Voice of Asia News

آئی ایم ایف پیکج کے تحت اگست میں بجلی مزید مہنگی کی جائے گی

اسلام آباد( وائس آف ایشیا) عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کو اپنی معیشت کی بہتری کے لئے پچیس ارب ڈالرز کی ضرورت ہے، پاکستان کو آئندہ ماہ بجلی کے ریٹس اڑھائی روپے فی یونٹ بڑھانا ہوں گے. پاکستان کی معیشت پر آئی ایم ایف نے نئی رپورٹ جاری کر دی جس کے مطابق پارلیمنٹ کو بتایا گیا کہ 516 ارب روپے کے ٹیکس لگائے گئے ہیں جو حقیقت میں 733 ارب 50 کروڑ روپے ہیں.رپورٹ کے مطابق بجلی کی قیمت کا نیا ٹیرف اگست 2019 میں جاری کیا جائے گا،نیپرا 2020 کے بجلی ٹیرف کا اعلان ستمبر 2019 میں طے کرے گا،نیپرا کی خود مختاری کا بل دسمبر 2019 میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا.پاکستان گیس سیکٹر کے واجبات کی وصولی یقینی بنائے گا،گیس واجبات کی وصولی کا پلان ستمبر 2019 میں پیش کیا جائے گا ،اوگرا کی خود مختاری کا ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا.آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ٹیکس مراعات اور چھوٹ ختم کرنے، رئیل اسٹیٹ سیکٹر او زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے‘پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے 27 نکات پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا. آئی ایم ایف کے مطابق مئی سے کرنسی کی شرح تبادلہ مارکیٹ طے کر رہی ہے لیکن اسٹیٹ بینک اسے ماننے کو تیار نہیں،آئی ایم ایف کا پیکیج مکمل ہونے تک پاکستان کوئی اسکیم نہیں لاسکے گا،پاکستان کوستمبرتک 1 ہزار ارب روپے کے ٹیکسزجمع کرنے ہونگے.آئی ایم ایف کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں مستقبل قریب میں سخت ٹیکسز کا نفاذ ہونے جارہا ہے جس میں رواں برس 15 کھرب 60 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگائے جائیں گے. جس کے بعد آئندہ برس 15 کھرب کے مزید ٹیکسز اور اس کے بعد آنے والے سال میں 13 کھرب 10 ارب روپے کے ٹیکسز لگائے جائیں گے‘آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے سمجھوتے پر مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے بھی دستخط کیے جس کی رو سے اگست کے مہینے کے دوران ایک مرتبہ پھر بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا۔علاوہ ازیں آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت صوبے 13 کھرب روپے قومی مالیاتی کمیشن کو واپس کرنے کے بھی پابند ہیں‘دستاویز میں لگائے گئے تخمینوں کے مطابق حکام نے ایف بی آر سے رواں برس اکٹھا ہونے والے ٹیکس کو گزشتہ برس کے 39 کھرب 40 ارب روپے سے بڑھا کر 55 کھرب کرنے کا وعدہ کیا ہے جو 24-2023 تک 100 کھرب 50 ارب تک پہنچ جائیں گے. یوں اکھٹے ہونے والے ٹیکسز میں 5 سال کے دوران 65 کھرب 64 ارب روپے کا اضافہ ہوگا اس طرح مجموعی ملکی پیداوار میں ٹیکسز کی شرح رواں برس 10.4 فیصد سے بڑھ کر 15.3 فیصد ہوجائے گی.آئی ایم ایف دستاویزت کے مطاق چین پاکستان کا سب سے بڑا قرض دہندہ ہے جبکہ 85 ارب 48 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے مجموعی غیر ملکی قرض، حکومت اخراجات میں ایک چوتھائی سے کچھ زائد یعنی 21 ارب 35 کروڑ 90 لاکھ ڈالر چینی قرضہ ہے. آئی ایم ایف پروگرام کے اختتام تک پاکستان کو غیر ملکی قرض میں سے 37 ارب 35 کروڑ 90 لاکھ ڈالر واپس کرنے ہیں جس میں سے 40 فیصد یعنی 14 ارب 68 کروڑ 20 لاکھ ڈالر چین کو ادا کیے جائیں گے.اس طرح آئی ایم ایف پروگرام ختم ہونے تک چین سے کمرشل بنیاد پر لیا گیا قرض صفر تک لانا ہوگا جبکہ دو طرفہ بنیاد پر لیے گئے قرض 15 ارب 15 کروڑ 50 ارب ڈالر سے کم کر کے 7 ارب 94 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کرنا ہوگا. حکام نے اس بات پر بھی رضا مندی کا اظہار کیا ہے کہ وہ ٹیکس نظام میں ترجیحی سہولیات اور ٹیکس استثنیٰ کو واپس لیں گے اور وقت کے ساتھ ٹیکس بیس کو بڑھایا جائے گا اور جنرل سیلز ٹیکس کو براڈ ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) میں بدل دیا جائے گا.حکام نے بتایا کہ ادویات اور بنیادی خوراک کے علاوہ جنرل سیلز ٹیکس میں دیا گیا استثنیٰ مستقبل قریب میں واپس لے لیے جائے گا، جی ایس ٹی کے حوالے سے فائلنگ کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور عملدرآمد پر اضافے کے لیے بین الصوبائی ہم آہنگی اور تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
وائس آف ایشیا09جولائی 2019 خبر نمبر89

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •