Voice of Asia News

شوگر کے مریضوں کے لیے غذائی حکمت عملی

لاہور(وائس آف ایشیاخصوصی رپورٹ میمونہ عزیز)شوگر کے مریضوں کے لیے غذائی حکمت عملی یہ ہے کہ انہیں بہر طور متوازن غذا ملے اور متوازن غذا کا مطلب یہ ہے کہ انہیں کاربو ہائیڈریٹس، پروٹین، چکنائی، وٹامنز، معدنی اجزاء وغیرہ کی مناسب مقدار یقینی طور پر روزانہ ملتی رہے۔ علاوہ ازیں غذائی حکمت عملی کے تحت انہیں اس قدر کیلوریز ملتی رہیں ، جومتعلقہ فرد کی عمر، جنس اور روز مرہ جسمانی سرگرمیوں کے مطابق ہو۔ شوگر کے مریضوں کی غذا میں ردو بدل بنیادی طور پر کاربوہائیڈریٹس کے روزانہ حصوں میں کیا جاتا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ ان کی مطلوبہ مقدار دن بھر کے کھانے میں اس طرح مساوی تقسیم ہو کہ مریض کے میٹا بولک نظام پر بھی بوجھ نہ پڑے اور گلوکوز کی ضروری مقدار میں بھی کمی نہ آئے۔ معمول کے مطابق جب ہم کاربوہائیڈریٹس ہضم کرتے ہیں تو سب سے پہلے وہ ٹوٹ پھوٹ کر گلوکوز میں تبدیل ہوتے ہیں اور پھر دماغ اور جسم کے دیگر حصولکے استعمال میں آتے ہیں۔ اضافی کاربوہائیڈریٹس کو گلائی کو جن میں تبدیل کرکے بعد میں استعمال میں لانے کے لیے جسم ذخیرہ کرلیتا ہے۔

شوگر کے مریض کاربو ہائیڈریٹس کو اس طرح استعمال میں لانے کی اہلیت نہیں رکھتے کیونکہ اس عمل کے لیے انسولین کی ضرورت ہوتی ہے اور شوگر کے مریض مناسب مقدار میں انسولین پیدا نہیں کررہے ہوتے۔ چنانچہ ایسے مریضوں کے خلیے گلوکوز کو جذب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اگر کسی ایک کھانے میں کاربو ہائیڈریٹس زیادہ مقدار میں کھا لیے جائیں تو بلڈ شوگر لیول بڑھ جاتا ہے اور کچھ گلوکوز پیشاب میں خارج ہونے لگتا ہے۔

شوگر کے مریضوں کے کھانوں میں ایسی غذائیں شامل کرنے پر توجہ دی جاتی ہے جو کاربوہائیڈریٹس کی زیادہ مقدار پر مشتمل نہ ہوں۔ کاربوہائیڈریٹس سادہ یا پیچیدہ اقسام کے ہوتے ہیں لیکن تمام کاربوہائیڈریٹس ایک، دو یا مختلف شوگر مالیکیولز سے بنے ہوتے ہیں۔ ان مالیکیولز کا باہمی تعلق جتنا چھوٹا ہوتا ہے وہ اسی تیزی سے جسم میں جذب ہوجاتے ہیں۔ پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس کے مالیکیولز آپس میں لمبے تعلق سے جڑے ہوتے ہیں چنانچہ ان کی ٹوٹ پھوٹ اور انجذاب سادہ کاربوہائیڈریٹس کے برعکس آہستہ، سست اور بتدریج ہوتا ہے۔ چونکہ یہ کاربوہائیڈریٹس اپنے شکری اجزاء خون میں آہتہ آہستہ شامل کرتے ہیں اس لیے انگریزی میں انہیں ‘‘سلو ریلیزنگ’’ کاربوہائیڈریٹس کہا جاتا ہے۔ ان کے برعکس سادہ کاربوہائیڈریٹس کو ہضم ہونے میں بہت کم وقت لگتا ہے اور وہ تیزی سے گلوکوز میں تبدیل ہوجاتے ہیں چنانچہ ان کے استعمال سے بلڈ گلوکوز لیول تیزی سے بڑھجاتاہے۔ اسی لیے انہیں ، فاسٹ ریلیزنگ کاربوہائیڈریٹسکہتے ہیں۔

شوگر کے مریضوں میں گلوکوز کے انجذاب کانظام خلل کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس لیے متعلقہ پیچیدگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ‘‘سلو ریلیزنگ’’ یا پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس روز مرہ غذاؤں میں دیے جاتے ہیں۔ جہاں تک ممکن ہوتا ہے انہیں فاسٹ ریلیزنگ یا سادہ کاربوہائیڈریٹس سے دور رکھا جاتا ہے۔

کوئی ایک غذا فاسٹ ریلیزنگ ہے یا سلو ریلیزنگ، اس بات کا انحصار متعدد دوسرے عوامل کے ساتھ ساتھ شوگر کی اس قسم پر بھی ہے جو اس غذا میں پائی جاتی ہے۔ اس میں موجود غذائی ریشہ شوگر کے اخراج کو سست بنا دیتا ہے۔ چنانچہ یہی خوبی مکمل غذاؤں کو پسی ہوئی غذاؤں کی نسبت بہتر انتخاب بناتی ہے۔ تازہ پھل جن میں غذائی ریشہ بھی ہوتا ہے اسی لیے جوسز کی نسبت بہتر غذا قرار دیے جاتے ہیں۔ پروٹین کی موجودگی بھی غذاؤں کو گلائی کیمک انڈیکس میں کم اسکور دلاتی ہے۔ مسور اور دیگر دالوں کے ساتھ ساتھ پھلیاں بھی پروٹین اور ریشہ رکھتی ہیں۔ مختصر ترین بات یہ ہے کہ شوگر کے مریض کو درپیش پیچیدگیاں غذائی حکمت عملی سے روکی یا کم از کم قابو میں رکھیجاسکتیہیں۔

غذائی منصوبہ یا حکمت عملی کا انحصار مرض کے ٹائب پر ہے۔ ٹائپ1 کے مریض کو انسولین کا انجیکشن لینا پڑتا ہے۔ اس لیے مطلوبہ انسولین کی مقدار اور قسم آپ کی رہنمائی کرتی ہیں کہ کس طرح غذائیں روز مرہ کے کھانوں میں شامل کی جائیں۔ اس کے برعکس ٹائپ 2 کے مریض کی خوراک اتنی احتیاط کا تقاضا نہیں کرتی۔ چنانچہ غذائی حکمت عملی مرتب کرتے ہوئے شوگر کے مرض کا ٹائپ مدنظر رکھا جائے۔

شوگر اور ڈپریشن

شوگر کو کنٹرول کرنے میں کئی دشواریاں اور رکاوٹیں آتی ہیں جن کی وجہ سے بعض اوقات ڈاکٹر اور مریض دونوں ہی پریشان ہو جاتے ہیں۔ شوگر کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک منظم طریقہ علاج ،جس میں حیاتیاتی ، سماجی اور نفسیاتی پہلوؤں کو مد نظر رکھا جائے تو مریض اور معالج کی پریشانی میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ شوگر ایک مزمن بیماری ہے جس میں مبتلا ہو کر مریض کو تا آخر عمر ادویات کا استعمال کرنے کے علاوہ باقاعدہ آزمائشات سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ بیماری جسم کے ہر ریشہ اور خلیہ کو چیلنج کرتی ہے۔

اس بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد مریض کی زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہوتا ہے، اس کی جسمانی، ذہنی اور نفسیانی صحت پر اثر پڑتا ہے اور پھر اس کے لیے عمر بھر ڈھیر ساری دوائیاں، غذائی پابندیاں ، اضافی ورزش ، بار بار ٹیسٹ کرنا ، بار بار ڈاکٹروں کے پاس حاضری دینا جیسے مسائل بوجھ بن جاتے ہیں ۔مریض کے لیے ایک اور چیلنج یہ ہوتا ہے کہ اسے یہ ساری تبدیلیاں اپنی روز مرہ زندگی کے معمولات میں شامل کرنا پڑتی ہیں ۔ ان تبدیلیوں پر مریض کے خاندانی پس منظر ، سماجی، اقتصادی و نفسیاتی حالات کا گہرااثرپڑتا ہے ۔

شوگر کے کامیاب علاج کے لئے ضروری ہے کہ معالج مریض کے نفسیاتی پہلوؤں پر نظر رکھے۔ اگر علاج کے دوران ان پہلوؤں کا فہم نہیں ہے تو معالج اور مریض دونوں نا امیدی ،پریشانی ، ذہنی دباؤ، بے ترتیبی ، غصہ اور تھکاوٹ کے شکار ہو سکتے ہیں۔ ان علامات سے یہ احساسِ کہ‘‘ کچھ نہیں ہو سکتا ہے ’’ کا غلبہ ہوسکتا ہے اور یہ احساس معالج اور مریض کے حرکات و سکنات، آنکھوں کے اشاروں یا غیر مبہم الفاظ سے واضح ہوتا ہے۔ اکثر مریض اس موڑ پر شدید ڈپریشن میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں ۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •