Voice of Asia News

پانچ جولائی یومِ سیاہ منائیں گے مگر ایسے نہیں ۔ محمد نوازطاہر

سورج سر پر ہو اورہر طرف اندھیرا قراردیا جائے تو تو نتیجہ کیا برآمد ہوگا؟ جو جو سنے گا ، ہنسے گا اور پاگل قراردے گا حالانکہ ایسا ہرگز نہیں جبکہ حقیقت بھی ہے۔ ایسا ہوتا ہے اور ماننا پڑتا ہے ، پھر ایسا وقت بھی آتا ہے جب پاگل قراردینے والے چیخ چیخ کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ جی ہاں !میں سر پر سورج اٹھائے اندھیرے میں ہوں اور پھر پہلے قراردیا جانے والا پاگل کہتا ہے کہ دیکھو یہ پاگل بن کر دوسروں کو پاگل اور بے قوقف بنا رہا ہے یا بیوقوف بنانے کی کوشش کررہا ہے لیکن وہ شخص چلا چلا کر کہتا ہے کہ نہیں، میری بات غور سے سنو ! جب میں اور میرے جیسے دوسروں کو پاگل کہتے تھے تب ہم پاگل تھے ۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پانچ جولائی وہ دن ہے جب سورج سر پر اٹھائے روشنی دکھانے والے بھی کہہ رہے تھے کہ اندھیرا ہے ، ہر طرف اندھیرا ۔۔۔ تو جو لوگ انہیں پاگل قراردے رہے تھے ، اب وہ اور ان کے روحانی’ نطفے خود چیخ چیخ کر باور کروا رہے ہیں کہ پانچ جولائی سیاہ دن ہے ، وہ دن نہیں تھا دن میں کالی رات تھی ۔ ‘
پانچ جولائی سن انیس سو ستتر کو جب جنرل ضیاء نے منتخب وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو کا تختہ الٹا ، انہیں گرفتار کیا تو جمہوریت پسندوں نے اسے جمہوریت کا قتل اور پانچ جولائی کو سیاہ دن قراردیا ۔جب تک جنرل ضیاء کے طیارے کا حادثہ نہیں ہوا، تب تک تمام جمہوریت پسند پانچ جولائی کو یامِ سیاہ کے طور پر مناتے رہے لیکن اس حادثے کے بعد یومِ سیاہ صرف پیپلز پارٹی نے منایا اور اب بھی منارہی ہے ۔ یہ غور طلب بات ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ یومِ سیاہ منانے والے اب کیوں ایسا نہیں کرتے ؟ ایک جواب تو یہ ہوسکتا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی سے نالاں ہوئے ؟ اگر ایسا ہی تو کیا پہلے وہ پیپلز ارٹی کی وجہ سے پانچ جولائی کو یومِ سیاہ قراردیتے تھے ؟ آمر کی آمریت اور جمہوریت کے قتل پر نہیں مناتے تھے ؟ اگر پیپلز پارٹی سے ناراضگی کا معاملہ نہیں تھا تو پھر اب کیوں نہیں مناتے یا خاموشی سے دل میں ہی جنرل ضیاء کے اقدام کو بڑا قراردے کر اپنے پرانے موقف کی تجدیدکرلیتے ہیں ؟ ایسے کئی چہرے زندہ ہیں اور جو زمیں تلے ہیں ان کے کردار زندہ ہیں کہ انہوں نے جنرل ضیاء کے طیارے کے حادثے کے بعد ضیائی قوتوں کا ساتھ بھی دیا ۔ کیا اس کا یہ مطلب لیا جاسکتا ہے کہ ان کے نزدیک جمہوریت ، مفاد پرستی اورآمریت میں کوئی فرق نہیں بلکہ ان کا موقف برائے وقتی ضرورت تھا ۔۔
پیپلز پارٹی کے بانی کا جسدِ خاکی کاک ہونے کے بعد جب اس جماعت کی سربراہ نے باپ کی ’ڈرائیونگ‘ سیٹ سنبھالی تو جمہوریت کی گاڑی پر ایسے مسافروں کی تعداد زیادہ دکھائی دی جو اس گاڑی کو دلدل میں دھکیلنے والے تھے اور دھکا لگا کر دلدل سے گاڑی نکالنے والوں کو اس گاڑی سے اتروا کر خود ان کی سیٹوں پر براجمان تھے ، پھر ان مسافروں کی تعداد بڑھتی گئی ، حقیقی مسافر کم ہوتے ،کم و بیش نظر نہ آنے والی تعداد میں رہ گئے اور وہ وقت بھی آیا جب ڈرائیور خود بھی نہ رہا اور یہ گاڑی نئے ڈرائیور کے پاس چلی گئی ، جس نے گاڑی پر نیا رنگ روغن کروایا لیا ، اس گاڑی پر لکھے کچھ شعر اور، محاورے ، جملے بدل ڈالے جس سے بورڈ ہی بدلا ہوا نظر آتا ہے ۔ اسی دوران کچھ ایسے’ کمالات‘ بھی ہوئے یا کئے گئے کہ تاریخ کے ساتھ تاریخ کو متصادم کیا جائے مثلا! جنرل ضیاء کی جماعت مسلم لیگ ن کے ایک کارکن جاوید اشرف کا ذوالفقار علی بھٹو کی برسی والے دن قتل ہونا ، اس کے بعد ایک طرف پیپلز پارٹی شہیدِ جمہوریت کا دن مناتی تو دوسری جانب ن لیگ جاوید اشرف کی برسی پر یومِ جمہوریت مناتی ، ایسا وقت بھی آیا کہ جن لوگوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دلوائی انہوں نے جمہوریت کی ’’بقا ‘ کے لئے اسلامی جمہوری اتحاد بھی بنایا جسے ایک آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کے اعتراف اور عدالت میں اصغر خاں کیس کے بعد’’ آئی ایس آئی‘‘ اتحاد کے طور پر جانا جانے لگا۔ جنرل حمید گُل نے جمہوریت کو بچانے کے لئے ’تن من دھن ‘ کی’ بازی‘ لگائی جس کے نتیجے میں جمہوریت پر شب خون مارے جانے والے پانچ جولائی کو جمہوریت کا قتل قراردینے والے غلام مصطفیٰ جتوئی ، انہی’ قاتلوں ‘ کی محبت سے وزیراعظم بنے جبکہ بھٹو کے بدترین سیاسی مخالف ایئر مارشل اصغر خان بھٹو کی بیٹی ے حلیف بنے ۔
تاریخ کو تاریخ سے متصادم بنا کر پرانے ایشوز دھندلانے کے کئی واقعات رونما ’ہو‘ جاتے ہیں ، جنرل ضیاء کی جماعت ن لیگ نے بورہ اکتوبر کو سیاہ دن منانا شروع کردیا ، اس روز جنرل ضیاء کا لباس اور ’’کھال‘ جنرل مشرف نے پہن کر نوازشریف کی حکوت کا تختہ کیا تھا ، یعنی تختہ کرنے والے کے سیاسی بیٹے کا اقتدار کا تختہ ہوگیا ۔
برسبیلِ تذکرہ ، سولہ دسمر سقوطِ ڈھاکہ کے طور پر منایا جاتا ہے ، اسی روز آرمی پبلک سکول کا سانحہ رونما ہوا تو اب اس سانحہ کے حوالے سے’ خاص دن‘ منایا جاتا ہے اور سقوطِ ڈھاکہ کہیں بہت پیچھے چلاگیا ہے ، اس کی ایک وجہ شائد یہ ہوسکتی ے کہ جو لوگ سولہ دسمبر سقوطِ ڈھاکہ مناتے تھے ، ان کی سوچ بدل گئی ، یا وہ آہستہ اہستہ ختم ہوگئے ، یا سقوطاª ڈھاکہ کو بنگلہ دیش کی آزادی منانا مناسب خیا کیا جاتا ہے اور یہ باور کروانا غیر مناسب سمجھا جاتا ہے کہ سولہ دسمبر ہماری دفاعی شکست کا دن ، بھارت کی سیاسی کامیابی کادن ہے اور اسے نئی نسل کے ذہنوں سے ’دور‘ رکھنا زیادہ مناسب ہے ۔ وقت کیسے خود کو مناتا ہے ، اس کا اندازہ اب اخبارات میں شائع ہونے والی تصاویر اور ٹی وی چینلز کے سکرینوں سے ہوتا ہے ۔ ان تصویروں میں جنرل ضیاء کی جماعت مسلم لیگ ن اور ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت پیپلز پارٹی کے ’رہنما‘ ایک ساتھ بیٹھے دکھائی دیتے ہیں ۔یہ کیسے ہوگیا جنہیں پاگل کہا جاتا تھا م جو پاگل کہنے والے تھے وہ انہی پاگلوں کے ساتھ بیٹھے کہتے ہیں کہ ہمیں بھی پاگل کیا جائے ۔۔۔؟ کیسے کہا جائے ؟
ایسا کیا ؟ موجودہ سیاسی جمہوری رہنما اس کی کوئی مفاہمانہ ، ڈپلومیٹک تاویل پیش کرسکتے ہیں لیکن حقیت یہ ہے یہ ایک طرح کا انتقام ہے جو وقت خود لیتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے کارکن ، جمہوریت پسند پرانے سیاسی کا رکن اب ان مشترکہ تصویروں کو دیکھ کر ’انجوائے ‘ کرتے ہیں لیکن حقیت یہ بھی ہے کہ خود پیپلز پارٹی بھی اب یومِِ سیاہ اس طرح نہیں مناتی جیسے منا یا جانا چاہئے ، جبھی تو وقت نے جمہوریت کے قاتلوں کی سیاسی نسل اور جمہوریت کے شہدا کی وراثت لینے والے ایک’ شاخ ‘ پر دکھائی دئے ہیں ۔
عام آدمی ، جمہورت پسند ابھی بھی پُر امید ہے کہ جمہورت کی شاخیں تو ہری ہونگی ، تناور بھی، لیکن ’مہاجر‘ پرندے نہیں بیٹھے ہوں گے ۔تب پانچ جولائی کو ایسے زوردار طریقے سے منایا جایا کرے گا کہ دوبارہ کوئی ایسا پانچ جولائی نہیں آئے گا جب کوئی سر پر سورج اٹھائے کہہ رہا ہو کہ دیکھو میرے سر پر سورج لیکن ہر طرف اندھیرا ہے ، رات بھی اندھیرے نہیں
دکھائے گی ، طلوعِ سحر کی نوید سنایا کرے گی ۔

reporter2reporter@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •