Voice of Asia News

خواجہ سعد اور سلمان رفیق کے جوڈیشل ریمانڈ میں 16 جولائی تک توسیع

 
لاہور ( وائس آف ایشیا )لاہورکی احتساب عدالت نے سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اورسابق صوبائی وزیرخواجہ سلمان رفیق کے جوڈیشل ریمانڈ میں 16 جولائی تک توسیع کردی۔دیگر تین شریک ملزمان ندیم ضیا، عمر ضیاء اور فرحان علی کو اشتہاری قرار دینے کے لیے کارروائی کرنے کا حکم بھی دے دیا۔احتساب عدالت لاہور نے پیراگون سٹی اسکینڈل میں گرفتار خواجہ برادران کے خلاف ریفرنس کی سماعت کی۔ملزم ندیم ضیاء کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی۔تعمیل کنندہ کی طرف سے عدالت کو آگاہ کیا گیاکہ وارنٹ گرفتاری لیکر ملزم کے گھر گئے مگر گھر کے سیکیورٹی گارڈ محمد افضل نے بتایا کہ ملزم 14 ماہ سے بیرون ملک رہتا ہے،ملزم جان بوجھ کر نامعلوم مقام پر روپوش ہے اس لئے عدالتی حکم کی تعمیل مکمل نہیں ہو سکی۔عدالت کو بتایا گیاکہ ملزم عمر ضیاء کے وارنٹ گرفتاری پر بھی عملدرآمد نہیں ہو سکا،ملزم کے گھر واقع گیاتو نئے مالک مکان محمد طاہر نے رجسٹری پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم عمر ضیاء اپنا گھر7 فروری 2019 کو فروخت کر چکا ہے۔ ملزم عمر ضیاء بھیگرفتاری سے بچنے کیلئے جان بوجھ کر نامعلوم مقام پر روپوش ہو چکا ہے۔اسی طرح ملزم فرحان علی بھی اپنا علامہ اقبال ٹاؤن والا مکان 8 سال پہلے فروخت کر چکا ہے اور نامعلوم مقام پر روپوش ہے۔ملزمان ندیم ضیا، عمر ضیاء اور فرحان علی بارے میں تفتیشی رپورٹ بھی جمع کروا دی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ تینوں افراد اپنے گھروں میں موجود نہیں ہیں اور بیرون ملک فرار ہو چکے ہیں۔عدالت نے تینوں ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کر دی۔خواجہ برادران کو آج بھی ریفرنس کی نقول فراہم نہ کی جاسکیں۔ عدالت نے خواجہ برادران کے جوڈیشل ریمانڈ میں پانچ روز کی توسیع کرتے ہوئے کیس کی سماعت 16 جولائی تک ملتوی کر دی۔خواجہ سعد رفیق نے کمرہ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہر طبقہ پریشان ہے صحافی ، ڈاکٹرز سب پریشان ہیں،تاجروں کی وزیراعظم کی ملاقات بے سود رہی کیونکہ وزیراعظم تاجروں کو مطمئن نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے ایسے ملک نہیں چل سکتا،حکومت کہہ رہی ہے سب ٹھیک ہے،سب درست نہیں ہے۔ جب حکومت بدلتی ہے ہم جیل چلے جاتے ہیں،اپوزیشن حکومت گرانا نہیں چاہتی۔وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے جب کوئی سیاسی جماعت ان کی بات نہیں سنے گی پھر انھیں سمجھ آئے گی ۔
وائس آف ایشیا11جولائی 2019 خبر نمبر106

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •