Voice of Asia News

بھارت طاقت اور تشدد کی پالیسی ترک کرکے مفاہمت کا رویہ اختیار کرے ، میرواعظ

 
سرینگر(وائس آف ایشیا) کل جماعتی حریت کانفرنس ’’ع‘‘ گروپ کے چیئرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے بھارتی حکومت پر زور دیاہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے ضمن میں دھونس دباؤ اور طاقت کی پالیسی اختیار کرنے کے بجائے مفاہمانہ طرز سیاست اختیار کرے کیونکہ طاقت اور تشدد کی پالیسی سے یہ مسئلہ نہ ماضی میں حل ہو سکا ہے اور نہ آئندہ اس مسئلہ کے حل کے حوالے سے اس طرح کا طرز عمل معاون یا مددگار ثابت ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ طاقت اور تشدد کی پالیسی سے یہاں کے عوام میں بھارت کے تئیں غم و غصے میں اضافہ ہو رہا ہے او ر کشمیری عوام کے دلوں میں نفرت اور بیزاری بڑھ رہی ہے ۔ مرکزی جامع مسجد سرینگر میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ایک کشمیر کش اور مسلم کش پالیسی اختیار کی گئی ہے ہر سطح پر سختیاں ، بندشیں عائد ہیں کہیں سڑکیں بند ہیں تو کہیں راستے اور کہیں ٹرین بند ہے اور اس طرح ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کشمیری عوام کو عذاب و عتاب کا شکار بنایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کو لگ رہا ہے کہ وہ طاقت اور ظلم کی پالیسی اختیار کر کے اس مسئلہ کو دبا سکتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ ستر سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا مگر مسئلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت و ہیئت میں کوئی تبدیلی واقعہ نہیں ہوئی ۔یہ مسئلہ آج بھی اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے آج بھی بھارت ، پاکستان اور کشمیری عوام اس مسئلہ کے فریق ہیں اور آج بھی سرینگر اور مظفر آباد میں اقوام متحدہ مبصرین موجود ہے اور آج بھی اقوام متحدہ کے حقوق انسانی ادارے کی سالانہ رپورٹ میں کشمیر میں حقوق انسانی کی پامالیوں پر صدائے احتجاج بلند کیا جاتا ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ بھارتی حکومت سے کہنا چاہتے ہیں کہ وہ طاقت اور تشدد کی پالیسی ترک کر کے مفاہمت کا راستہ اختیار کرے کیونکہ اگر ہمیں اس مسئلہ سے باہر نکلنا ہے تو اس کے لئے واحد راستہ یہی ہے کہ اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ بامعنی مذاکراتی عمل کا آغاز کیا جائے اور اگر ایسے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں تو پاکستان اور کشمیری عوام کی طرف سے اس پر مثبت ردعمل سامنے آ سکتا ہے کیونکہ آگے بڑھنے کا یہی ایک واحد راستہ ہے ۔
وائس آف ایشیا20جولائی 2019 خبر نمبر46

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •