Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر ‘صمد انقلابی پر ایک بار پھر کالا قانون ’پی ایس اے‘ لاگو کیا گیا

سرینگر( وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیرمیں قابض انتظامیہ نے اسلامی تنظیم آزادی کے غیر قانونی طور پر نظر بند سربراہ عبدالصمد انقلابی پر ایک مرتبہ پھر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کر دیا ہے۔ 1992سے اب تک ان پر عائد کیاجانے والا یہ 23واں پبلک سیفٹی ایکٹ ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق اسلامی تنظیم آزادی کے ترجمان نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی پولیس نے عبدالصمد انقلابی کو دسمبر 2018کو ضلع پلوامہ کے علاقے ڈوگری پورہ سے اس وقت گرفتارکیا تھا جب وہ ایک شہید نوجوان کے گھر منعقدہ ایک دعائیہ مجلس میں موجود تھے۔ ترجمان نے پارٹی سربراہ پر ایک بار پھر کالا قانون پی ایس اے لاگو کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قابض انتظامیہ اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے صمد انقلابی کی جھوٹے مقدمے میں غیر قانونی نظر بندی کو طول دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔دریں اثنا ترجما ن کے مطابق عبدالصمد انقلابی نے تیرہ جولائی 1931کے شہداء کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس روز مزار شہداء نقشبند صاحب سرینگر جاکر شہداء کو بھر پور خراج عقیدت پیش کریں۔
وائس آف ایشیا12جولائی 2019 خبر نمبر109

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •