Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر‘ مشتاق الاسلام کی آسیہ اندرابی کے گھر کو ضبط کرنے کی مذمت

سرینگر( وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیر میں آزادی پسند رہنما مشتاق الاسلام نے بھارتی تحقیقاتی ادارے ’ این آئی اے ‘ کی طرف سے دختران ملت کی غیر قانونی طور پر نظر بند چیئرپرسن سیدہ آسیہ اندرابی کے گھر کو سرینگر میں ضبط کرنے ، لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یٰسین ملک کو مسلسل عدالتی ریمانڈ میں رکھنے اور دیگر مزاحمتی رہنماؤں سے مسلسل پوچھ گچھ اور مختلف بہانوں سے انہیں ہراساں کرنے کی شد ید مذمت کی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مشتاق الاسلام نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت کشمیری مزاحتمی رہنماؤں اور کارکنوں کو ہراساں اور خوفزدہ کرنے کیلئے اپنے تحقیقاتی اداروں ’ این آئی اے‘ اور ’انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ‘ کو استعمال کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آسیہ اندرابی اس وقت جھوٹے مقدمات میں نئی دلی کی تہاڑ جیل میں نظر بند ہیں جبکہ ان کے شوہر ڈاکٹر محمد قاسم فکتو بھی گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرسے سے جیل میں ہیں اور ابان کے گھر کو بھی ضبط کر لیا گیا جو بھارتی حکومت کو بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے ۔ مشتاق الاسلام نے کہا کہ اس وقت حریت رہنماؤں اور کارکنوں سمیت ہزاروں کشمیریوں آزادی کے مطالبے کی پاداش میں جیلوں اور عقوبت خانوں میں بند ہیں جہاں ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے جار رہے ہیں۔ انہوں نے شبیر احمد شاہ ،نعیم احمد خان ،مسرت عالم بٹ ،ڈاکٹر شفیع شریعتی، ڈاکٹر غلام محمد بٹ ، ظہور احمد وٹالی ، ایاز اکبر ،فاروق احمد ڈار ،شاہد الاسلام ،محمد الطاف شاہ ، معراج الدین کلوال، جاوید احمد خان اور دیگر نظر بندوں کے عزم و ہمت کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو کمزور کرنے کا بھارتی خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔
وائس آف ایشیا12جولائی 2019 خبر نمبر110

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •