Voice of Asia News

ادلب میں اسدی فوج اور اپوزیشن فورسز میں گھمسان کی لڑائی،71افرادہلاک

بیروت( وائس آف ایشیا)شام میں انسانی حقوق کے اداروں نے بتایا ہے کہ شمال مغربی شہر ادلب میں بشارالاسد کی وفادار فوج اور اپوزیشن فورسز کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے جس کے نتیجے میں اب تک دونوں طرف 71 افراد ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے ۔انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے آبزر ویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ گذشتہ شب ادلب میں شروع ہونے والی لڑائی میں دونوں طرف سے بھاری جانی نقصان کی اطلاعات ملی ہیں۔خیال رہے کہ 30 لاکھ افراد پر مشتمل آبادی والے شہر ادلب پر اسدی فوج گذشتہ دو ماہ سے باغیوں اور اپوزیشن کی حامی فورسز کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہی ہے۔ ادلب میں لڑائی کے ساتھ ساتھ شمالی شہر حما میں بھی لڑائی کی خبریں آئی ہیں۔شمالی مغربی حما اور الحمامیت کے مقامات پر قبضے کے لیے فریقین کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی۔ ادلب میں ہونے والی خون ریز جھڑپوں میں 71 افراد کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔انسانی حقوق آبزرور رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ ادلب میں اسدی فوج اور اپوزیشن کی حامی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں۔ اسدی فوج نے ادلب کے مختلف مقامات پر توپ خانے سے بھی گولہ باری کی۔ادھر کرناز کے مقام پر اپوزیشن کی حامی فورسز کے حملے میں ایک خاتون جب کہ اللطامنہ میں روسی بمباری سے ایک عام شہری مارا گیا۔تحریر شام محاذ کے ترجمان ابو خالد الشامی نے بتایا کہ لڑائی کا آغاز الحمامیات کے مقام پر اسدی فوج کے ٹھکانوں سے ہوا۔ اسدی فوج نے الحمامیات اور اس کے تزویراتی ٹیلوں پر قبضہ کرنے کے بعد اپوزیشن کی حامی فورسز کے ٹھکانوں پر بمباری شروع کی۔خیال رہے کہ حما کے شمالی علاقے گذشتہ کئی ہفتوں سے اسدی فوج اور اپوزیشن کے درمیان میدان جنگ بنے ہوہے ہیں۔ جون میں تین روز تک جاری رہنے والی لڑائی میں 250 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اپریل میں بشارالاسد اور روسی فوج کی بمباری کے نتیجے میں 550 شہری جاں بحق ہوگئے تھے۔
وائس آف ایشیا12جولائی 2019 خبر نمبر65

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •