Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر ،فائرنگ سے این سی محافظ جاں بحق،فوجی اہلکار کی خود کشی

 
سرینگر(وائس آف ایشیا ) مقبوضہ کشمیر کے ضلع انت ناگ کے علاقے کوکر ناگ میں نیشنل کانفرنس لیڈر کے ذاتی محافظ کو مشتبہ افرادنے گولیاں مار کر ہلاک کردیا،اس دوران دیوسر کولگام میں پر اسرار دھماکے میں دو افراد زخمی ہوئے جبکہ سیول سیکریٹریٹ جموں میں تعینات سی آر پی ایف اہلکار نے خود کشی کرلی۔مقامی لوگوں کے مطابق این سی لیڈر سید توقیر شاہ نے اتوار دن میں پہلے اہلن گڈول میں ورکرس کی میٹنگ طلب کی تھی اور اسکے بعد ہلر کوکرناگ میں بھی اسی طرح کی میٹنگ منعقد ہوئی جو کافی دیر تک جاری رہی۔انہوں نے کہا کہ شام کے وقت 6بجکر 25منٹ پر جب محمد جبار شیخ کے گھر پر بلائی گئی میٹنگ ختم ہوئی تو مین گیٹ پر این سی لیڈر کے ذاتی محافظ ڈیوٹی دے رہے تھے۔اسی دوران وہاں کم سے کم بندوق بردار نمودار ہوئے اور انہوں نے پولیس کانسٹیبل پر گولیاں چلائیں۔لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں لوگوں کی بیٹھ دیکھ کر بندوق بردار ایک پرائیویٹ گاڑی میں فرار ہوئے جبکہ شدید زخمی سلیکشن گریڈ کانسٹیبل ریاض احمد بیلٹ نمبر A/713 ساکن پلوامہ کو علاج معالجہ کیلئے پہلے کوکرناگ اور بعد میں ضلع اسپتال اننت ناگ منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔فائرنگ کے سبب علاقے میں افراتفری مچ گئی اور لوگ محفوظ مقامات کی جانب بھاگ گئے۔واقع کے بعد فوج اور پولیس نے علاقے کو محاصرہ میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کی۔ادھر پولیس کے مطابق جنوبی ضلع کولگام کے آدی گام دیوسر علاقے میں ایک پر اسرار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں پر ان کا علاج ومعالجہ جاری ہے۔ اس ضمن میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی ہے جبکہ دھماکہ کیسے اور کن حالات میں رونما ہوا اس کی بھی جانچ پڑتال ہو رہی ہے۔دریں اثنا پولیس کے مطابق اتوار بعد دوپہر قریب 2بجکر 10منت پر سیول سیکریٹریٹ جموں میں تعینات سی آر پی ایف 37بٹالین ڈی کمپنی کے اہلکار آر رام کمار نے اپنی سروس رافل سے خود پر گولی چلائی جس سے وہ خون میں لت پت ہوگیا۔اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا لیکن وہ دم توڑ چکا تھا۔ادھر بارہموالہ میں فورسز نے سوموار کوشمالی کشمیر میں کریری بارہمولہ کے جنگلات میں بڑے پیمانے پر جنگجو مخالف تلاشی آپریشن شروع کیا ہے۔ذرائع سے معلوام ہوا ہے کہ فورسز کو مصدقہ اطلاع تھی کہ کریری بارہمولہ کے جنگلاتی علاقے میں کچھ جنگجو چھپے بیٹھے ہیں جس کے بعدآج اعلی الصبح فوج کی 52 آر آر،46 آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف نے ایک مشترکہ کاروائی کے دوران پورے علاقے کو محاصرے میں لے کر بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن کا آغاز کیا۔یہ آپریشن آخری اطلاعات ملنے تک جاری تھا ۔ذرائع کے مطابق فورسز نے جنگل میں تمام آنے جانے والے راستے سیل کررکھے ہیں۔علاقے میں فورسز کی جانب سے فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں ۔دریں اثناء کنگن میں وانگت کے وکھل ون پوشکر علاقے میں بھیڑبکریوں کے ریوڑپر بجلی گری ، جس کے نتیجے میں 220 بھیڑ بکریاں موقعے پر ہی ہلاک ہوگئے۔تاہم اس واقعہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔وسطی ضلع گاندر بل میں وانگت کنگن کے مضافات میں واقع ہاکہ ون ہوکر سر علاقے میں وکھل ون پوشکر کے مقام پر اتوار کی صبح تیز ہواؤں کے ساتھ ساتھ بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔اس دوران بادل پھٹ گئے اور بکروال اپنے عارضی خیموں میں سہم کر رہ گئے۔جب بارش رک گئی توبکروالوں نے 220بھیڑ بکریوں پر مشتمل پورا ریوڈ زمین پر مردہ حالت میں پایا۔اس واقعے میں افراد خانہ جائے حادثے سے دور تھے جس کی وجہ سے تمام افرادبچ نکلے ۔پولیس نے واقعے میں متاثرہ کنبوں کی شناخت محمد یاسین بکروال ،غلام محمد خان ۔نذیر احمد بکروال،عبد المجیدبجرن غلام حسن کوشی،غلام محمد بجرناور محمد شریف کسانہ ساکنان راجوری کے طور کی ہے ۔پولیس نے حادثے کا جائزہ لینے کے لئے ایک ٹیم کو یہاں روانہ کر دیا ہے ۔
وائس آف ایشیا15جولائی 2019 خبر نمبر28

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •