شرح سود میں اضافہ، پاکستانی صنعت وتجارت کو تباہ کرنے کا منصوبہ:محمد قیصر چوہان

 

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود میں ایک مرتبہ پھر ایک فیصد اضافہ کردیا گیا ہے جس کے بعد شرح سود بڑھ کر اب 13.25 فیصد پر پہنچ گیا ہے۔ مئی 2018 سے لے کر اب تک شرح سود میں مجموعی طور پر 5.75 فیصد اضافہ کیا جاچکا ہے۔ یعنی مئی 2018 سے قبل ملک میں سرکاری طور پر سود کی شرح 7.5 فیصد تھی۔اس پر کوئی اختلاف نہیں ہے کہ شرح سود میں اضافے کا صرف ایک ہی مطلب ہوتا ہے اور وہ ہے معاشی سرگرمیوں کو منجمدکرنا۔ اس سے مارکیٹ میں سرمایہ کاری کم ہوتی ہے۔ بینکوں سے قر ض لے کر کاروبار میں لگانا کہیں سے وارے میں نہیں آتا ، اس لئے نیا کاروبار تقریبا ناممکن ہی ہوجاتا ہے۔ پہلے سے لیا گیا قرض بھی کاروباری افراد بینکوں کو بھاری شرح سود کے باعث واپس کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور یوں سرمایے کا رخ مارکیٹوں سے نکل کربینکوں کی تجوریوں کی جانب ہوجاتا ہے۔ چونکہ بینکوں کا کاروبار ہی سود پر ہے اس لئے بینکوں کا شرح منافع بھی کم ہوجاتی ہے۔ اس طرح سے جن لوگوں نے اپنی بچت بینکوں کی مختلف سکیموں میں لگارکھی ہوتی ہے ، انہیں بھی کم منافع ملتا ہے اور وہ دہری پریشانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یعنی بینکوں میں رکھی ہوئی رقوم پر کم شرح منافع اور مارکیٹوں میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی شرح۔ عموما بینکوں کی اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والے پنشن یافتہ بوڑھے افراد ہوتے ہیں جنہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی رقوم کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہوتی ہے یا پھر یہ سرمایہ کاری پراویڈنٹ فنڈ سے کی ہوئی ہوتی ہے۔اس لیے ضعیف افراد مزید پریشانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بھاری شرح سود اور معاشی سرگرمیوں میں کمی کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ مہنگائی میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔ اس امر کا احساس اسٹیٹ بینک آف پاکستان کوبھی ہے۔ شرح سود کو بڑھانے کے اعلان کے ساتھ ہی خود اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ شرح سود مسلسل بڑھنے سے سرمایہ کاری کم ہوگی اور نجی شعبے کا بینکوں سے قرض لے کر کاروبار کرنا مشکل ہوجائے گا۔
شرح سود میں اضافے کی توجیہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے یہ پیش کی ہے کہ روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی کے پیش نظر شرح سود میں اضافہ کیا گیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ فیصلے میں گیس اور بجلی کی قیمتوں کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنے اعلامیے میں اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ ٹیکسوں میں اضافے اور نئے ٹیکسوں کے اطلاق کے باعث عوام کی قوت خرید میں شدید کمی ہوئی ہے۔ جب سب کی سمجھ میں یہ بات آرہی ہے اور خود اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس کو مان بھی رہا ہے کہ شرح سود میں اضافے سے سرمایہ کاری کم ہوگی ، نیا کاروبار شروع کرنا مشکل ہوجائے گا، عوام کی قوت خرید کم ہورہی ہے تو پھر آخر یہ شرح سود میں مسلسل اضافہ کیوں کیا جارہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی یہ توضیح ناقابل قبول ہے کہ روپے کی قدر میں کمی ، مہنگائی اور بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح سود میں اضافہ کیا گیا۔ ان تمام عوامل کا شرح سود میں اضافے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے ، جس طرح سے روپے کی قدر میں کمی کا کسی بھی چیزسے کوئی تعلق نہیں۔ یہ صرف اور صرف مرکزی بینک کا فیصلہ ہوتا ہے جو وہ اپنے بیرونی آقاؤں کے اشارے پر کرتا ہے۔ ایران سوئی سے لے کر جہاز تک بناتا ہے ، تیل برآمد کرنے والا بڑا ملک ہے، زراعت میں بھی اس کی پیداوار کچھ کم نہیں ہے مگر اس کی کرنسی کو ان بینکاروں نے مل کر تباہ کردیا ہے۔ کچھ ایسا ہی حال تیل پیدا کرنے والے ممالک وینیزویلا اور نائیجیریا کا کیا ہوا ہے۔ وہ افریقی ممالک جہاں سے سونا اور ہیرے پوری دنیا کو سپلائی کیے جاتے ہیں ، ان کی کرنسی کو بھی زمین سے لگا کر رکھا گیا ہے۔ ایک جنگ زدہ ملک افغانستان جو صرف بیرونی امداد پر زندہ ہے اس کی کرنسی کو مستحکم رکھا جاتا ہے۔ ملکی کرنسی کی قدر اور شرح سود میں کمی بیشی کا کسی بھی معاشی اشاریے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ شرح سود میں اضافہ ہمیشہ اس وقت کیا جاتا ہے جب معاشی سرگرمیوں میں کمی لانا مطلوب ہو یا جنگ و کسی تباہی کی صورت میں مارکیٹ سے پیسہ نکال کر کسی خاص مد میں خرچ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ پوری دنیا میں جہاں پر معیشت نمو پذیر ہے ، وہاں کی شرح سود کو دیکھنے سے سب کچھ از خود واضح ہوجاتا ہے۔ روپے کی قدر میں مسلسل کمی کے ذمہ دار عمران خان اور ان کی معاشی ٹیم ہے۔ اس پر مرے پر سو درے والا معاملہ یہ کیا گیا کہ ملک کی معاشی پالیسی، ٹیکس لگانا اور ٹیکس وصول کرنا سب کچھ آئی ایم ایف کے براہ راست حوالے کردیا گیا ہے۔ اب آئی ایم ایف کے حاضر سروس ملازمین اپنے آقاؤں کے اشارے پر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں شرح سود کتنی رکھنی ہے ، روپے کو مزید کتنا گرانا ہے ،کس پر کتنا ٹیکس مزید لگانا ہے ، لگایا گیا ٹیکس کتنی بے رحمی سے وصول کرنا ہے اور اسے ملک سے باہر کس طرح سے منتقل کردینا ہے۔ عمران خان اور انہیں سلیکٹ کرنے والے دونوں ہی قوم کے مجرم ہیں جنہوں نے ملک کو براہ راست ایسٹ انڈیا کمپنی کے حوالے کردیا ہے۔ پہلے یہی اسٹیٹ بینک آف کستان روپے کی قدر کو روز بلا رکاوٹ کم کرتا ہے ، اس کی آڑ میں پٹرول ، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کئی سو فیصد اضافہ کردیتا ہے ، نئے ٹیکس لگاتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی ، بجلی ، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو دیکھتے ہوئے مجبوراً شرح سود میں اضافہ کرنا پڑا۔ آخر وہ وقت کب آئے گا جب عمران خان اور انہیں سلیکٹ کرنے والے یہ فیصلہ کریں گے کہ اب پاکستانی قوم کی گردن پر مسلط کیے گئے آئی ایم ایف کے گماشتوں کو دھکے دے کر ملک سے باہر کردیا جائے اور ملک کی پالیسیاں عوام کے مفاد میں خود بنائی جائیں۔ روپے کی قدر کو مستحکم کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے ، روس نے ایک دن میں یہ کام کیا تھا۔
جب سب کو معلوم ہے کہ روپے کی بے قدری نے تباہی مچادی ہے تو روپے کی روز گرتی قدر کو روکا کیوں نہیں جارہا اور اسے دوبارہ سے کم از کم ایک سو روپے فی ڈالر کی سطح پر لانے کے اقدامات کیوں نہیں کئے جارہے۔ کیا عمران خان اور انہیں سیلیکٹ کرنے والے آئی ایم ایف کے ہاتھوں بالکل ہی بے دست و پا ہوچکے ہیں۔ اب عوام کو بھی سمجھ لینا چاہیے کہ ابھی یا پھر کبھی نہیں کا وقت آن پہنچا ہے اور کرپشن کے خلاف نمائشی اقدامات ، گزشتہ ادوار میں برسراقتدار افراد کے خلاف عدالتی نورا کشتی کو کسی اور وقت کیلئے اٹھا رکھا جائے اور آئی ایم ایف کے گماشتوں کو ملک بدر کرنے اور معاشی پالیسیاں ملک کے مفاد میں مرتب کرنے کیلئے سڑکوں پر نکل آیا جائے۔ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو وہ وقت دور نہیں جب ملک کا دفاعی بجٹ یہ کہہ کر لپیٹ دیا جائے گا کہ ملک کی معیشت اسے برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔ عوام جو کچھ کماتے ہیں اور جو کچھ انہوں نے پس اندازکیا ہوا ہے ، وہ سب کا سب سود کی ادائیگی کے نام پر سرکار ضبط کرلے۔ ملک کے سارے ہی اثاثے یہ بینکار نادہندگی کا الزام لگا کر قرق کرلیں۔ ابھی توریڈیو پاکستان، ائرپورٹ ، موٹرویز اور دیگر اثاثے ہی گروی رکھے گئے ہیں۔ وہ وقت بھی دور نہیں جب ملک کے آبی وسائل بھی ان سودخوروں کے پاس گروی رکھ دیے جائیں گے اور عوام کو کاشتکاری تو دور کی بات پینے کا پانی بھی وافر مقدار میں ہونے کے باوجود دستیاب نہیں ہوگا۔ حتیٰ کہ بارش کا پانی بھی استعمال کرنے سے روک دیا جائے گا کہ یہ حکومت کی ملکیت ہے۔ یہ کوئی انو کھی بات نہیں ہے۔

qaiserchohan81@gmail.com