Voice of Asia News

چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر حکومت کی نئی حکمت عملی

لاہور (وائس آف ایشیا) چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر حکومت نے نئی حکمت عملی اپنا لی ہے۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پر حکومت نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی۔ جس کے تحت حکومت نے اب نرم مؤقف رکھنے والے اپوزیشن رہنماؤں سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا بلکہ کئی رہنماؤں سے تو رابطہ کرنے کے سلسلے کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملہ پر حکومت اور اپوزیشن میں ایک بار پھر مذاکرات شروع ہوں گے۔ اپوزیشن قائدین 25 جولائی کے احتجاج میں مصروفیت کی وجہ سے حکومت سے مذاکرات نہیں کر سکے تھے۔ حکومت قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف اور پیپلز پارٹی کی سینٹر شیری رحمان سے بھی بات چیت کا آغاز کرے گی ، حکومتی مذاکراتی ٹیم نے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو سخت مؤقف رکھنے والے جمعیت علمائے اسلام (ف) سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔اس ملاقات کے بعد ہی فیصلہ کیا گیا کہ دیگرا پوزیشن جماعتوں میں لچک دارا اور نرم مؤقف رکھنے والے رہنماؤں سے رابطہ کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق اب حکومتی مذاکراتی ٹیم نے نئی حکمت عملی کے تحت کوشش شروع کردی ہے کہ کسی طرح ڈیڈ لاک ختم کرنے کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی سے با مقصد بات چیت ہوجائے ،اس حوالے سے حکومتی مذاکراتی ٹیم کے علاوہ دیگر سطح پر بھی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی میں رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔خیال رہے کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حاصل بزنجو کے بآسانی چیئرمین سینیٹ بننے کی پیش گوئی کی تھی۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ نئے چیئرمین سنیٹ کے عہدے پر اپوزیشن کے مشترکہ نامزد امیدوار حاصل بزنجو آسانی سے کامیاب ہوجائیں گے۔خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے مل کر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے لیے قراردار بھی جمع کروائی گئی تھی۔اپوزیشن چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹا کر ان کی جگہ اپنا بندہ لانا چاہتی ہے جس کے لیے اپوزیشن جماعتیں چیئرمین سینیٹ کے لیے حاصل بزنجو کے نام پر متفق ہوئی تھیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنما راجہ ظفر الحق اور اپوزیشن کے دیگر ارکان نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے تحت قرارداد سیکرٹری سینیٹ کو جمع کروائی۔ تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پر اپوزیشن جماعتوں کے 38 ارکان کے دستخط موجود ہیں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •