Voice of Asia News

عرفان صدیقی کی گرفتاری پر تحفظات ہیں، تحقیقات کریں گے، معاون خصوصی

اسلام آباد (وائس آف ایشیا )وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے عرفان صدیقی کی گرفتاری کی تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ عرفان صدیقی کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کرنا مناسب عمل نہیں ۔ نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ عرفان صدیقی نے جن کو مکان کرائے پر دیا، ان سے متعلق کچھ سوالات ہیں، نیشنل ایکشن پروگرام کے تحت کرایہ دار کی معلومات جمع کروانی ہوتی ہے، یہ قانون (ن )لیگ کے دور میں بنا اور اس کا پرچار مریم اورنگزیب اور مریم نواز بھی کرتی تھیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت قلم کے تقدس کو تسلیم کرتی ہے، ہمیں بھی عرفان صدیقی کی گرفتاری کے حوالے سے کچھ تحفظات ہیں، کیس کی ایف آئی آر آئی جی صاحب سے منگوائی ہے، دوطرفہ مؤقف کو سننا پڑے گا پھر معاملے کا پتا چلے گا۔معاون خصوصی نے کہا کہ معاملے کی تہہ تک پہنچیں گے، حکومت کی پالیسی نہیں کہ پس پردہ اقداما ت کرے، حکومت کسی سطح پر بھی کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرے گی، اداروں با اختیار بنانا ہمارا مشن ہے، تھوڑا سا وقت دیا جائے، گرفتاری کے معاملے کی تحقیقات کریں گے، یقین دلاتے ہیں کسی سے نا انصافی نہیں ہوگی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ عرفان صدیقی کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کر نا مناسب عمل نہیں ہے ۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ قانون سب کیلئے یکساں ہے، جو نوازشریف کا ساتھی ہے کیا اس کے خلاف قانونی کارروائی نہ کریں۔انہوں نے کہاکہ حکومت قلم کے تقدس کو تسلیم کرتی ہے، عرفان صدیقی اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔
وائس آف ایشیا27جولائی 2019 خبر نمبر145

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •