Voice of Asia News

بلوچستان کمیشن مافیا کے ظلم کا شکار: محمد قیصر چوہان

 
بلوچستان رقبے اور وسائل کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے وسیع اور مالا مال صوبہ ہے۔ پاکستان کے کل رقبے کا 43فیصد بلوچستان پر مشتمل ہے اور اس کے مختلف شہر پہاڑ صحراء اور وادیاں معدنی ذخیروں سے مالا مال ہیں۔ جغرافیائی طور پر عالمی سیاست میں اس خطے کوبڑی اہمیت حاصل ہے۔750 کلو میٹر ساحلی علاقہ بلوچستان کا حصہ ہے۔ ایران اور افغانستان سے اس کی سرحدیں ملتی ہیں جو اس وقت عالمی طاقتوں کااہم ترین مراکز ہیں۔اس صوبے میں عالمی شہرت یافتہ گوادر پورٹ بھی ہے ۔تاریخی طور پر یہ صوبہ آج بھی ہزاروں سال قدیم قبائلی روایات کا مسکن ہے اور قبائلی سرداروں اور نوابوں کی گرفت اس صوبے پر آج بھی نہایت مستحکم ہے ۔تیل،گیس، کوئلے، سونا اور دوسری قیمتی معدنیات سے مالا مال ہونے کے باوجود اس وقت یہ ملک کا غریب ترین صوبہ ہے۔ صوبے کے دیہی علاقوں میں غربت پاکستان کی اوسط سے تقریباً دگنی ہے۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ وہ گیس جو سوئی سے نکل کر کراچی سے پشاور تک روشنی اور حرارت فراہم کر رہی ہے۔ خود سوئی کی 99 فیصد آبادی اور بلوچستان کی 95 فیصد اس کی روشنی اور تمازت سے محروم ہیں۔
بلوچستان میں پانی صرف 23فیصد آبادی کو دستیاب ہے۔ باقی انسان اور مویشی ایک ہی تالاب سے پانی پیتے ہیں۔ مضر صحت پانی پینے کی وجہ سے جگر، گردے اور دیگر بیماریاں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ بجلی صوبے کے 12 فیصد علاقوں تک پہنچی ہے، 86 فیصد علاقہ بجلی سے محروم ہے۔ بلوچستان میں بڑی آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے۔ اس وقت بلوچستان میں 6554 دیہی آبادیاں صوبے کے 76.1 فیصد رقبے پر محیط ہیں اور شہری رقبہ 23.9 فیصد بنتا ہے۔ 76.1 فیصد رقبے پر رہنے والے زندگی کی بنیادی سہولتوں تعلیم، علاج، روڈ، پانی اور بجلی سے محروم ہیں۔ اسی طرح صوبے میں بے روزگاری کی شرح دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے۔
تعلیم سے محروم بچوں کی سب سے بڑی تعداد بلوچستان میں ہے جہاں 66 فیصد بچے باقاعدہ تعلیمی ادارے میں نہیں جاتے۔صوبائی تعلیم اداروں کی صورتحال اس حد تک خراب ہے کہ وزرائے تعلیم سے لے کر محکمہ تعلیم کے ضلعی آفیسر تک اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں پڑھانے کیلئے تیار نہیں۔ پرائمری تعلیم کی صورتحال مایوس کن ہے۔ صوبے کے 43 فیصد سکول بجلی، 36 فیصد سکول پانی، 35 فیصد سکول واش روم اور 32 فیصد سکول ڈار دیواریوں سے محروم ہیں جبکہ 43 فیصد سکولوں کی عمارتیں اطمینان بخش نہیں۔ صوبے میں 5 ہزار سکول بند اور 6 ہزار سکول سنگل ٹیچر پر چل رہے ہیں۔
صوبے میں صحت کی صورتحال اور زیادہ بری ہے۔ پورے صوبے میں سوائے کوئٹہ کے کسی ضلع میں صحت کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ پورے صوبے میں 407 سپیشلسٹ ڈاکٹرز ہیں لیکن صرف 119 ڈاکٹرز ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ اس وجہ سے وزیرصحت سے لے کر ڈی ایچ او تک کے ذمہ دار ان اپنے بچوں کا سرکاری ہسپتالوں میں علاج نہیں کراتے اوردیہی علاقوں میں موجود سول ڈسپینسریز B.H.U کی حالت اور بھی خراب ہے۔ غریب صوبہ جس کے رہنے والے انسانی زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں وہاں سالانہ سکیورٹی پر 26 ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں لیکن پھر بھی عوام الناس کی جان، مال، عزت و آبرو محفوظ نہیں، خطیر اخراجات خود سرکاری اہلکاروں اور سکیورٹی اداروں کی حفاظت پر خرچ ہو رہے ہیں۔
صوبے کا کسان غیر متوازن زرعی پالیسیوں کے باعث قرضوں کے بوجھ تلے دبتا چلا جا رہا ہے۔ صوبے کا ساحل 750 کلومیٹر پر مشتمل ہے جہاں لاکھوں لوگ ماہی گیری سے وابستہ ہیں۔ وفاق و صوبائی حکومتوں نے ماہی گیروں کے فلاحی کیلئے کوئی جامع پالیسی اب تک ترتیب نہیں دی۔ بلکہ ڈیپ سی ٹرالنگ کیلئے آرڈی نینس کی وجہ سے سمندری حیاتیات کی بڑی تعداد میں نسل کشی ہو رہی ہے اور آج لاکھوں ماہی گیر بے روزگار ہو رہے ہیں، جبکہ صوبائی حکومت کے اندر موجود وزرا محکمہ فشریز میں موجود افسران ٹرالنگ سے ماہانہ کروڑوں بھتہ وصول کر رہے ہیں۔
صوبے میں انفراسٹرکچر بری حالت میں ہے۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی بھی کئی سالوں سے صرف کرپشن کی بناء پر نہیں ہو پائی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 66 فیصد کرپشن ہوتی ہے۔ کمیشن خوری کا عالم یہ ہے کہ صوبے میں سرکاری تعمیر کے ذریعے ایک کمرہ 14 لاکھ روپے میں بنتا ہے لیکن عملی طور پر ایک کمرے پر 30 فیصد رقم خرچ ہوتی ہے، باقی عوام نمائندوں، ٹھیکے داروں اور افسران کی کمیشن خوری کی نذر ہو جاتی ہے۔افسوسناک بات یہ کہ غیر ترقیاتی بجٹ صوبے کا تقریباً 50 فیصد حکمرانوں کی شاہ خرچیوں پر خرچ ہوتا ہے۔ یہاں کے حکمرانوں وزیراعلیٰ ہاؤس، گورنر ہاؤس، وزرا کے ہاؤسز، بیورو کریسی، افسران کے طور طریقے، رہن سہن، طرز زندگی، شاہانہ اخراجات اور جشن کے پروگرامات اسلام آباد کے حکمرانوں سے کم نہیں ہے۔ جس صوبے کے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہوں وہاں یہ شاہانہ ٹھاٹ باٹ زیب نہیں دیتے۔
یہ اس صوبے کی داستان ہے جہاں طویل ساحل ہوں، سونا چاندی کے وسیع ذخائر اور کوئلے کے خزانے کے علاوہ گوادر پورٹ موجودہے۔ ملک کے دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان بھی کرپشن و کمیشن مافیا کے ظلم و ستم کا شکار ہے۔ بلوچستان جو کہ وسائل اور ذخائر ساحل سے مالا مال مگر غربت، بے روزگاری، صحت، تعلیم اور دیگر سہولیات ناپید رہیں دور دراز علاقوں کو چھوڑ دیں۔ صوبائی دارالحکومت اور گوادر میں پینے کا پانی ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ بلوچستان کے مظلوم عوام، غریب اوربنیادی سہولیات سے محروم عوام کے نام پر سیاست تو چمکائی جارہی ہے لیکن بلوچستان کے مسائل حل کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا۔ لہٰذا نوجوانوں، صحافیوں، طلبہ، طالبات، خواتین، علمائے کرام، مدارس و سکولز کے طلبہ، ملازمین، آفیسرز، اساتذہ کرام، موثر افراد، سیاسی ورکرز کو اپنے حقوق کیلئے متحد ہونا پڑے گا۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •