہت بڑی صفائی نہیں لیکن گرد اترنے کا ابتدائی عمل ضرور ہے ، باقی اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ صفائی کا یہ عمل برقرار رہنے سے صفائی کی اگلی سطح کیا ہوسکتی ہے ۔۔۔ خیر یہ الگ بحث ہے ، سب سے پہلے بجٹ منظور کرنے والی پنجاب اسمبلی کی بات ہورہی تھی جہاں اپوزیشن بڑی تگڑی ہے اوراس تگڑی اپوزیشن کی موجودگی میں نا تجربہ کار تحریکِ انصاف نے بجٹ ایسے کمال طریقے سے منظور کروایا کہ مزے لے لے کر سیاسی نعرے سننے والے قارئیں ، سامعین اور ناظرین کا مزا ہی کرکرا ہو گیا ، صرف یہی نہیں بلکہ پارلیمانی رپورٹنگ کرنے والے صحافی اور ریاستی اداروں کے پیادے سبھی دنگ رہ گئے ۔ پی ٹی آئی کی بصیرت کا اندازہ لگانا ہو تو ایک نظر پی ٹی آئی کے نیب ذدگان پر ضرور ڈالنا چاہئے یعنی علیم خان گرفتار ہوئے ، وہ خود کو پنجاب کا وزیراعلیٰ دیکھ رہے تھے ، سبطین خان گرفتار ہوئے ، وہ ایک موقع پر وزیر صحات کو یہ کہنے کے جرم کے مرتکب ہوئے تھے کہ بی بی ہم نے ووٹ لینے ہوتے ہیں ، ہمارے کارکن ہمارا گریبان پکرتے ہین ، ہم حلقوں والے لوگ ہیں اور سیاسی پس منظر ہے ، آپ کی طرح مخصوص نشست پر نہیں آئے کہ کسی کو جواب دہ نہ ہوں ، یہ دونوں مسلم لیگ ق کی حکومت میں بھی وزیر رہے ہیں ( اس مراد ان کے الزامات کی وکالت ہرگز نہیں جس کسی نے اگر کوئی جرم کیا ہے تووہ اس کا ذمہ دار خود ہے ) ابھی کچھ نام اور بھی ہیں جنہیں کابینہ میں شامل تو کیا گیا لیکن اختیار کسی کے پاس نہیں ۔ ایسی صورتحال میں اپوزیشن کے پاس ماسوائے سیاسی بڑھکوں اور اور غیر اعلانیہ تعاون کے سوا کیا راستہ ہے ؟ اس نے یہی راستہ اختیار کیا ورنہ بعید نہیں تھا کہ گرفتاریاں اسندھا دھند ہوتیں ، بجٹ پیش ہوتے وقت کئی لوگ ایوان سے باہر ہوتے ، یہ تو سپیکر کا بروقت سیاسی این آر او تھا کہ انہوں نے رولز میں ترامیم کروائیں ، پروڈکشن آرڈر کا اختیار حاصل کیا اور بلا تمیز اس کا استعمال کیا ، یہ سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کی بہترین کوشش قراردی جاسکتی ہے جبکہ پرویز الٰہی نا تجربہ کار نہیں تھے ، ماضی کے تجربات کا بھرپور فائدہ اتھایا اور سیاسی لرائی سیاسی انداز سے لڑی ، ایوان کا ماحول خوشگوار رکھا ، ایسے میں ایک بجٹ کی منظوری کی کیا ’ اوقات ‘ ہے ۔ اور اپوزیشن کے لوگوں کو شدید گرمی مین مسائل اٹھانے کی کیا ضرورت ہے جب تھوری سے’ سادگی ‘ اختیار کرکے بجٹ منظور کروایا جاسکتا ہے ، رہی بات احتساب کے نعرے کی تو بلا امتیاز ، بے رحمانہ احتسا ب موجودہ نظام میں ممکن ہی نہیں ۔
پنجاب اسمبلی کی موجودہ مدت شروع ہوئی تو اپوزیشن زخمی ناگ کی طرح تھی ، جواب دینے والوں کی کیفیت بھی لگ بھگ ویسی تھی ہے اورفروغ پا رہی ہے یعنی پی ٹی آئی کے لوگوں کو ابھی اپنے حکومت مین آنے کا یقین نہیں ہو رہا ۔۔۔ لیکن ۔۔ پی ٹی آئی کی حکومت میں تحریکی پی ٹی آئی کے کون کون نے نمائند ے ہیں ؟ اور باقی جماعتوں سے آنے والے’ انصافی ‘کتنے ہیں ۔ ؟ ابتدائی دنوں میں اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن نے چودھرعی پرویز الٰہی کو نشانہ بنایا اور پھر جلد ہی وقت نے اپوزیشن کو بتایادیا ہے یہ تو وہ جگہ ہے جہاں سے مرہم ملنی ہے ، جنانچہ چودھری پرویز الٰہی اپوزیشن کو قبول ہوگئے ۔ اتنے قبول کہ شائد اپوزیشن جماعتوں میں ان کے پارلیانی لیڈر بھی مقبول نہ ہوں ۔ بجٹ اجلاس میں سپیکر نے اپنی سیاسی دانش کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور ایسے منظور کروایا جیسے یہ اپوزیشن نے خود بنایا ہو۔ یہ چودھری پرویز الٰہی کی سیاسی بصیرت کے ماسوا کچھ نہیں تھا مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ منظور کیا جانے والا بجٹ ایسا ’یتیم ‘ تھا کہ اس کی منظوری پر سیاسی پارلیمانی تاریخ کے برعکس کسی نے اراکین کاشکریہ تک ادا نہ کیا حالانکہ بجٹ کی منظورری کے وقت ،یاروں کی ’شغلی ‘ گفتگو میں’سپیشل چائلڈ ‘کے نام سے پکارے جا‘نے والے سردار عثمان بزدار ایوان میں موجود بھی تھے اور وہ ایوان کو اپنے خاص انداز سے تکتے رہے ۔ مسلم لیگ ن کے پارلیمانی پروڈکشن آرڈر پر اسمبلی کی عمارت میں تو آئے لیکن ایوان میں رونق افروز نہ ہوئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر خلافِ توقع اس روز اسمبلی سیکرٹریٹ میں ہی نہ دیکھے گئے ۔بجٹ منظور ہونے پر وزیر قانون اور وزیر خزانہ نے بھی کسی گرمجوشی کا ا ظہار اور اراکین کا شکریہ ادا نہ کیا ، گویا کسی نے بجٹ کی ’اونر شپ ‘ ہی نہیں لی اور یہ پیغام دیا ہو کہ یہ ان کا’ ایشو ‘ ہی نہیں تھا ۔ یہ بجٹ جن کا تھا ، منظور کروانا ان کی ضرورت اور شائد ہٹ دھرمی بھی ہو یا حالات میں ہلچل کیلئے کوئی ’ٹیسٹر ‘ ہو ، یہ منظور ہونے میں کیا ہرج ہے جبکہ کوئی بھی سیاسی جماعت اس صورتحال کی متحمل نہیں ہوسکتی کہ مالی سال ختم ہونے سے ایک روز قبل مالی مسائل کھڑے کردے جو مشینری جام کرنے کا باعث اور کوئی ’خاص جواز‘ بن جائے۔
پنجاب اسمبلی میں ہلہ گلہ بھی رہا لیکن بجٹ کی منظوری بڑی تاریخی رہی ۔ اسے بہترین طرزِ جمہوریت قرار دینے میں کوئی عار نہیں سمجھنا چاہئے اور اس کی تعریف کی جانا چاہئے اور دوسری اسم،بلیوں کے لئے قوابلِ تقلید ہونا چاہئے ۔ اس سے قومی اسمبلی کے آئینی ذمہ داران کے لئے خاص طور پر ایک بہت بڑا سبق ہے اور ماضی کے سپیکر حضرات کے لئے بھی کہ وہ جان سکیں کہ آئندہ اگر وقت انہیں اس ذمہ داری کا موقع دے تو یہ ذمہ داری کس طرح ادا کرنی ہے، بہر حال جمہوریت زندہ با، این آرو( نو رئیل آڈر ) کی’ جے ‘ہو۔
reporter2reporter@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •