Breaking News
Voice of Asia News

نیشنل کانفرنس کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں صدر راج میں توسیع کی مخالفت

سرینگر(وائس آف ایشیا )مقبوضہ کشمیر نیشنل کانفرنس رکن پارلیمان جسٹس(ر)حسنین مسعودی نے صدر راج میں توسیع کی بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر کیساتھ روز اول سے ہی دو طرح کی ناانصافی روا رکھی گئیں، پہلی یہاں کی خصوصی پوزیشن کو مسلسل کمزور کیا گیا اور دوسری ہماری ریاست کو جمہوریت کی دوڑ سے الگ رکھا گیا ۔ انہوں نے صدر راج کی توسیع بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر 15اگست 1947کو ایک خودمختاری ریاست تھی ، ہماری ریاست نہ پاکستان کا حصہ تھی اور نہ ہی بھارت کیساتھ جڑی تھی۔ یہاں کے مہاراجہ نے ملک کے ساتھ رشتہ جوڑتے وقت ایک معاہدہ کیا جس کے تحت جموں و کشمیر کو ایک خصوصی درجہ دیا گیا ۔ جموں وکشمیر کے عوام نے ملک سے زبردستی خصوصی پوزیشن حاصل نہیں کی بلکہ پورے ملک نے ہمیں اس وقت خوش اصلوبی کیساتھ یہ خصوصی مراعات دیئے ۔ اس کے بعد اسی پارلیمنٹ نے 5اگست 1952کو دہلی اگریمنٹ کو منظوری دی اور ہماری ریاست کو خصوصی پوزیشن سے لطف اندوز ہونے کے وعدے کئے گئے۔ لیکن اس کے بعد نہ صرف ریاست کو دیئے گئے اختیارات کو ختم کیا گیا بلکہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کو بھی روند ڈالا گیا ۔ اس عرصے کے دوران ہماری ریاست کو جمہوریت کی دوڑ سے بھی الگ رکھا گیا اور اس کی شروعات 9اگست 1953کو ہوئی جب جموں وکشمیر کے ایک عوامی منتخبہ وزیر اعظم کو غیر آئینی اور غیر جمہوری طور معذول کرکے گرفتار کیاگیا۔ تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ ایوان کے نہیں بلکہ کابینہ کے عدم اعتماد پر ایک منتخبہ وزیر اعظم کو معذول کیا گیا۔ اسی روز سے ہماری یہ درد بھری داستان شروع ہوئی۔جسٹس حسنین مسعودی نے جموں وکشمیر میں فورا سے پیش تر اسمبلی الیکشن کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی عوام جمہوری اور آئینی حکومت کا حق رکھتے ہیں اور لوگوں کو اس حق سے محروم نہیں رکھا جانا چاہئے۔ جموں وکشمیر ریزریشن(ترمیمی)بل2019پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے جسٹس حسنین مسعودی نے کہا کہ نیشنل کانفرنس بین الاقوامی سرحد پر رہائش پذیر آبادی کیلئے مراعات کی مخالف نہیں بلکہ اس کی حامی ہے لیکن اس کیلئے جو طریقہ کار اپنایا جارہا ہے وہ سراسر غلط ہے۔ یہ بل بنا سوچے سمجھے جلد بازی میں پیش کیا جارہا ہے ، اس میں بہت زیادہ خامیاں ہیں۔یہ بل سپریم کورٹ کے مرتب کردہ لائحہ عمل پر بھی کھرا نہیں اترتااور اس سے ایل او سی پر رہنے والے لوگوں کیساتھ ناانصافی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس بل پر مزید مشاورت کی ضرورت ہے اور اس کام کو جموں وکشمیر میں منتخبہ حکومت کیلئے چھوڑ دیا جانا چاہئے،
وائس آف ایشیا29جون 2019 خبر نمبر19

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •