Voice of Asia News

کرپشن ڈی ڈکشن بیورو ، نیشنل ابڈکشن بیورو ؟کرپشن پروٹیکشن بیورو ۔۔ محمد نوازطاہر

قومی احتساب بیورو(نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو )پاکستان میں بدعنوانیوں کے خاتمے کیلئے بنایا گیا ہے جبکہ بدعنوانی سے نمٹنے کیلئے قوانین اور محکمہ انسداد رشوت ستانی اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ پہلے سے موجود تھا ۔ پھر بھی اس ادارے کا خصوصی قانون بنایا گیا اور بعد میں اس کو آئینی تحفظ د ے کر خود مختار ادارہ بنا دیا گیا ۔ اس ادارے کی ساکھ پہلے روز سے متنازع رہی اور اس کے کردارپر سوالیہ نشان ہی لگایا گیا ۔ احتساب بیورو کے نام سے یہ ادارہ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو(شہید) کی حکومت برطرف کیے جانے کے بعد مسلم لیگ (ن )کے سربراہ میاں نواز شریف نے قائم کیا اور اس کا پہلا سربراہ سیف الرحمان کو1997 بنایا ۔میاں نوازشریف کی حکومت کے خاتمے تک اس کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہا ۔ نوازشریف اس کے حامی اور پس منظر کی تمام قوتوں کے ماسوا باقی سبھی نے احتساب بیورو کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ بینظیر مخالفین اس ادارے کی شان میں قصیدے پڑھتے رہے اور باقی سب اس ادارے کی کارکردگی کو اینٹی پیپلز پارٹی قراردیتے رہے ۔ عوام میں بھی یہی ’ ملا جلارحجان ‘رہا لیکن مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی پرویز ملک کے بھائی جسٹس ملک محمد قیوم کا ٹیپ سامنے آنے اور پھر عدلیہ سے ملک محمد قیوم کی ’ڈولی‘ کے بغیر رخصتی نے اس ادارے کی یکطرفہ کارروائیوں پر احتساب کے بجائے انتقام کی مہر ثبت کردی ۔باقی کسر نوازشریف کو رخصت کرنے والوں نے اپنے’ موقف‘ میں تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ پوری کردی اور حقیقی احتساب کا نعرہ لگادیا ۔ اس نعرے پر بھی ایک عشرہ تک اسی طرح اقتدار پر قبضہ جمایا گیا جیسے اسلام نافذکرنے کے دعوے پر کیا گیا تھا ، نوازشریف کے احتساب بیورو کے چیئرمین سیف الرحمان کو احتساب الرحمان کے نام سے پکارا گیا اور اس انتقامی کارروائی کو میثاقِ جمہورت پر دستخط سے پہلے باقاعدہ تسلیم کرکے معذرت بھی کی گئی ۔ اس کا نتیجے میں پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں کی جانی والی ترامیم میں نیب کو آئینی تحفظ دیا گیا ، پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوئی تو نیب پھر تنقید کا نشانہ بن گیا اور جب نوازشریف کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو نیب کو ایک طرح سے ’ایلین ‘ قراردیا گیا اور ابھی تک ایسا ہی کہا جارہا ہے ۔ الزامات اور تنقید کے نتیجے میں نیب نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو کے بجائے ’’نیشنل ابڈکشن بیورو ‘‘کی صورت میں پیش کیا جارہا ہے اور اس کی یہ شکل اس کی خا لق میاں نوازشریف کی جماعت مسلم لیگ (ن) ہی پیش کررہی ہے جبکہ ن لیگ کی قیادت ’مائیک توڑ‘مہم کے دوران ‘ اسی ادارے کے ذریعے پیپلز پارٹی کی قیادت کے پیٹ پھاڑ قوم کی لوٹی ہوئی رقم واپس قومی خزانے میں جمع کرانے کے نعرے لگاتی رہی ہے ۔ نیب کی کارکردگی مثبت ہے یا منفی، اس بحث میں جائے بغیر یہ واضح ہوتا ہے کہ اس نے ٹارگٹڈ آپریشن ہی کیے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کا پیٹریاٹ گروپ بنے یا مسلم لیگ( ن) کا فاوروڈ بلاک ، بظاہر نظر نہ آنے والی مگر واضح قوتوں کی طاقت کے ساتھ ساتھ نیب نے بھی اس سیاسی حمام میں خاصی لہریں پیدا کرکے بھنور بنائے ہیں اور کئی برہنہ جسم ڈھانپے ہیں ۔ بد عنوانی کے خاتمے کے لیے قائم کیے جانے والے اس ادارے میں بد عنوانی صرف مالی ہیر پھیر اور لوٹ مار کو قراردیا گیا ہے حالانکہ اخلاقی اور سماجی توڑ پھوڑ بھی بدعنوانی سے باہر نہیں ، اگر یہ اصول اختیارکرنا پڑتا تو نیب کے موجودہ چیئرمین کا ایک ملزمہ کے ساتھ ’حسنِ سلوک ‘ انہیں کٹہرے میں لاکھڑا کرتا اورسیف الرحمان جیل میں ہوتا، بہت سے دوسرے لوگ سلاخوں سے بیرونی منظر ایک خواب کی طرح دیکھتے، حکومت کو ایمنسٹی سکیم کا اعلان نہ کرنا پڑتا ، قابلِ توجہ پہلو نیب کے قانون کا وہ حصہ ہے جس کے تحت لوٹ مار کے مال میں’ تقسیم ‘ کو پلی بارگین کے نام سے قانونی تحفظ دیا گیا ہے جبکہ یہ نہ صرف اسلامی احکامات بلکہ نیب کے ماسوا دیگر تمام رائج قوانین سے متصادم ہے ، نیب کے ماسوا جہاں بھی اس’ کلیئے ‘ کا استعمال ہوتا ، اسے مک مکا قرادیا جاتا ہے ۔، دلچسپ امر یہ ہے کہ اس معاملے پر نہ تو علمائے کرام کی نظر میں اسلامی احکامات پر زد پڑتی ہے نہ ہی وفاقی شریعت کورٹ اس کا راستہ روکتی ہے، اسلامی نظریاتی کونسل بھی چُپ سادھے ہے تکیا مان لیا جائے کہ نیب صرف مخصوص مقاصد اور ٹارگٹڈ آپریشن کیلئے ہے ؟
اس میں دورائے نہیں کہ ڈبل شاہ جیسے افراد اور اداروں سے نیب نے ایسے لوگوں کی ادائیگیاں بھی ( جزوی) کروائی ہیں جنہیں امید باقی نہیں رہی تھی لیکن اس سے فائدہ صرف لٹیروں کو پہنچا ہے ۔ اس کی تحقیق کاروں کی سماجی پوزیشن کی بازگشت بھی ویسی ہی ہے جیسے سرکاری ملازمین میں اینٹی کرپشن ، سیٹھ حضرات کے لئے کسٹم ، انکم ٹیکس ، ایف آئی اے کے تحقیق کاروں کی غیر سرکاری غیرعلانیہ نرخ پر مقرر’فیسوں ‘ کی ہے ۔ اس ادارے کی ساکھ پہلے دن سے نہیں بن سکی اور جب آئینی تحفظ ملا تو اسے آئینی تحفظ دینے والوں نے ہی اس کی حیثیت کو چیلنج کردیا جن کی گواہی اس لئے یکسر رد نہیں کی جا سکتی کہ وہ خود اس ادارے کا مرضی سے استعمال کرتے رہے ہیں ۔ادارے کی ساکھ جو بھی ہو ، اس کا کردار غیر جانبدارانہ ہونا ضروری ہے اور اس کے کردار کا احتساب بھی لازم ہے۔
غیر جماعتی الیکشن کے بعد ملک میں لوٹ مار نے سماجی فیشن کے طور پر رواج پایا اور احتساب کا نعرہ ان قوتوں کے زیر اثر بننے والی حکومتوں کے دور میں لگایا گیا ، انہی قوتوں کے پیارے اب بھی نعرہ لگاتے ہیں اور اس پر چیختے چلاتے ہیں جبکہ بد عنوانی کم ہونے کے بجائے گراف بلند کرتی جارہی ہے جو احتساب ، احتساب بیورو اور نعرہ لگانے والوں کے چہروں پر ایک بد نما داغ چھوڑ رہی ہے جسے کسی نہ کسی کو دھونا پڑے گا ورنہ دن بہ دن انارکی اور معاشی بدحالی کی طرف برھتے ملک میں خانہ جنگی کوئی نہیں روک سکے گا ۔
reporter2reporter@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •