Voice of Asia News

اقوام متحدہ کی اپیل پر یمن میں فریقین جنگ بندی پر متفق

نیویارک( وائس آف ایشیا)اقوام متحدہ نے کہاہے کہ یمن میں سعوی حمایت یافتہ حکومت اور حوثی باغی کشیدگی سے شدید متاثر علاقہ حدیدہ میں جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کے نمائندوں نے بحیرہ احمر میں اقوام متحدہ کے جہاز میں مذاکرات کیے۔اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان ثالثی کی کوششیں کی جارہی ہیں اور حدیدہ میں جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیوں کے بعد اب دونوں فریقین کشیدگی کو کم کرنا چاہتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ وہ ایک میکنزم، جنگ بندی کے نئے اقدامات اور کارروائیوں میں کمی لانے پر متفق ہیں جس کا نفاذ جلد از جلد ہوگا۔یمن میں لڑنے والے دونوں فریقین نے اقوام متحدہ کی جانب سے تشکیل دی گئی تنظیم ری ڈپلائمنٹ کوآرڈی نیشن کمیٹی کے ارکان کی حیثیت سے ملاقات کی جس کی سربراہی جنگ بندی اور فوجیوں کے انخلا کے معاملات کے ذمہ دار ڈنمارک کے لیفٹیننٹ جنرل مائیکل لولیسگارڈ نے کی۔کمیٹی نے فوجیوں کے انخلا کے معاہدے کے نکات کو حتمی شکل دی تاہم اب اس کی منظوری سیاسی قیادت دے گی۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سیاسی قیادت بھی ‘مقامی سیکیورٹی فورسز، مقامی انتظامیہ اور سرمایے کے حوالے سے متفق ہوگی۔اقوام متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں معاہدے کی مزید تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا تاہم فریقین کے جنگ پر متفق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔یاد رہے کہ فوجیوں کے انخلا کے لیے کمیٹی کا اجلاس رواں برس فروری میں ہوا تھا اور جنگ بندی کے لیے تازہ اجلاس گزشتہ دو روز سے بحیرہ احمر میں اقوام متحدہ کے جہاز میں ہورہا تھا۔گزشتہ برس دسمبر میں سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہام میں منعقدہ مذاکرات میں یمن کی حکومت اور حوثی باغیوں کو جنگ بندی کے معاہدے کے تحت حدیدہ سے فوجیوں کے انخلا کی ہدایت کی گئی تھی۔دونوں فریقین کو 18 دسمبر سے دو ہفتوں کے اندر اندر فوجیوں کے انخلاف کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی لیکن دونوں فریقین اس ڈیڈلائن پر عمل کرنے میں ناکام ہوئے تھے۔خیال رہے کہ یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان جاری جنگ میں گزشتہ چار برس کے دوران ہزاروں افراد لقمہ اجل اور لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔اقوام متحدہ کی جانب سے متعدد مرتبہ یمن میں انسانی بحران پیدا ہونے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ جنگی صورت حال کے باعث ملک میں قحط اور وبائی امراض پھیلنے کا سنگین خطرہ لاحق ہے۔واضح رہے کہ یمن کے گنجان آباد شہر حدیدہ میں گزشتہ برس جھڑپوں میں تیزی آئی تھی اکتوبر 2018 میں کم ازکم 600 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
وائس آف ایشیا16جولائی 2019 خبر نمبر85

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •