Voice of Asia News

تضحیکِ انصاف: عنصر اقبال

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
ساحر لدھیانوی کا یہ شعر دنیا بھر کے مظلوموں کے لیے امید کی کرن سمجھا جاتا ہے۔ لیکن میں اِس سے شدید اختلاف کرنے پر مجبور ہوں یا تو یہ بات سرے سے ہی غلط ہے یا اِس کا اطلاق ہمارے ملک پر نہیں ہوتا۔ ہماری سات دھائیوں پر محیط قومی تاریخ میں ظلم ہر نئے دن کے ساتھ بڑھاہے اور بڑھتا ہی چلاجارہا ہے۔خون مسلسل ٹپکنے کے باوجود جم نہیں پایا۔ شاید پاکستانی خون جمنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔پاکستان چونکہ تبدیلی کی زد میں ہے تو یقینا طریقہِ ظلم بھی تبدیل ہوا ہے۔ پرانے پاکستان کے قیام پر بچوں کو اُن کے والدین کے سامنے قتل کیا گیا جبکہ نئے پاکستان کی قیمت بچوں نے اپنے والدین کو اپنی آنکھوں کے سامنے قتل ہوتیادیکھ کر ادا کی ۔ پرانے پاکستان میں قتل کرنے والے ہمارے دشمن تھے مگر نئے پاکستان میں یہ ذمہ داری ہمارے محافظوں نے لے لی ہے۔ سانحہ ساہیوال کئی ماہ گزارنے کے باوجود انصاف سے محروم ہے۔ مالی امداد اور دیگر حیلے بہانوں سے واقع پر گرد کی دبیز تہہ جمانے کا مکروہ عمل جاری ہے۔مظلوموں کو ظالم گرداننے والی پہلی F.I.Rسے عدالتِ عالیہ کے نوٹس لینے تک فراہمئی انصاف کی رفتار مثالی سست روی کا شکار ہے ۔
میں اپنی تحریر اپنے عزیز اور بے حس ہم وطنوں کے نام کر تا ہوں جو کسی بھی حادثے یا ظلم کواُس وقت تک یاد رکھتے ہیں جب تک اُنھیں یاد دلایا جا سکے۔ یقینا ہمارے حافظے کمزوراور ضمیر بنجر ہوچکے ہیں۔ مزکورہ ظلم پر ہمارے میڈیا نے بھرپور آواز اُٹھائی اور حکمرانوں نے اِس پر مٹی ڈالنے کی بھرپور کوشش کی جس میں وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ کا میاب ہوتے دِکھائی دیتے ہیں۔ سانحہ کی تفصیلات اس قدر دھرائی جاچکی ہیں کہ انھیں تحریر کرنا غیر ضروری ہے۔میں ہرگز یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ ظلم کی پہلی داستان ہے لیکن جانے کیوں ہمارے حکمران اس سانحے پر انصاف فراہم کرنے کی بجائے اسے ماضی کے حکمرانوں کے مظالم کے سامنے چھوٹا ظلم ثابت کرنے پر تُلے ہیں۔ حکومت کا کام ماضی کے غلط کاموں کے پیچھے چھپنا نہیں بلکہ اُن کا تدارک کرنا ہے۔ میری حکومت سے التجا ہے کہ ماضی کے تمام مظالم کا حساب لیا جائے اور حال ہی میں ہونے والے واقعات پر انصاف بہم پہنچایا جائے کیونکہ یہ آپ کا آئینی فرض اور اخلاقی قرض ہے کہ آپ اپنے آپ کو انصاف کی تحریک کہتے ہیں۔ماضی کے تمام حکمران آپ کے شکنجے میں ہیں اور طاقت کے تمام ایوان آپ سے مائل بہ تعاون ہیں۔ستر برس میں ہونے والے تمام مظالم کا حساب لیجئے اور تمام ظالموں کو جنھوں نے ملک لوٹا یا اس کی دولت کواُنھیں کیفرِکردار تک پہنچائیے یہ مظلوم قوم آپ کا بھر پور ساتھ دے گی ۔ وزیرِ اعظم صاحب ظلم آپ کے اپنے دور میں ہوا یا پہلے ادوار میں اُس کا مداوا صرف انصاف ہے۔ خالی اور غیر منا سب وضاحتیں وحشت میں اِضافہ کر تی ہیں اور بادی انظر میں ظلم کی حمایت تصور کی جاتی ہیں ۔صوبائی وزیر قانون کا سرکاری موقف مزید حیران کن ہے کہ سارا خاندان بے گناہ مارا گیا پھر بھی آپریشن درست تھا ۔صرف گاڑی کا دڑائیور گناہگارتھا جسے زندہ گرفتار کرنے کی قطی کوشش نہیں کی گئی ۔ ویسے میری ناقص عقل کے مطابق گناہگار اور بے گناہ کا فیصلہ عدالت کرتی ہے یہ اختیار کسی شخص یا ادارے کو ہر گز تاویض نہیں کیا جا سکتا میرے خیال میں نا تو عدالتی نظام میں اصلاحات کی کوئی ضرورت ہے اور نا ہی فوجی عدالتوں کی یہ تمام اختیارات پولیس کو منتقل کر دینے چاہئیں اس کا ایک فائدہ بہرحال ہوگا انصاف یا ظلم جو بھی ہو فوری ہوگا۔
محترم وزیرِاعظم ہر پاکستانی جان چکا ہے کہ آپ ہمیں نئے پاکستان میں سستا پیڑول ، سستی بجلی ،سستی ادویات تو درکنار عزت کی روٹی بھی مہیا نہیں کر سکتے خداراانصاف تو مہیاکر دیں کیونکہ تحریک انصاف کو تضہیکِ انصاف زیب نہیں دیتی ۔ سانحہ ساہیوال کے ظالموں کو کیفرے کردار تک پہنچاکر حقیقی تحریکِ انصاف کا آغاز کر یں ۔
ّ
ansariqbalpost@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •