قانون کی حکمرانی قائم کئے بغیر پاکستان کی ترقی ممکن نہیں فرنیچر اِن فیشن کے چیف ایگزیکٹیو اسد شمیم کا انٹرویو : محمد علی اظہر

پاکستانی نڑاد برطانوی بزنس مین اسد شمیم کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ انہوں نے بیرون ملک قانونی، کاروباری اور سپورٹس پروموشن کے میدان میں اپنا لوہا منوایا اور اپنی صلاحیتوں سے وطن عزیز پاکستان کا نام روشن کیا۔ حال ہی میں ’’لا سوسائٹی آف انگلینڈ اینڈ ویلز‘‘ نامی برطانوی ادارے نے برطانیہ میں قانونی مدد کے حوالے سے اسد شمیم کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی تصویر اپنی تشہیری مہم کے بینرز پر چسپاں کی ہے، جو کہ پاکستان اور پاکستان سے باہر بسنے والے پاکستانیوں کیلئے اعزاز کی بات ہے۔ حیران کن طور پر بہت چھوٹی سی عمر میں قانونی معاملات میں دلچسپی پیدا ہونے کے سبب انہوں نے نظام عدل کا مطالعہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اکاؤنٹنگ اور فنانس میں بی ایس سی کیا۔ گریجویشن کی بدولت نئے قانونی تصورات ابھرنے سمیت قانون کے حوالے سے ان کی دلچسپی میں مزید اضافہ ہوا۔ قانونی معاملات پر گرفت کی بدولت اسد شمیم نے برٹش باکسنگ بورڈ کے 1929 کے قانون میں ترمیم کے ذریعے تاریخ رقم کی اور ذیابیطس سے نبرد آزما پاکستانی نڑاد باکسر محمد علی کو پروفیشنل باکسنگ کا لائسنس دلوایا، جو اس سے پہلے ذیابیطس کے مریضوں کو جاری نہیں کیا جاتا تھا۔ اب محمد علی برطانیہ کے پہلے ڈائبٹک باکسر ہیں۔ اس کے علاوہ 2013 سے وہ ایک لا فرم کے بورڈ رکن میں بھی اور ادارے کے معاملات چلانے کیلئے فیصلہ سازی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسد شمیم برطانیہ میں ایشین بزنس لیڈر ایوارڈ اور برٹش مسلم بزنس مین لیڈرکا ایوارڈ بھی حاصل کرچکے ہیں ۔گزشتہ دنوں پاکستانی نژادبرطانوی بزنس مین فرنیچر اِن فیشن کے چیف ایگزیکٹیو اسد شمیم سے ہونے والی گفتگو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔
سوال: پاکستان کے عدالتی نظام کے بارے میں آپ کیا سوچ رکھتے ہیں؟
جواب : یہ بڑا واضح ہے کہ پاکستان کے نظام عدل کو لوپ ہولز (قانون یا ضابطے سے بچنے کی صورت) اور خرابیوں میں چھوڑا ہوا ہے۔ پاکستان کا جو نظام ہے اور جو وکلا تنظیمیں ہیں، وہ عجیب و غریب طرح سے معاملات چلاتے ہیں اور ججوں کے فور فرنٹ بنے ہوئے ہیں۔ اپنا کام اور اپنی ضرورت کا احساس دلانے کیلئے وکلا ججوں کیلئے خفیہ طور پر کام کرتے ہیں۔ وہ مفادات کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ نے کبھی صحیح اقدامات کئے ہی نہیں کہ انفراسٹرکچر ٹھیک کریں۔ کسی بھی ملک کی بنیاد قانون ہوتا ہے اور قانون سے سارے ادارے چلتے ہیں۔ اگر ملک کے قانون میں خرابیاں ہوں اور قانون میں لوپ ہولز ہوں تو پھر ملک صحیح طریقے سے نہیں چل سکتا۔
سوال: آپ نے اس حساس موضوع پر دو ٹوک اور کھری بات کہی ہے تو یہ بھی بتا دیں کہ نظام عدل میں موجود لوپ ہولز کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے؟
جواب :میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس وقت شدید ضرورت ہے کہ جتنے بھی سپریم کورٹ کے ججز ہیں وہ پاکستان کے قانون اور آئین میں ترامیم پر غور کریں۔ اس توجہ طلب کاموں پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ اتنے سال ضائع ہو گئے ہیں۔ ملک کا نظام انتہائی بوسیدہ ہے اور کسی نے بھی اسے ٹریک پر لانے کی کوشش نہیں کی۔ یا کوشش کی بھی ہو تو وہ کامیاب نہیں ہوسکا۔ لہٰذا قانون میں فوری طور پر ترمیم ناگزیر ہے۔ بعد میں کہا جاتا ہے کہ ماضی کی حکومت نے یہ کیا، وہ کیا۔ اس کا کچھ حاصل نہیں ہے۔ دراصل میں تو کسی بھی حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہراؤں گا۔ میں اگر کسی کو ذمہ دار ٹھہراتا ہوں تو وہ عدلیہ ہے، کیونکہ یہ سب عدلیہ کے کام ہیں جو آئین اور قانون بناتے ہیں اور اداروں کو چلاتے ہیں۔ اگر ہمارے قانون میں لوپ ہول سسٹم نہ ہو تو برے لوگ کبھی نہ بچ سکیں۔ آج کل ملک میں جو احتساب کی بھاگ دوڑ چل رہی ہے، جس کے تحت کبھی نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری و دیگر کو پکڑا جا رہا ہے۔ یہ تمام افراد اور ان وکلا قانون کی ہی کوئی شق یا نقطہ نکال کر لے آتے ہیں اور اپنے موکلین کے کیسوں کو لٹکا دیتے ہیں، تاکہ ان کیخلاف کوئی فیصلہ نہ آ سکے۔ یہ تو ملک کے لوگوں کے ساتھ زیادتی ہے۔
سوال: کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ احتسابی عمل سے گزرنے والے افراد قوم کا وقت برباد کرتے رہے ہیں اور ابھی بھی کر رہے ہیں؟
جواب : میں حیران ہوتا ہوں کہ یہ لوگ سارا سارا دن پریس کانفرنسیں کر رہے ہوتے ہیں۔ یعنی پورے ملک میں اس کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں ہے۔ یہ ملک ہم سب کا ہے۔ ہمیں ملک کیلئے کام کرنا ہے، سب محنت کریں اور ملک کے اندر سرمایہ کاری لائیں، لیکن ان حضرات نے ملک کا سارا وقت برباد کر دیا ہے اور ہر وقت پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہی نظر آتے ہیں۔ میں ان لوگوں پر بھی حیران ہوتا ہوں جو ایسے افراد کی حمایت کرتے ہیں، حالانکہ عوام کو ان کے کردار کا پتا بھی ہے۔ پھر بھی سارا دن ان کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔ بڑے شرم کی بات ہے۔ بلکہ افسوس کا مقام ہے کہ اپنا بہت قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں۔
سوال: سیاستدانوں کے علاوہ ججز اور وکلا کے کردار کو آپ کس تناظر میں دیکھتے ہیں؟
جواب : جہاں تک ججز کی بات ہے تو یہ سمجھتے ہیں کہ ان پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ یہ بھی گرفت میں آسکتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جج صاحبان نے کبھی اپنا صحیح کردار ادا نہیں کیا اور اگر انہوں نے اپنا کردار ادا کیا ہوتا تو یہ نوبت ہی نہ آتی۔میں سمجھتا ہوں کہ ابھی بھی وقت ہے۔ سینئر جج صاحبان کو چاہئے کہ جتنے بھی قوانین کرپٹ اور خراب کردار کے حامل لوگوں کیلئے شیلٹر کی مانند ہیں، ان پر فوری طور پر نظر ثانی کریں اور قوانین کو زیادہ مضبوط بنائیں اور ان میں ایسا کوئی نظام نہ چھوڑیں کہ مجرم بچ سکے۔
سوال:کیا ججز پر بھی کوئی چیک اینڈ بیلنس ہونا چاہئے؟
جواب : ایک جوڈیشل کونسل ضرور ہونا چاہئے جو سپریم کورٹ کے ججز کے اوپر ہو۔ وہ ان کے کردار، ان کے معاملات اور ان کے فیصلوں کو دیکھے۔ اسی طرح کسی کے ساتھ واضح طور پر ناانصافی ہونے کی صورت میں وہ مداخلت بھی کر سکے۔ یہ جوڈیشل کونسل وقت کی ضرورت ہے، جو عدلیہ میں سے نہ ہو بلکہ ایسے افراد پر مشتمل پینل ہو جو قانون کو سمجھتے ہیں۔ جب تک ہمارا قانون صحیح نہیں ہوگا۔ لا اینڈ آرڈر صحیح نہیں ہوگا کوئی بھی ملک پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے گریز کرے گا۔ اور جب ملک میں قانون کی اجارہ داری ہوگی اور لوگوں کو اس پر اعتماد ہوگا تب ہی باہر سے لوگ پاکستان میں سرمایہ کاری کا سوچیں گے۔ اسی طرح سے غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں انویسٹمنٹ کرنے سے متنفر ہوتے ہیں۔
سوال: اگر نظام ٹھیک نہیں ہوتا تو پاکستان کے عام عوام کس سے انصاف کی توقع رکھیں؟
جواب : سپریم کورٹ سب سے بہترین اور معزز ادارہ ہے، جس سے لوگ انصاف اور تحفظ کی امید وابستہ کرتے ہیں اور اس کے حصول کیلئے عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکٹاتے ہیں۔ لیکن ان میں سے زیادہ تر کو انصاف نہیں ملتا، کیونکہ سپریم کورٹ کے ججز ماضی کے فیصلوں کو دیکھتے ہوئے فیصلے دیتے ہیں۔ کیس کو صحیح طریقے سے پڑھتے نہیں اور جب آپ اپیل کرنے جائیں تو اپیل بھی سپریم کورٹ کے اسی جج کے پاس لگتی ہے جن نے پہلے مذکورہ کیس کا فیصلہ کیا ہوتا ہے۔ اب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جس نے پہلے اپنا فیصلہ دیا تو وہ اپنے خلاف کیسے فیصلہ دے گا۔ سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان کا فیصلہ نظر ثانی کیلئے دوبارہ اْسی جج یا ججوں کے پاس نہیں جانا چاہیئے، جنہوں نے یہ فیصلہ دیا ہو کیونکہ کوئی بھی جج کبھی اپنے فیصلے کیخلاف نہیں جائے گا۔ اس طرح کی مثالیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بلکہ نظر ثانی اپیلوں یا درخواستوں کیلئے علیحدہ خود مختار بنج قائم کیا جانا چاہئے، تاکہ انصاف کا بول بالا ہو۔ اس کے علاوہ ملک میں ایک ایسے ادارے کا قیام ناگزیر ہے، جو وکلا اور عدالتوں سمیت قانون سے متعلق سرگرمیوں کو مانیٹر کرسکے۔
سوال: پاکستان کے حالات کیا قانون یا آئین میں ترمیم سے درست ہو سکتے ہیں؟
جواب : جی ہاں۔۔۔۔۔ پاکستان کے انصاف کے نظام سے لوپ ہولز (قانون یا ضابطے سے بچنے کی صورت) کو ختم کیا جائے۔ وطن عزیز میں قانون اور نظام کا ایک بار پھر ازسرِ نو جائزہ لیا جائے اور اگر آئین میں ترمیم بھی کرنی پڑے تو اس سے گریز نہ کیا جائے، تو ملک کے حالات سدھر سکتے ہیں۔ قانون کی مکمل عملداری سے ہی وطن عزیز ترقی کی بلندیوں کو چھو سکتا ہے۔ اب ملک میں چور، ڈاکوؤں اور دیگر جرائم کے مرتکب با اثر افراد کو قانونی چھتری یا کسی بھی قسم کی رعایت نہیں ملنی چاہئے۔ ملکی دولت لوٹنے والوں کا احتساب ہونا چاہئے۔
سوال: قانون میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں اور قارئین کو کوئی مشورہ دیں گے؟
جواب : میرے پاس ماہر قانونی ایکسپرٹس موجود ہیں اور یہ پیچیدہ معاملات کو بھی سہل طریقے سے حل کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ میں پیشہ ور، واضح اور جامع قانونی تجاویز حاصل کرنے کے خواہاں افراد کو انہی سولیسٹرز سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتا ہوں۔ دراصل قانونی معاملات کو سمجھنے سے ہماری زندگی میں بھی آسانی پیدا ہوسکتی ہے اور ہمیں اسے سنجیدگی سے لینا چاہئے۔