’’ رونا بھی، لڑنا بھی ،مرنا بھی ، آگے بڑھنا بھی ۔ محمد نوازطاہر

ملک میں تبدیلی کے نعرے سے تبدیل ہونے والی حکومت کے ایک سال سے کم عرصے میں ہر طرف مہنگائی اور بے روزگاری پر واویلا کیا جارہا ہے ۔ عام آدمی کے معاشی بدحالی، سماجی بہتری، انصاف کی جلد فراہمی ، پولیس اصلاحات ، سستی تعلیم کے خواب چکنا چور ہوئے ہیں ، حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے حامی بھی واویلہ بلکہ بعض تو بددعائیں دیتے نظر آتے ہیں ، مخالفین سیاسی انتقام کی دہائی دے رہے ہیں ، دیگر شعبوں کی طرح ذرائع ابلاغ کے کارکن بھی بُری طرح متاثر ہوئے ہیں ، میڈیا کارکنوں کی بڑے پیمانے پر بے روزگاری سے پیدا ہونے والے ہیجان کے دوران اخباری کارکنوں اور صحافیوں کی نمائندہ تنظیموں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ( پی ایف یو جے ) اور آل پاکستان نیوز پیپرز ایمپلائیز کنفیڈریشن ( ایپنک) کا سہ روزہ اجلاس اسلام آباد میں ہوا ۔ خیال کیا جارہا تھا ک میڈیا مالکان اس اجلاس سے پہلے اس تنظیم کو توڑنے کے لئے اپنے خاص کارندوں کی مدد سے ایک اور حملہ کریں گے لیکن اس حملے سے پہلے کارکنوں کو ایک دوسری قسم کے حملے کا مقابلہ کرنا پڑ گیا ، یہ ’حملہ ‘ ٹی وی چینلز کے اینکرز کو بعض امور پر پوچھ گچھ کے نام پر ہراساں کرنے اور سابق صدر آصف زرداری کے انٹرویو کی نشریات روکنا تھا ۔ اس طرح کارکنوں اور مالکان کے معاملات کے ساتھ ساتھ دونوں نمائندہ تنظیموں کو کارکنوں کے معاشی معاملات کے ساتھ ساتھ آزادی صحافت کو بھی ایجنڈے کا حصہ بنانا پڑا۔
میں تین روزہ اجلاس کی ساری کارروائی کا حصہ نہیں تھا، دو روزہ اجلاس کے کچھ حصے کی کارروائی کا حصہ بنا اور خود کوجذباتی بلیک میلنگ کے سامنے بے بس پایا ۔ اس جذباتی بلیک میلنگ کا پی ایف یو جے کا دستور بنتا ہے جو ہمارے اکابرین نے سنہ انیس سو پچاس میں بنایا تھا اور میں کارکنوں کا نصب العین ملک میں آزادی اظہارِ رائے کے حق کا تحفظ بھی اسی طرح یقینی بنانے کیلئے جدوجہد لازم قراردی گئی ہے جس طرح کارکنوں کے معاشی حقوق کے لئے ۔ ان دونوں حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے کارکنوں نے معاشی قربانی کے ساتھ ساتھ جسمانی قربانی بھی دی ہے ۔ جیلیں جھلیں اور کوڑے کھائے ، فاقے گلے لگائے ، اپنی نسل تعلیم ِ اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں اور حقوق سے محروم رکھی ۔
پی ایف یو جے کی ایگزیکیٹو کونسل کے اجلاس میں جب فریڈم آف پریس اور کارکنوں کے معاشی حالات پر بحث ہوئی تو نوے فیصد رائے کارکنوں کے حقوق کے لئے تحریک چلانے کے حق میں تھی جبکہ دس فیصد کا خیال تھا کہ فریڈم آف پریس بھی ہمارا بنیادی ایشو ہے ۔ یہ بحث جاری تھی اور تقریباً طے ہوچکا تھا کہ کارکنوں کے مفادات کو اولین ترجیح رکھا جائے گا اور فریڈم آف پریس کے تحفظ کے لئے بھی کردار ادا کیا جائے گا ، اس ضمن میں سیمینار ، مذاکرے اور کانفرنسز کی جائیں جن میں ہر طبقہ فکر کو مدعو کیا جائے ، اس رائے کو بھی اہمیت دی گئی کہ میڈیا مالکان اور حکومتی یا دیگر گروپوں کی ’لڑائی‘ میں کارکنوں کو بلا وجہ جھونکا نہ جائے بلکہ کارکنوں کے مفادات پر فوکس کیا جائے ، اسی دوران ملک کی سابق حکمران جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی کے فرحت اﷲ بابر ، مریم اورنگزیب کے ساتھ مسلم لیگ ن کے شاہد خاقان عباسی بھی اظہارِ خیال کے لئے پہنچ گئے ، ۔ان دونوں جماعتوں کے قائدین کو باور کرایا گیا کہ انہوں نے اپنے ادوار حکومت میں کارکنوں کے تحفظ کے لئے کوئی ایسا کام( قانون سازی ) نہیں کیا جس کی بنا پر ان کی تحسین کی جاسکے ، اس کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا ، خاص طور پر مسلم لیگ ن کے دونوں قائدین کے پس کوئی جوابن نہیں تھا کہ میاں نوازشریف نے ایک بار بھی میڈیا کارکنوں کے حقیقی نمائندوں نمائندہ سے ملاقات نہیں کی بلکہ ایسے لوگوں اور خوشامدیوں کے حصار میں رہے جن کے بارے میں کہا جاتا رہا کہ کشتی ڈوبنے سے پہلے سب سے پہلے یہی ’روحیں ‘ چھلانگ لگائیں گی اور شاہی گواہ بھی بنیں گی ۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی کے فرحت اﷲ بابر کا کہنا تھا کہ مذاحمتی سیاست کے ساتھ ساتھ مذاحمتی صحافت بھی ختم ہوچکی ہے ، حکومتی معاملات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ گاڑی کے ڈرائیور کے بجائے پچھلے ڈبوں میں بیٹھے لوگ کنٹرول کررہے ہیں تو اس گاڑی کا خوفناک حادثے سے دوچار ہونا لازم ہے، انہوں نے کارکنوں کو یقین دہانی کروائی کہ کسی یونیفارم پالیسی ،جدوجہد ، جنگ میں پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہوگی ۔ مسلم لیگ ن کے شاہد خقان عباسی کا کہنا تھا کہ جمہوریت کاپہلا دفاع صحافت ہے،جمہوریت پر پہلا وار صحافت پر وار ہوتا ہے ،میڈیا کو دبانے سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے ، حکمران میڈیا کو دبا لیں گے، یہ ممکن نہیں ۔
دونوں جماعتوں کے قائدئین نے آزادی صحافت کے تحفظ کے لئے ملک گیر آگہی کانفرنسز کا مشورہ بھی دیا ۔پی ایف یو جے کا موقف بڑا واضح تھا کہ پی ایف یو جے نے پارٹی پرچم کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا ہوتا بلکہ سول ، غیر سول آمرانہ اقدامات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ مریم اورنگزیب نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا لیکن میری دلچسپی ختم ہوچکی تھی کہ دونوں جماعتوں نے کارکنوں کونظر انداز کیا ، فریڈم آف پریس اور کارکنوں کے معاشی تحفظ کے لئے کوئی جامع قانون سازی نہیں کی تو میں ان کے مشورے کس لئے سنوں ؟ ان کے مشوروں پر تحریک چلاؤں ؟ ننگے بدن خالی پیٹ شدید گرمی میں تپتی سڑکوں پر نکلوں جبکہ انہیں اور ان کے قائدین کو ائیر کنڈیشنرز میں بھی گرمی لگتی ہے ، میں دیکھ رہا تھا کہ کانفرنس ہال میں بھی خالی مریم اورنگزیب کا مہنگا میک اپ ڈسٹرب ہورہا تھا جبکہ انہیں لمحوں میں ہماری ساتھی کارکن پسینے سے شرابور تھیں ، ان کے چہروں پر روزگار چھن جانے کے خوف کے سائے نمایاں تھے ؟ جن کا روزگار چھن چکا ، ان چہروں پر اداسی تھی ، اور منتظر تھیں کہ ان کے نمائندے ان کے روزگار کے تحفظ کیلئے کیا لائحہ عمل بناتے ہیں ، تو مجھے مریم اورنگزیب سے کیا دلچسپی ہوتی ۔
سیاسی قائدین اپنے مشورے دیکر چلے گئے ، کارکنوں نے پھر سے اپنے مسائل کی طرف توجہ دی ، اس بحث کے دوران خاص نکتہ یہ رہا کہ میڈیا مالکان نے کارکنوں کو بے روزگار کرکے مجموعی طور پر اپنی ہی فورس میں کمی کی ہے کیونکہ جب بھی میڈیا پر ریاستی دباؤ آیا تو اس کا مقابلہ کارکنوں نے ہی کیا ، اب جو کارکن بے روزگار ہوچکے ہیں وہ بھلا صحافت کی آزادی کے لئے سڑکوں پر کیوں نکلیں گے ؟ جبکہ اس آزادی سے کارکنوں کو کچھ حاصل نہیں ہوا ماسوائے اس کے انہوں نے اپنا فرض ادا کیا اور فرض کی اس ادائیگی کے بعد خود ہی معاشی طور پر قتل ہوگئے ، اجلاس کے دوران اینکرز پرسنز کے رویئے بھی زیر بحث رہے اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ صحافتی فرائض کی انجام دہی کے دوران کسی پر ڈالا جانے والا دباؤ تو قابلِ مذمت ہے لیکن سوشل میڈیا پر کسی کی ذاتی رائے یا لڑا ئی پر کسی ’ سخت‘ ردِ عمل کو صحافتی آزادی پر حملہ قرار نہیں دیا جاسکتا ۔
سہ روزہ اجلاس ختم ہوچکا ، آگہی کانفرنسز اور سولہ جولائی کو کارکنوں کے معاشی حقوق کے تحفظ اور فریڈم آف پریس کیلئے ملک گیر یومِسیاہ منانے کا فیصلہ بھی ہوچکا ، اجلاس میں ہونے والی کارروائی پر مختلف گروپوں اور حلقوں میں بحث جاری ہے ، اس بحث میں اس بات پراتفاقِ رائے پایا جارہا ہے کہ جس طرح ماضی میں پی ایف یو جے اور ایپنک مطالبہ کرتی رہی ہے کہ ریاست کے تمام اداروں کی ساتھ ساتھ میڈیا بھی احتساب سے بالا نہیں ، میڈیامالکان، ججوں جرنیلوں ، سیاستدانوں اور بیوروکریٹس سمیت سب کا احتساب کیا جائے اور اس کی ابتدا پی ایف یو جے اور ایپنک کی قیادت اور کارکنوں سے کی جائے ، تو ان تنظیموں کو شفاف احتساب پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے ، کم از کم کارکنوں کو تو قطعی اعتراض نہیں ، اگر کسی نے اپنے پیشے سے غداری اوراس مقدس پیشے کو بیچ کرناجائز دولت کمائی ہے تو اس کے احتساب کی صورت میں اسے صحافت کی آزادی پر حملہ نہیں سمجھا جائے گا لیکن اگر کسی کے جائز پیشہ ورانہ عمل کو انتقام کا نشانہ بنایا جائے گا تو یہ اقدام غلط ہوگا اور غلط کو نہ صرف غلط سمجھا جائے گا بلکہ اس کی بھرپور مزاحمت بھی کی جائے گی ۔کارکن یہ بھی سمجھتے ہیں ہماری کسی سے بطور شخص ،ادارہ یا حکومت سے کوئی ذاتی لڑائی ، تصادم ہرگز نہیں ، اپنے دستور کے تابع جدوجہد ہمارا فرض ہے ، وہ اداکرتے رہیں گے ،سبھی ریاست کا حصہ اور برابر کے حقوق رکھتے ہیں جس کا ریاست اور اس کے امور چلانے والوں کو بھی ادراک ہونا چاہئے ۔
حکومت میڈیا کارکنوں سمیت تمام شہریوں کے حقوق کی محافظ ہے ، اپنا یہ فرض ادا کرے تاکہ ملک میں سیاسی ، سماجی بہتری ، تبدیلی آئے اور معاشی بحران ختم ، معشیت ترقی کے شاہراہ پر گامزن ہو۔

reporter2reporter@gmail.com