Voice of Asia News

پنڈت برادری کا تہہ دل سے خیر مقدم، الگ بستیاں بسانے کی مخالفت کریں گے،حریت گ

 
سرینگر(وائس آف ایشیا ) کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) نے کشمیری پنڈتوں کی وطن واپسی سے متعلق جاری بحث پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حریت اپنے پنڈت بھائیوں کی وادی واپسی کی ہر طرح سے اور ہر وقت حامی رہی ہے، البتہ وہ انہیں علیحدہ کالونیوں میں بساکر سماج سے الگ تھلگ کرنے کی ماضی میں بھی مخالف رہی ہے اور آئندہ بھی وہ اسطرح کی کوششوں کی مزاحمت کرے گی۔ حریت نے اپنے دیرینہ موقف دہراتے ہوئے کہا کہ ہم روز اول سے ہی پنڈت برادری کو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ یہاں کی روایات کے تحت رہنے کی دعوت دیتے آئے ہیں۔ پنڈت برادری کشمیری قوم کا ناقابل تنسیخ حصہ ہے جس کا اظہار بار بار یہاں کی قیادت نے کیا ہے کہ ہم تہہ دل سے پنڈت بھائیوں کی وادی واپسی کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ وہ اسی طرح واپس آئیں جس طرح یہاں ہزاروں پنڈت گھرانے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ رہ بس رہے ہیں۔ ہمارا یہ دعوی ہے کہ بھارت کے شہروں میں وہ اتنے محفوظ نہیں جتنا وہ یہاں ہیں۔ یہاں کی مسلم برادری اپنے دینی اور سماجی روایات کا پاس ولحاظ رکھتے ہوئے ان کا ہمیشہ خیال رکھتے ہیں اور آئندہ کے لیے بھی وعدہ بند ہیں۔ اس ضمن میں جہاں کہیں بھی حریت کے تعاون کی انہیں ضرورت محسوس ہوگی، ہم پیش پیش رہیں گے۔ حریت کانفرنس نے کہا کہ پنڈت بھائی ہمارے سماج کا ایک اٹوٹ حصہ ہیں اور ہم نے ہمیشہ ان کی وادی واپسی کا خیرمقدم کیا ہے، البتہ انہیں علیحدہ بستیوں میں بسانے کا پروگرام کشمیریوں کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے اور ان کی جدوجہدِ آزادی کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی ایک مذموم کوشش ہے، جس کو کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ حریت کانفرنس نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کچھ لوگ اپنے سیاسی اغراض کے لیے پنڈت برادری کا استحصال کرکے ان کو اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف اکسا رہے ہیں۔ حریت نے مزید کہا کہ جو کشمیری مسلمان 47، 65 اور 75 میں ریاست سے ہجرت کرنے پر مجبور کردئے گئے ہیں، ان کی واپسی کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ غیر یقینی سیاسی صورتحال کی وجہ سے بے گھر اور بے وطن ہوئے تمام لوگوں کی واپسی اور بازآبادکاری کا مشن صحیح معنوں میں مکمل ہوسکے۔
وائس آف ایشیا16جولائی 2019 خبر نمبر12

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •