Voice of Asia News

علی پور کا شاہ : محمد قیصر چوہان

اﷲ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کیلئے مختلف زمانوں میں کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے یہ سلسلہ حضرت محمدؐ تک جاری رہا اور آخر میں حضرت محمدؐ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر یہ سلسلہ بند کر دیا گیا۔ کیونکہ آپؐ کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا، صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور اولیاء کرام مختلف اوقات میں تبلیغ اسلام کیلئے خدمات سر انجام دیتے رہے۔ اﷲ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک مختصر سے امتحان کیلئے دنیا میں بھیجا ہے اور اسے تمام مخلوقات سے اشرف قرار دے کر ہر چیز کو اس کے تابع کر دیا ہے۔ ہر طرح کی لا متناہی اور لا تعداد نعمتوں سے نواز، ان تمام نوازشات کے ساتھ یہ حکم بھی ملا ہے کہ یہ سب کچھ عارضی ہے۔برصغیر میں اسلام کی ترویج و ترقی میں بزرگان دین کا کردار بڑا اہم ہے جن کی بدولت یہ خطہ اسلام کی لا زوال دولت سے مالا مال ہوا ہے۔ اسی وجہ سے صوفیائے کرام کا بہت زیادہ اثر ہمیں برصغیر پاک و ہند میں نظر آتا ہے۔ انہی بزرگان دین میں پیران پیر حضرت سید شیخ عبدالقادر جیلانیؒ، خواجہ خواجگان خواجہ معین الدین چشتی سنجری اجمیریؒ، حضرت بختیار کاکیؒ، حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ، حضرت علاؤ الدین احمد صابر کلیریؒ، حضرت نظام الدین اولیاءؒ،حضرت عبداﷲ شاہ غازی،حضرت سطان باہو،حضرت داتا گنج بخشؒ، حضرت سید عثمان مرد ندی المعروف حضرت شہباز قلندرؒ، حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائیؒ، حضرت بری امام سرکارؒ، حضرب بو علی قلندر پانی پتیؒ، حضرت پیر سید عبدالرحمان شاہ بابا چشتی صابریؒ تمبر پورہ شریف پشاور،حضرت بہاؤالدین زکریا(ملتان) ،حضرت شیخ رکن دین ابو الفتح عالم(ملتان)، حضرت شاہ شمس تبریزی(ملتان)،حضرت میاں میر،حضرت مادھو لال حسین،حضرت میراں حسین،حضرت شاہ جمال، حضرت شیخ طاہر بندگی،حضرت بابا بلھے شاہ کی شب و روز محنتوں کا نتیجہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔ برصغیر کو اولیاء کرام کی سر زمین کہا جاتا ہے جہاں قدم قد م پر اﷲ تعالیٰ کے نیک بندوں کے ڈیرے ہیں۔ ان کا وجود بنی نوع انسان کی ایک کثیر تعداد کو گمراہی سے بچانے اور مرزائیت سے سرزمین پاک و ہند کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ بنا۔
سرزمین پاکستان بہت با برکت ہے اور اس سرزمین کے باسی بہت خوش نصیب ہیں۔یہ دھرتی ایسی لاتعداد ہستیوں کا مسکن بنی جو انسانوں کیلئے خدا کی رحمتوں کانشان ہیں۔ ان ہستیوں کا پیغام ان کے قبیلے،قوم یاخطے تک محدود نہیں بلکہ ان روشن نظر، اعلیٰ ظرف وسیع القلب ہستیوں کا پیغام سب انسانوں کیلئے خیر و فلاح کا ذریعہ ہے۔ سید اسد شاہ ان ستاروں میں شامل ہیں، مخلوق خدا جن سے روشنی ،سکون اور شنانتی پا رہی ہے۔مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور کو بھی اﷲ تعالیٰ نے کیا نور عطاء فرمایا۔ علم کا نور، آگہی کی دمک، حقیقت کا سراغ، معرفت کا اعزاز، صدیوں کی تاریخ میں پاک سر زمین کیسے کیسے ہیروں سے جگمگائی ہے۔حضرت سید اسد شاہ ان میں ایک نایاب ترین ہیرا ہیں۔ جو نوع انسانی کو توحید کی دعوت دینے، نور اول نبی آخر حضرت محمدؐ کی تعلیمات سے واقف کروانے اور انسانوں کو انسانوں کے احترام کی دعوت دینے اور موجودہ دور کے سب سے بڑے فتنے کالے جادو کے سحر سے لوگوں کو نجات دلانے کے مشن پر گامزن ہیں۔
عشق مجازی کی طلب اور عشق حقیقی کی تڑپ کے مختلف مراحل سے گزرنے والے حضرت سید اسد شاہ صاحب خداسے قرب چاہتے ہیں لیکن انسانوں سے لا تعلق رہ کر نہیں۔ انسانوں کا وہ بھلا چاہتے ہیں۔حضرت سید اسد شاہ صاحب انسان کی آزادی اور ہر طبقے کے انسان کے احترام کے خواہش مند ہیں۔ جاگیرداروں کے سامنے بے بس اور مجبور مزارعوں اور مفاد پرست گدی نشینوں، پیروں کی نسل در نسل غلامی میں پھنسے ہوئے، عقیدت کے مارے مریدوں کے ہمدرد اور خیر خواہ اور ان کی آزادیوں کے متمنی ہیں۔حضرت سید اسد شاہ صاحب کی گفتگو کائنات میں پھیلی حقیقتوں تک رسائی کا ذریعہ ہے۔ ساتھ ہی معاشی اور سماجی جبر اور ظلم میں پھنسے ہوئے کسانوں، مزدوروں، مجبوروں کیلئے اپنی حالت کا جائزہ لینے اورظالم سماج سے آزادی کی تڑپ پیدا کرنے کا پیغام بھی ہے۔ شاہ صاحب ایک طرف مخلوق کو خالق حقیقی، رحمن و رحیم پر ایمان و توکل کی طرف بلاتے ہیں ساتھ ہی معاشرے میں پھیلی ہوئی نا انصافیوں، ظلم و جبر سے نجات کیلئے عوام کو ابھارتے بھی ہیں اور آزادی کیلئے رہنمائی بھی کرتے ہیں۔ ان کی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ لاکھوں لوگوں کیلئے امید ، یقین، شفاء، زندگی بن جاتے ہیں۔ ان کی گفتگو دلکش، دل آویز ہے، روشنی ہے، حقیقت کی طرف راہنمائی اور دست گیری کرتی ہے۔ ان کی گفتگو میں دل کیلئے کوئی فریب ہے نہ نظر کیلئے کوئی سراب۔ شاہ صاحب کی گفتگو تپتی ہوئی دھوپ میں چمکتے ذروں کو پانی نہیں دکھاتا بلکہ تپتے ہوئے وسیع و عریض صحرا میں مسافر کو واقعتاً پانی، جھاڑی اور نخلستان کی طرف لے کر جاتی ہے۔
صداقت آپ کی زبان ہے، متانت ہم نشیں ہے۔ حسن اخلاق آپ کے ماتھے کا جھومر ہے۔ حسن معاملہ آپ کے ہمر کاب ہے، ہمت آ پ کا تکیہ ہے، جرأت آپ کاعصاہے، بصیرت آپ کی جلیس ہے، فقاہت آپ کی مشیر ہے، تقوی آپ کا سائبان ہے، عشق رسولؐ آپ کا پیش رو ہے، ذہانت کو آپ سے انس ہے، استقامت آپ کے ہم قدم ہے، افتا کو آپ بے ناز ہے، تدریس کو آپ پر فخر ہے، منطق و فلسفہ آپ کے رود خیال کے اردگرد خیمہ زن ہے، معانی و بیان ان کے لوح فکر کی تحریریں ہے، فقہ ان کے مطلع معارف کا ہلال ہے، علم حدیث ان کی کشت افکار پر برسنے والی بارش ہے، علم تفسیر آپ کیلئے نسیم شوق ہے۔
آپ کے پاس حسن صورت بھی ہے۔ حسن سیرت بھی، رنگ لفظ بھی ہے، معنی نور بھی، نشتر تحقیق بھی ہے اور شبنم تفہیم بھی اور ذوقِ خود آگاہی بھی۔ آپ کے سینہ معرفت گنجینہ میں روز اول ہی سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے بھرپور کام کرنے کا جذبہ موجزن ہے۔ اس عظیم مقصد کیلئے آپ نے اپنے زمانہ طالب علمی ہی سے منصوبہ بندی شروع کردی تھی۔ آپ نے انتہائی نا مساعد حالات میں اپنے کارواں کو سوئے منزل رواں دواں کیا۔ خدا جانے کتنی بابرکت وہ گھڑی تھی جب علی پور میں ایک دانش کدہ آباد کرنے کافیصلہ کیا گیا، اس عزم میں کتنا جرم تھاجس نے زمین کی نا ہمواریوں کے باوجود گلشن آباد کرنے کا عہد کر لیا؟ اس ہاتھ میں کس قدر خوئے خلوص تھی جس نے خشت تاسیس رکھی اس دُعا کے اثر کے ساتھ کتنی ہم آہنگی تھی جو جشن افتتاح میں مانگی گئی۔ علی پور ایک قصبہ ہے سادہ ماحول ،پسماندہ علاقہ ، سہولتوں کا فقدان، مگر معمار بڑادل نواز ہے۔ وہ حرص و ہوا سے دور جہان استغنا کاباسی ہے وہ این و آن کے خوف سے بے نیاز ہو کر ایک علمی فکری اور روحانی انقلاب کا تانا بانا تیار کرنے کیلئے کمر ہمت باندھ چکا ہے۔ پھرکیا تھا؟ ایک ولولہ اٹھا۔ نگاہیں اس طرف اٹھنے لگیں قدم اس سمت بڑھنے لگے، دل اس جانب جھکنے لگے۔ خیالات بدلنے لگے۔ ذہن جاگنے لگے۔ دانش بٹنے لگی، روشنی پھیلنے لگی، مزاج سنجیدہ ہوئے شعور پختہ ہوا۔ علم کی برکھا برسنے لگی معرفت کے جام چھلکنے لگے۔کہیں اسرار قرآن پر بحثیں ہیں، کہیں نکات حدیث پر تبصرے ہیں کہیں اصلاح اعمال زیر بحث، کہیں اصلاح احوال موضوع سخن، کہیں مطالعہ ہے کہیں تکرار ہے۔ کوئی کسی کونے میں دیا جلائے رات کے گزر جانے سے بے خبر ہے کوئی کسی گوشے میں آنکھوں کومحو خواب کرنے کے بجائے محو کتاب کئے ہوئے ہے۔ امن و آشتی کا دور دورہ ہے۔ سکون کی خیرات بٹ رہی ہے۔ دن اور راتیں قال اﷲ تعالیٰ اور قال الرسولؐ کے ماحول میں گزررہی ہیں آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے نزدیک سے بھی آرہے ہیں اور دور سے بھی۔ قلوب واذہان کی بیڑیاں چارج ہو رہی ہیں۔ موجودہ دور کے سب سے بڑے فتنے کالے جادو کے سحر میں جھکڑے لوگ اس لعنت سے نجات پا رہے ہیں۔ حضرت سید اسد شاہ صاحب جیسی ہستی محض اکتسابی علم کا نتیجہ نہیں ہوتیں۔ علم حصولی کے مدارج طے ہونے کے بعد اس ہستی کی رہنمائی اور علمی سیرابی قدرت علم حضوری کے ذریعے کرتی ہے۔ کاغذ، قلم، استاد کے ذریعے صرف شناسی ہو سکتی ہے، لفظ اور جملے بناناسیکھے جا سکتے ہیں۔ علم العروض سے شعر کہنے میں مدد لی جا سکتی ہے لیکن قواعد لسانی، علم العروض، سر اور لے کی پہچان کسی باطنی کیفیات کا ادیب یا شاعر نہیں بنا سکتیں۔ اس کیلئے لاشعوری کیفیات سے آگہی اور وجدان کا متحرک ہونا ضروری ہے پھر اس وجدان کا رُخ فطرت کے موافق ہونا بھی لازمی ہے۔ وجدان اگرمنفی راہوں پر متحرک ہو گیا تو انسان نفس کا شیطان کا غلام بن سکتا ہے۔ قدرت نے علی پور کے شاہ صاحب کو جو عطا کیا ہے وہ شاہ صاحب دُکھی انسانیت کی بے لوث خدمت میں صرف کررہے ہیں۔
بد قسمتی سے پاکستانی معاشرہ حسد کی آگ میں جل رہاہے۔ حسد ایک ایسی لعنت ہے جس نے معاشرے کو تباہی کی راہ پرگامزن کر دیا ہے۔ حسدکی بیماری میں مبتلا لوگ کسی کو پھلتا پھولتااورخوش گوار زندگی بسر کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔اسی لیے یہ لوگ کالے جادو کا سہارا لیتے ہیں۔ کالا جادو موجودہ دور کے بڑے فتنوں میں سے ایک ہے۔ اس کے سحر میں مبتلا لوگ معاشی تنگی کا شکار ہو کر مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور آخر کار وہ ذہنی مریض بن کررہ جاتے ہیں۔آج پاکستان میں جہاں قتل و غارت گری، سماجی برائیوں اور معاشی ابتری نے لوگوں کا سکون چھین لیا ہے، وہیں کالے جادو جیسی ایک بہت بڑی لعنت بھی اندھیری رات کی طرح مسلط دکھائی دیتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان اُس کوہوتا ہے جس پر ’’کالا جادو‘‘ یعنی سحر کروایا جاتا ہے۔کسی پر کالا جادو کروانے کے سب سے زیادہ خواہش مند بعض ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ’’اپنے‘‘ بھی ہوتے ہیں اور ’’غیر‘‘بھی۔ یہ لوگ کونوں، کھدروں، ویرانوں، مندروں اور مرگھٹوں پر جا کر روپے اور زیورات دے کر کسی ’’اپنے‘‘ یا ’’غیر‘‘ پر کالا جادو کرواتے ہیں۔ چونکہ یہ ایک شیطانی عمل ہے، لہٰذا اس کی اپنی تباہ کاریاں ہوتی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ کالے جادو کی وجہ سے کسی کی کار چلتے چلتے اچانک کسی بڑے حادثے سے دو چار ہو جائے، اچھے بھلے کاروبار کا ایسا روگ لگ جائے کہ وہ کاروبار جگہ ویرانہ بن جائے، کسی کی شادی میں ایسی رکاوٹ ڈال دی جاتی ہے کہ وہ ساری زندگی بیاہ نہیں کر پاتا اور میاں بیوی صحیح سلامت ہونے کے باوجود بھی اولاد سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اسی طرح کسی کے گھرکی دیواروں پر آپ ہی آپ ’’خون‘‘ کی لکیریں بن جاتی ہیں اور کسی کی جان کالے جادو کی مدد سے اس کے سر پر کسی مندر یا مرگھٹ سے اُڑائی گئی ’’ہانڈی‘‘ آ کر لیتی ہے۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں ایک منظم ’’کالا جادو مافیا‘‘ کام کررہاہے۔ دوسری طرف جادو نگری کی چوکھٹوں پر بعض ضعیف الاعتقاد مسلمان مرد اور خواتین، جادو کی تباہ کاریوں اور اپنے برے انجام سے غافل ہو کر جائز اور ناجائز کاموں کیلئے چکر کاٹتے صاف نظر آئیں گے۔ دوسری طرف کراچی اور لاہورکی بسوں، دیواروں اور پلوں پر ہندو اور بنگالی عاملوں کے چلتے پھرتے اشتہارات دکھائی دیتے ہیں جن میں ان عاملوں کے دعوے کے مطابق، کسی شخص یا عورت کی مکمل ’’کایا پلٹ‘‘ کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محبوب کو قابو کرنے سے لے کر من پسند شادی ہونے تک، ملازمت کے حصول سے لے کر جان لیوا بیماریوں سے چھٹکارا پانے تک، تنگدستی سے نجات سے لے کر اولاد کے نہ ہونے تک، گھریلو ناچاقی سے لے کر شوہر کو قابو کرنے تک اور انتقام، حسد اور لالچ کا شکار ہو کر کسی خوشحال اور صاحب اولاد مرد یا عورت پر کالاجادو کروانے تک، بھانت بھانت کے جادوگر اور جادو گرنیاں اپنے گھناؤنے ہتھکنڈوں سے ’’ضرورت مندوں‘‘ کی ’’دلی تمنائیں‘‘ پوری کر کے حسب خواہش انہیں ’’مطمئن‘‘ کر کے اپنے دام کھرے کرتے ہیں۔
قرآن مجید اور حدیث نبویؐ کی روشنی میں جادو کا ہونا ثابت ہے۔ قرآن حکیم سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے جادو کی شروعات یہودیوں نے کی تھی۔ اگر کوئی مسلمان مرد یا عورت جادو سیکھتا ہے یا کسی پر کرواتا ہے تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اگر وہ اپنی زندگی میں خدا سے سچی توبہ نہ کرے تو قیامت میں اُس کیلئے تباہی اور بربادی لکھ دی گئی ہے۔ جادو کی خواہ کتنی بھی قسمیں ہوں ان کا سیکھنا اورکسی پر کروانا ہر حال میں حرام ہے۔
ہمارے معاشرے کے کچھ افراد زبان سے کلمہ پڑھنے کے باوجود بھی عقیدے کے اتنے کچے ہوتے ہیں کہ وہ حسد، قابت، جلن اور اپنی محرومیوں کا بدلہ ایک خوشحال اور ہنسے بستے گھرانے یا فرد سے اس طرح لیتے ہیں کہ وہ ذہنی اور مالی لحاظ سے تباہ حال اور کنگال ہو کے رہ جاتا ہے۔
یہ بات بالکل درست ہے کہ اس ترقی یافتہ دور میں جبکہ انسان مریخ سے بھی آگے جانے کی سوچ رہا ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے پوری دنیا کو ایک گاؤں کی مانند کمپیوٹر سکرین پر لا کر رکھ دیا ہے، مگر جدید علوم کے ساتھ آج بھی قدیم علوم اتنی ہی قدر رکھتے ہیں جتنی اپنے دور میں رکھتے تھے۔ دینی اور روحانی علوم میں پوری قدرت رکھنا ہرکسی کے بس کی بات نہیں۔ سفلی یا کالا جادو عام طورپر بعض دین سے گمراہ مرد یا عورتیں ’’اپنوں‘‘ کو قابو کرنے یا انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے کرواتے ہیں۔مگر بعد میں جب یہی کالے علم کے شکار ’’مریض‘‘ اﷲ تعالیٰ کے کسی نیک اور پرہیز گار بندے کے پاس پہنچتے ہیں تو وہ اُس شیطانی کالے علم کے اثرات کو ’’مریض‘‘ پر سے بالکل ایسے صاف کر دیتے ہیں، جیسے کوئی مکڑی کاجالا صاف کردے۔یہ حقیقت ہے کہ کالا جادو کیسی ہی خوف ناک تباہی کیوں نہ لائے۔ اﷲ تعالیٰ نیک اور پرہیز گار بندے قرآن مجید کی مدد سے ’’کالے جادو‘‘ کو ختم کر دیتے ہیں۔ بے شک اﷲ کا علم ہی حق اور طاقت ور ترین ہے اور شیطانی علم (کالا جادو) بہرحال ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے، اس لیے کہ وہ باطل ہے۔
اﷲ تعالیٰ کے نیک اور پرہیز گار بندے صوفیائے کرام گلستان اسلام کے وہ مہکتے پھول ہیں جنہوں نے ہر سو محبت کی خوشبوئیں بکھیریں، یہ وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے امن کے دیپ چلائے اور قرآن و سنت کے ذریعے اسلام کا علم بلند کیا۔ تصوف کی راہ وہی شخص پا سکتا ہے جس کے دائیں ہاتھ میں قرآن اور بائیں ہاتھ میں سنت مصطفیؓ ہو اور وہ ان دونوں شمعوں کی روشنی میں قدم بڑھاتا جائے ،صوفیاء کرام علوم قرآن،فقہ، حدیث اور تفسیر میں امام ہوا کرتے ہیں۔ انہی میں سے ایک نام مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور میں رہنے وا لے حضرت سید اسد شاہ صاحب کا بھی ہے جو قرآن و سنت کے روشن راستے پر چلتے ہوئے پاکستانی معاشرے میں جدید دورکے سب سے بڑے فتنے ’’کالے جادو‘‘ کے سحر میں مبتلا لوگوں کو اس لعنت سے فی سبیل اﷲ نجات دلانے کے مشن پر گامزن ہیں۔حضرت سید اسد شاہ صاحب اب تک لاکھوں لوگوں کو فی سبیل اﷲ ’’کالے جادو‘‘ کے سحر سے نجات دلا چکے ہیں۔اس کے علاوہ وہ ملک بھر کے پسے ہوئے، مظلوم، مجبور، بے کس، یتیم اور بے سہارا افراد کی خدمت، مستحقین و نادار افراد کی اعانت و مدد کا فریضہ بھی سر انجام دے رہے ہیں۔حضرت سید اسد شاہ صاحب پاکستانی معاشرے کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ان کی حفاظت اور عمر دراز فرمائے۔ ان کو صحت و تندرستی دے اور ان کا سایہ تادیر مصیبت زدہ لوگوں کے سرپر قائم و دائم رکھے۔(آمین)
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •