Voice of Asia News

آج کا کام رکھو نہ کل پر :سیف اعوان

 
ایک دفعہ ایک گاؤں کا چودھری سودا لینے شہر گیا تو اس نے دیکھا کہ لوگ ایک وکیل کی بہت تعریف کر رہے کہ وہ تو سو سو روپے کی ایک بات بتاتا اور ہزار ہزار روپے کا ایک نکتہ سمجھاتا ہے۔چودھری نے سوچا کہ ہم بھی اس وکیل کی کوئی بات سن آئیں تو اچھا ہو۔۔ یہ سوچ کر وہ وکیل کے دفتر پہنچ گیا اور کہا وکیل صاحب : میں نے آپ کی باتوں کی بہت تعریف سنی ہے ہمیں بھی کوئی بات سمجھا دیجئے۔۔۔ وکیل نے کہا کہ ہم تو ایک بات کی ایک روپیہ فیس لیا کرتے ہیں۔۔ یہ سن کر چودھری کا شوق اور بھی بڑھا اور اس نے پندرو روپے نکال کر وکیل کے سامنے رکھے۔۔ روپے لے کر وکیل صاحب نے ایک کاغذ کے پرزے پر یہ مصرع لکھ دیا ” آج کا کام رکھو نہ کل پر "۔۔چودھری واپس آیا تو مزدوروں نے کھیت کاٹ کر بہت سا غلہ نکال رکھا تھا۔۔ شام کو وہ چوہدری سے مزدوری لینے آئے تو اس نے کہا اس اناج کو گھر میں پہنچاؤگے تو مزدوری ملے گی۔۔ مزدوروں نے کہا کہ اب تو وقت گزر چکا ہے کل دن نکلتے ہی رکھوا دیا جائے گا۔۔ چوہدری نے کہا کہ بھائیوں میں نے توآ ج ہی یہ بات پندرہ روپے دے کر سیکھی ہے۔۔۔ پس میں تو آج ہی رکھواؤں گا۔۔آخر مزدوروں کو اناج گھر میں رکھنا ہی پڑا۔۔۔ اتفاق سے اسی رات اس زور کی بارش ہوئی کہ سارے گاؤں والوں کا غلہ پانی میں بہہ گیا یا خراب ہو کر رہ گیا۔۔ مگر چودھری کا غلہ بلکل محفوظ رہا۔۔ اور بیچتے وقت اسے اتنا نفع ہوا کہ ایک روپے کے بدلے بیسیوں روپے وصول ہو گئے۔۔
28جولائی 2017کا دن تھا سپریم کورٹ کا کمرہ عدالت وکلاء،صحافیوں اور لیگی رہنماؤں سے کچھا کھچ بھراہوا تھا۔کمرہ عدالت میں بیٹھے تمام افراد کے چہروں پر عجیب و غریب قسم کے تاثرات پیدا ہو رہے ہیں۔اتنے میں پانچ جج کمرہ عدالت میں داخل ہوئے جن میں جسٹس آصف سعید کھوسہ ’’موجودہ چیف جسٹس‘‘،جسٹس اعجاز افضل،جسٹس گلزار احمد،جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیصلہ سنانا شروع کردیا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سب سے پہلے کہا تاخیر سے معذرت چاہتے ہیں20اپریل کو ہم نے اپنا فیصلہ دے دیا تھا۔تین ججز نے اپنا فیصلہ موخر کردیا تھا۔جس کی وجہ سے تاخیر ہوئی،پہلے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیصلہ سنایا کہ نواز شریف،مریم نواز،کیپٹن صفدر،حسن نواز اور حسین نواز کا کیس جے آئی ٹی رپورٹ کی مزید تحقیقات کیلئے نیب کو بھیجا جاتا ہے پھر اچانک جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اگلی لائن پڑی کہ نواز شریف کو دس سال کیلئے نااہل کیا جاتا ہے اور سات سال کی سزا سنائی جاتی ہے۔پھر کچھ عرصے بعد عدالت عظمیٰ نے نواز شریف کو پارٹی کی صدارت سے ہٹانے کا بھی حکم سنادیا۔پھر اسی دوران 2018کے انتخابات ہوئے ۔عام انتخابات کے بعد ضمنی الیکشن سے قبل میاں نواز شریف کے بھائی اور پارٹی کے نئے صدر شہباز شریف کو نیب نے گرفتار کرلیا۔پھر قمراسلام راجہ،خواجہ سعد رفیق،خواجہ سلمان رفیق،حافظ نعمان اورکامران مائیکل کو گرفتار کرلیا۔لیکن ان واقعات کے باوجود مسلم لیگ ن نے سڑکوں پر آنے کی جرات نہ کی۔پھر ایک دن اچانک اس حکومت اورسسٹم سے تنگ آئے مولانا فضل الرحمن صاحب میدان عمل میں آگے۔مولانا صاحب نے اپوزیشن جماعتوں سے رابطے شروع کردیے۔مولانا صاحب نے آصف علی زرداری کی میاں نواز شریف سے ملاقات کرانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔کیونکہ میاں نواز شریف آصف زرداری سے سخت ناراض تھے اس لیے ملاقات طے نہ ہو سکی۔اس کے باوجود بھی مولانا صاحب نے ہمت نہ ہاری ۔مولانا صاحب نے نواز شریف اور آصف زرداری سے الگ الگ ملاقاتیں کی تاکہ حکومت کیخلاف ملکر تحریک چلائی جائے ۔آصف علی زرداری مولانا صاحب کے موقف کے تائید کرتے نظر آئے لیکن میاں نواز شریف پھربھی نہ مانے۔ میاں نواز شریف نے مولانا صاحب کو چھ ماہ تک انتظار کرنے کہا ۔میاں نواز شریف نے سوچا تھا کہ حکومت سسٹم چلانے میں ناکام ہو جائے ان سے معاشی حالات کنٹرول نہیں ہونگے مہنگائی ہو گی اور عوام خود ہی باہر نکلیں گے لیکن وہ چھ ماہ بھی گزر گئے نہ عوام نکلی نہ اپوزیشن نکلی۔پھر اچانک سے رمضان المبارک میں پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو نے اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کی افطار پارٹی بلائی اس افطار پارٹی میں بھی حکومت کیخلاف سڑکوں پر آنے کا فیصلہ نہ سکا۔پھر مولانا صاحب نے اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی طلب کرلی لیکن اس میں بھی حکومت کیخلاف سڑکوں پر آنے کا فیصلہ نہ ہو سکا۔پھر مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اﷲ جو وزیر اعظم عمران خان کو بہت بری طرح اور بہت عرصے سے کھڑک رہے ان کو اینٹی نارکوٹکس راوی ٹول پلازہ سے 21کلوہیروئن کے کیس میں گرفتار کرلیتی ہے لیکن اپوزیشن پھر بھی حکومت کیخلاف سڑکوں پر نہیں نکلتی۔پھر فلم میں ایک نیا سین آتا ہے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ملکی معاشی صورتحال پر ایک سیمینار منعقد کرتے ہیں جس میں مشیر خزانہ ،وزیر مملیکت ریونیو،چیئر مین ایف بھی آر سمیت ملک کے نامور ماہر معاشیات شرکت کرتے ہیں ۔آرمی چیف معیشت کی بہتری کیلئے سب کو اپنا اپناکردار کرنے کی حمایت کرتے ہیں ۔اگلے دن مولانا صاحب ایک انٹرویو میں کہتے ہیں اگر آرمی چیف نے معیشت کی بہتری کیلئے سب کو کردار کرنے کی آفر کی ہے تو اپوزیشن جماعتوں کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔
اب بات آتی ہے اصل ایشو پر اگر تو اپوزیشن جماعتیں حکومت کیلئے خلاف سڑکوں پر نکلنا چاہتی ہیں تو نکلیں اگر معیشت کے نام پر مفاہمت کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کررہی ہیں تو دیر کس بات کی ہے ۔اچھے وقت کا مزید انتظار نہ کریں ،اس وقت اپوزیشن کے پاس دونوں آپشن موجود ہیں ۔’’ آج کا کام رکھو نہ کل پر ‘‘ کیونکہ کل جو ہوتی وہ کل ہی ہوتی ہے اور نہ کبھی کل آتی ہے نہ کل کافیصلہ ہوتا ہے۔

saifawan60@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •