Voice of Asia News

تنازعہ کشمیر کے سبب جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہیں، سید علی گیلانی

 
سرینگر ( وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے حوالے سے ایک اور رپورٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے گو کہ عالمی ادارے کی رپورٹ خوش آئندہ ہے تاہم نہتے کشمیریوں کی خون آشام زندگی رپورٹوں سے آگے عملی اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ مسئلہ کشمیر کو ایک دیرینہ سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر پر گزشتہ 71برسوں سے ایک حل طلب مسئلے کی حیثیت سے موجود ہے لہذا عالمی ادارے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے تنازع کے حل کیلئے عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کے سبب نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔ سید علی گیلانی نے کہاکہ اقوامِ متحدہ اپنی منصبی ذمہ داریوں کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے جموں کشمیر سمیت تمام دیگر عالمی تنازعات کو حل کرنے کے لیے ٹھوس لائحہ عمل اختیار کرے تاکہ دنیا میں پائیدار امن وترقی کی راہ ہموار ہوسکے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کو حقائق پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام لاکھوں بھارتی فورسز اہلکاروں کی طرف سے پیدا کردہ خوف وہراس، قتل وغارت، مار دھاڑ اور پکڑ دھکڑ کے ماحول کے زیرِ اثر ذہنی دباؤ کے ساتھ ساتھ جان ومال اور عزت وآبرو کے حوالے سے شدیدعدمِ تحفظ کا شکار ہیں ۔ حریت چیئرمین نے بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے طاقت ک بل پر جموں وکشمیر پر قبضہ جما رکھا ہے اور جھوٹ مکروہ فریب اور مکاری اسکا وطیرہ ہے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارت آخر کب تک حقائق اور زمینی صورتحال سے انکار کرتا رہے گا آخرایک روز اسے سچ کے آگے سر تسلیم خم کرنا ہی پڑے گا۔
وائس آف ایشیا10جولائی 2019 خبر نمبر79

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •