Voice of Asia News

ریکوڈک کیس میں جرمانہ، پاکستانی حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ :محمدقیصرچوہان

عالمی بینک کے انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (اکسڈ) ٹریبونل نے پاکستان میں ریکوڈک کیس کا فیصلہ سنا تے ہوئے ریکوڈک ہرجانہ کیس میں پاکستان پر تقریباً 6 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا ہے۔عالمی بینک ٹریبونل کی تاریخ میں یہ کسی ملک پر کیا جانے والا سب سے بڑا جرمانہ ہے ،پاکستان کو ہرجانے کی رقم چلی اور کینیڈا کی مائننگ کمپنی ٹیتھیان کو ادا کرنا ہوگی۔عالمی بینک کے ٹریبونل کا فیصلہ 700 صفحات پر مشتمل ہے، فیصلے کے پیرا گراف 171 میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ معاہدے کو کالعدم کرتے ہوئے عالمی قوانین سے نابلد تھی اور ان کے پاس پیشہ ورانہ مہارت بھی نہ تھی۔عالمی بینک ٹریبونل کے یہ ریمارکس پاکستان کے عدالتی نظام پر طمانچہ ہے اس حوالے سے پاکستانی عدالت عظمیٰ کو اس ٹریبونل کو جواب دینا چاہیے، یہ درست ہے کہ ریکوڈک کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے ملک کو اربوں ڈالر جرمانہ دینا پڑے گا لیکن اب وقت آگیا ہے کہ یہ غلط معاہدہ کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے اور 6 ارب ڈالر ان سے وصول کئے جائیں۔اس کے علاوہ سی پیک کے معاہدے اور اس کی شرائط سے بھی قوم کو آگاہ کیا جائے۔ کل کو اس معاہدے کے بارے میں کوئی اعتراض ہوا یا کسی نے یہ معاہدے منسوخ کئے تو شاید ملک ہی بیچنا پڑ جائے۔ سی پیک کے بارے میں شبہات پہلے ہی ظاہر کیے جارہے ہیں کہ سری لنکا اور افریقا میں چین نے ایسے ہی معاہدے کیے تھے اور پھر سری لنکا کا جزیرہ اس کے قبضے میں چلا گیا۔
پاکستانی وزارت قانون کا دعویٰ ہے کہ ہم نے تو 16 ارب ڈالر ہرجانے کے دعوے کو 6 ارب ڈالر تک کم کروا کر دس ارب ڈالر بچا لیے۔ یہ اور بات ہے کہ ٹونی بلیئر کی اہلیہ کو دئیے جانے والے اخراجات اور مقدمے پر دیگر اخراجات اس کے علاوہ ہیں لیکن افتخار چودھری کے فیصلے سے اختلاف کرنے والوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس نکتے پر غور کریں کہ پاکستانی معدنیات غیر ملکی کمپنیاں نکالیں گی۔ اس کے عوض وہ پاکستان کو مجموعی طور پر 131 ارب ڈالر دیتیں۔ مسئلہ یہی تھا کہ وہ کمپنیاں ان ذخائر اور زمینوں سے کیا لے کر جائیں گی اس کی نگرانی پاکستان نہیں کرسکتا تھا۔ کسی کو کیا معلوم کہ سونا، تانبا یا اور دیگر قیمتی معدنیات کس مقدار میں یہ کمپنیاں لے جارہی ہیں۔ اس قسم کے معاہدے آج کل گیس کے حوالے سے بھی کیے گئے ہیں۔ پاکستانی گیس پاکستانیوں کے لیے نکالی جارہی ہے لیکن اب وہ بین الاقوامی کمپنیوں سے بین الاقوامی شرح سے خریدی جرہی ہے جس کے نتیجے میں گیس مہنگی ہورہی ہے۔ ٹیتھیان کمپنی کو 1993ء میں بلوچستان کے علاقے چاغی میں سونے اور تانبے کے ذخائر کی تلاش کا لائسنس جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس کے بعد 1998ء میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے بھی کردئیے تھے اس سے چاغی میں کسی غیر ملکی ادارے کی موجودگی کا معاملہ بھی حساس ہوگیا تھا۔ جس وقت افتخار محمد چودھری نے ریکوڈک کا لائسنس منسوخ کیا تھا اسی وقت ٹیتھیان نے عالمی عدالت سے رجوع کرلیا تھا۔ 2011ء سے اب تک اور موجودہ حکومت کو بھی معلوم تھا کہ یہ مقدمہ چل رہا ہے۔ جرمانہ بھی ہوگا اس حوالے سے حکومتوں نے کوئی کام نہیں کیا حالانکہ اگر ٹھیکہ دینے کے معاملے میں رشوت دینے کا معاملہ ثابت کردیا جاتا تو معاملہ بالکل برعکس ہو جاتا۔ جو بھی کہا جائے پاکستان سمیت دنیا بھر میں اتنے بڑے بڑے ٹھیکے کک بیکس (رشوت) کے بغیر نہیں دیے جاتے۔ تفصیل سے تحقیقات کی جاتی تو پتا چلتا کوئی نہ کوئی ’’بڑا‘‘ لپیٹ میں آتا۔ اس زمانے میں یہ الزامات بھی لگے تھے کہ رشوت لی گئی ہے۔ تکلیف دہ بات یہی ہے کہ حکمران کوئی بھی ہوں انہیں قومی دولت سے کوئی غرض نہیں ان کا دل نہیں دکھتا کہ جرمانہ ہو رہا ہے تو ہوا کرے۔ ان کا تو مضحکہ خیز دعویٰ ہے کہ دس ارب ڈالر بچا لیے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس معاملے پر بھی کمیشن بھی بنا دیا ہے۔ یہی موقع ہے کہ سی پیک کے بارے میں بھی ایک کمیشن بنا لیا جائے جو یہ معلوم کرے کہ معاہدے کی شرائط کیا ہیں، پاکستان کو کیا ملے گا۔ پاکستانی زمین، گوادر کا علاقہ، تنصیبات وغیرہ محفوظ ہیں کہ نہیں۔ پاکستانی حکمرانوں کی نااہلی کو سامنے رکھتے ہوئے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ سی پیک کے قرضوں کی ادائیگی ممکن نہیں رہے گی اور پاکستان جرمانے بھرتے بھرتے قیمتی اثاثوں سے محروم ہو جائے گا۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ خدانخواستہ ایسی صورت حال ہوگی تو کوئی اور حکمران ہوگا وہ سابق حکمرانوں پر الزام تھوپ کر پرسکون ہو جائے گا۔ اگر عالمی سیاست کاروں کے کھیل کو مدنظر رکھا جائے تو اسے باقاعدہ منصوبہ کہا جاسکتا ہے کہ رلا رلا کرآئی ایم ایف نے 6 ارب ڈالر قرضہ ٹکڑوں میں دینے کا اعلان کیا تھا اور اتنی ہی رقم کا جرمانہ کردیا گیا ہے۔ اب اگر آئی ایم ایف کے قرضے پر حکومت ہوا میں اڑ رہی تھی تو یہ رقم بھی گئی۔ پاکستان وہیں کھڑا ہے۔ بلکہ جرمانہ الگ اور آئی ایم ایف کے قرضوں کا سود الگ، گویا اب ملک چلانے کے لالے پڑنے والے ہیں۔ جہاں تک عدالت عظمیٰ کے بین الاقوامی قوانین سے نابلد ہونے کا تبصرہ سے عدالت عظمیٰ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے اگر اس کی ساکھ پر ایسے تبصرے کیے جائیں اور وہ خاموش رہے تو کل کو کسی بھی جانب سے کچھ بھی کہا جاسکتا ہے۔ ویسے تو پاکستان میں عدالتوں کے بہت سے فیصلوں پر یہی تبصرہ صادق آتا ہے۔ ایک عدالت ایک فیصلہ کرتی ہے دوسری کئی برس بعد اسے تبدیل کر دیتی ہے ،ماتحت عدالت کے فیصلے پر کوئی ایکشن نہیں ہوتا۔ ماتحت عدالت نے فیصلہ غلط دیا تھا تو اس کو سزا ملنی چاہیے جج سے اختیارات لینے چاہئیں اگر اس نے فیصلہ درست دیا تھا تو اب کیوں بدلا گیا۔ یہ سب کچھ روز مرہ کا معاملہ ہے۔ لیکن بہرحال غیر ملکی ادارے کی جانب سے ایسے تبصرے قابل گرفت ہونے چاہئیں۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •