Voice of Asia News

اکبر بگٹی ایکسپریس مال گاڑی سے ٹکرا گئی، 18افراد جاں بحق،84زخمی

 
رحیم یار خان ( وائس آف ایشیا )رحیم یار خان: ولہار اسٹیشن کے قریب مسافر ٹرین حادثے کا شکار ہوگئی جس کے نتیجے میں 18 افراد جاں بحق اور 84 زخمی ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کو لاہور سے کوئٹہ جانے والی اکبر بگٹی ایکسپریس رحیم یار خان کے قریب ولہار اسٹیشن کی حدود میں کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی، حادثے کے نتیجے میں مسافر ٹرین کا انجن مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور 3 سے 4 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں جب کہ 6 سے 7 بوگیاں شدید متاثر ہوئیں۔واقعے کی اطلاع ملنے پر ریسکیو عملہ جائے حادثہ پر پہنچ گیا اور امدادی کارروائیاں شروع کردیں، حادثے کے زخمیوں اور جاں بحق ہونے والوں کو جناح اور شیخ زائد اسپتال منتقل کیا گیا۔ڈی پی او عمر سلامت نیمیڈیا بتایا کہ رحیم یار خان کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جب کہ ہیلپ لائن اور کنٹرول روم بھی قائم کردیا گیا ہے۔ڈی پی او عمر سلامت کے مطابق ابتدائی طور پر 13 لاشوں اور 67 زخمیوں کو نکالا جا چکا ہے جن میں 3 سے 4 افراد کی حالت تشویش ناک ہے، زخمیوں کے لیے خون کے عطیات کی ضرورت ہے جس کا انتظام کیا جارہا ہے۔اسپتال ذرائع کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے مزید 5 افراد دم توڑ گئے جس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 18 ہوگئی۔انہوں نے بتایا کہ کٹرز اور ہیوی مشینری موقع پر پہنچ گئی ہے اور ریسکیو آپریشن بھی جلد مکمل ہوجائے گا۔ایڈیشنل جنرل مینیجر ریلوے زبیر شفیع کے مطابق اکبر بگٹی ایکسپریس کے ڈرائیور عبدالخالق اور اسسٹینٹ ڈرائیور اسپتال میں زیر علاج ہیں۔زبیر شفیع نے بتایا کہ اکبر بگٹی ایکسپریس کی 10 میں سے 4 بوگیاں پٹری سے اتری ہیں، حادثے کے بعد اپ ٹریک پر ٹرینوں کی آمدو رفت روک دی گئی تھی لیکن ساڑھے 8 بجے اسے بحال کردیا گیا ہے۔مسافروں کا کہنا ہے کہ حادثہ صبح 4 بجے کے قریب پیش آیا ہے، ٹرین میں سوار بیشتر مسافر سو رہے تھے، گاڑی کو حادثہ کانٹا تبدیل نہ کرنے کی صورت میں پیش آیا ہے، اسٹیشن والے اپنی ڈیوٹی نہیں کر رہے تھے ورنہ جانی نقصان نہیں ہوتا۔عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ ہمیں اپنی مدد آپ ہی بوگیوں سے نکلنا پڑا، حادثہ پیش آنے کے کافی دیر بعد ریسکیو ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی تھی۔دوسری جانب ٹرین حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرلی گئی ہے جس کے مطابق ٹرین حادثہ سگنل سسٹم کی خرابی کے باعث پیش آیا، ولہار کے اسٹیشن ماسٹر نے اکبر بگٹی ایکسپریس کو مین لائن کا گرین سگنل دیا، اسٹیشن کا سگنل عملا لوپ لائن پر ہی رہا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور بریگ لگاکر پیچھے بھاگ گئے، ڈرائیور عبدالخالق اور اسسٹنٹ ڈرائیور فرمان الہی شدید زخمی حالت میں زیر علاج ہیں۔رپورٹ کے مطابق مال گاڑی ولہار اسٹیشن صبح سوا 4 بجے کانٹا بدل کر لوپ لائن پر کھڑی کی گئی، اکبر بگٹی ایکسپریس ساڑھے 4 بجے پہنچی تو حادثے کا شکار ہوگئی۔دوسری جانب وزیر ریلوے شیخ رشید نے واقعہ کا انسانی غفلت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے ۔ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں شیخ رشید نے ٹرین حادثے پر اظہار افسوس کیا اور جاں بحق افراد کے لواحقین کو 15 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔شیخ رشید نے کہا کہ حادثے کے شدید زخمیوں کو 5 لاکھ اور معمولی زخمیوں کو 2 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ اکبر ایکسپریس غفلت کے باعث حادثے کا شکار ہوئی ہے، حادثہ انسانی غلفت کا نتیجہ ہے، اس میں کانٹے والا ملوث ہے جب کہ ٹریک کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہیں تاہم حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے میں بہت کرپشن ہے جسے ٹھیک کرنے میں وقت لگتاہے، ریلویکے محکمے میں باہر سے نہیں آتے۔شیخ رشید کا کہنا تھا کہ حادثات کی مکمل تحقیقات ہوتیں ہیں، حیدرآباد ٹرین حادثے میں 2 سیکشن افسران کو نوٹس کیا اور 2 افراد کو محکمے سے نکالا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بھی حیدرآباد ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک مسافر ٹرین سامنے کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی تھی جس کے نتیجے میں ٹرین ڈرائیور سمیت 3 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ادھر ڈپٹی کمشنررحیم یار خان جمیل احمد کا کہنا ہے کہ ٹرین کے ڈبوں میں پھنسے مسافروں کو نکالنے کے لیے ہیوی مشینری استعمال کی جارہی ہے اور مسافروں کو کھانا اور پانی بھی فراہم کیا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘مسافروں کو بسوں کے ذریعے منزل مقصود پر پہنچایا جائے گا’۔انہوں نے واقعے میں 16 افراد کے جاں بحق ہونے اور 84 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ریلوے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق لواحقین معلومات حاصل کر نے کے لیے 0719310087 اور 03333993999 ان نمبروں پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔دریں اثناء : صدر مملکت عارف علوی، وزیراعظم عمران خان اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے رحیم یار خان ٹرین حادثے پر اظہار افسوس کیا۔صدر مملکت عارف علوی نے اکبر ایکسپریس ٹرین حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا، صدر نے جاں بحق افراد کے بلند درجات اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹوئٹر بیان میں ٹرین حادثے پر افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔وزیراعظم نے زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور ریلوے حکام کو حکم دیا کہ کئی دہائیوں سے پرانے ریلوے انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے اور حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور رحیم یار خان انتظامیہ کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی ٹرین حادثے پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا ہے۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ٹرینوں کے پے درپے حادثات انتہائی تشویشناک ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ناقص منصوبہ بندی اور کمزور ریلوے ٹریک حادثات کا باعث بن رہے ہیں، حادثے کے ذمہ داران کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔انہوں نے دعا کی کہ اﷲ تعالی مرحومین کو اپنے جوار رحمت میں جگہ اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ادھر اپوزیشن نے ٹرین حادثوں پر وزیر ریلوے شیخ رشید کے استعفے سمیت ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتاری کا بھی مطالبہ کردیا۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹرین حادثے پر اظہار افسوس کیا اور کہاکہ حادثوں پر استعفوں کی عمران خان نے بہت مثالیں دیں، اب اپنے وزیر سے استعفی لیں گے؟۔انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کا وزارت سے رومانس اور ٹرین حادثات نہ جانے کتنی زندگیاں نگلتا چلا جائے گا، کھڑی بوگیوں کو ملاکر نئی ٹرینیں چلائی جارہی ہیں۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ شیخ رشید اور عمران خان صرف پوائنٹ اسکورنگ کرر رہے ہیں، ملک بھی محکمہ ریلوے کی طرح چلایا جارہا ہے، مشرف کے زمانے میں بھی شیخ رشید نے ریلوے کو تباہ کیا۔مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم استعفی تو نہیں لے سکتے، ریلو ے کسی اس شخص کودیں جس کے پاس وزارت کے لیے وقت ہو، وزیراعظم کو چاہیے وہ جعلی کارکردگی کی حوصلہ شکنی کریں۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ٹرینوں کے حادثات اور اس میں ہلاکتوں میں اضافہ پریشان کن ہے، حادثے کے اسباب و محرکات سامنے لاکر ذمہ داروں کا تعین کیاجائے۔مسلم لیگ (ن)کے رہنما طلال چوہدری نے وزیر ریلوے شیخ رشید سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران نیازی شیخ رشید کو وزارت گالم گلوچ دے دیں، ریلوے کسی اور وزیر کو دیں، خوشامدی نیازی ایکسپریس چلانے سے پہلیعوام کی جان کی حفاظت یقینی بنانے کا انتظام کریں۔انہوں نے کہا کہ عمران نیازی اب استعفی کیوں نہیں مانگتے؟ اب مغربی جمہوریت کا معیار بدل گیا یا یوٹرن لیلیا، 10 ماہ میں کسی حادثے کی رپورٹ سامنے نہیں آئی،کس کی وجہ سے مزید حادثے ہو رہے ہیں۔دوسری جانب مسلم لیگ(ن) نے ٹرین حادثے پر شیخ رشید کے خلاف اندراج مقدمہ اور ان کی گرفتاری کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرادی۔مسلم لیگ (ن) کی رہنما حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اکبر ایکسپریس اور مال گاڑی ٹکرانے کا ذمہ دار شیخ رشید کو سمجھتے ہیں، شیخ رشید احمد کے پاس اپنے عہدے پر رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔قرارداد میں مزید کہا گیا ہیکہ محکمہ ریلوے کی نااہلی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
وائس آف ایشیا11جولائی 2019 خبر نمبر153

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •