Voice of Asia News

پہلے پارلیمانی سال میں قومی اسمبلی کی کارکردگی قابلِ ذکر نہیں رہی

اسلام آباد( وائس آف ایشیا ) 2018 کے انتخابات کے بعد تشکیل پانے والی قومی اسمبلی کا پہلا پارلیمانی سال مکمل ہو گیا تاہم قانون سازی، بہتر طریقے سے ایوان کی کارروائی جاری رکھنے اور وزیراعظم کی حاضری کے حوالے سے کارکردگی کوئی خاص قابلِ ذکر نہیں رہی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 13 اگست کو قومی اسمبلی کی تشکیل کو ایک سال مکمل ہوگا جس میں 50 سے زائد سرکاری اور نجی بل اب بھی قائمہ کمیٹیوں میں زیر التوا ہیں۔ایوان کے اصول و ضوابط کے مطابق ایک سال کے عرصے میں 120 دن قومی اسمبلی کے اجلاس ہونا لازمی ہیں تاہم موجودہ اسمبلی اپنے پہلے پارلیمانی سال میں اب تک 120 دن کے اجلاس ہی کرپائی ہے جس میں دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس کے 3 روز بھی شامل ہیں۔ تاہم حقیقی طور پر قومی اسمبلی کے اجلاس 88 دن ہوا ہے کیوں کہ 120 دنوں میں 2 ورکنگ ڈیز کے درمیان آنے والی چھٹی کو بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ اجلاس کی کارروائی مجموعی طور پر 263 گھنٹے اور 29 منٹ جاری رہی جس میں بجٹ سیشن کے 90 گھنٹے بھی شامل ہیں۔علاوہ ازیں متعدد اجلاس ایوان میں بدنظمی کے سبب بھی متاثر ہوئے جبکہ کچھ مواقعوں پر ارکین آپے سے باہر ہوگئے اور ہاؤس کو آرڈر میں رکھنے میں ناکامی پر اسپیکر کو اجلاس ملتوی کردیا گیا۔خاص کر گرفتار اراکین اسمبلی کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کے معاملے پر اپوزیشن کے احتجاج کے سبب اسپیکر کو سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔اس وقت 6 اراکین اسمبلی پولیس، نیب ور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی زیر حراست ہیں جن میں سابق صدر آصف علی زرداری، مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق، رانا ثنا اﷲ، شاہد خاقان عباسی اور وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 2 آزادا اراکین علی وزیر اور محسن داوڑ شامل ہیں۔آشیانہ ہاؤسنگ اسکیناڈل میں ضمانت ملنے سے قبل قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف بھی کئی اجلاسوں میں پروڈکشن آرڈز پر شریک ہوئے۔ ایک سال کے عرصے میں قومی اسمبلی کے 12 سیشنز میں 10 بل منظور کیے گئے جس میں 10ویں آئینی ترمیم، فنانس ایکٹ 2019 اور 2 ضمنی فنانس بل بھی شامل ہیں جبکہ 2 بل ایسے بھی شامل ہیں جس کا مقصد نئی قانون سازی کے بعد رسمی طور پر پرانے قوانین کو منسوخ کرنا تھا۔علاوہ ازیں اس میں 26 آئینی ترمیم بھی شامل ہے جس مں قبائلی اضلاع سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کیا گیا، یہ بل 13 مئی کو محسن داوڑ نے پیش کیا تھا جو سینیٹ کی منظوری کے لیے زیر التوا ہے۔قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق قائمہ کمیٹیوں میں زیرِ التوا 56 بلز میں سے حکومت کے 15 جبکہ نجی اراکین نے 41 بلز شامل ہیں۔ اسپیکر اسمبلی کی جانب سے سادگی مہم کے تحت قائمہ کمیٹیوں کے تمام اجلاس منسوخ کرنے سے بھی ان کے افعال متاثر ہوئے جبکہ اپوزیشن جماعتیں بھی اس حوالے سے معترض ہیں۔اس کے علاوہ موجودہ اسمبلی میں اسپیکر کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے لفظ ’سیلیکٹڈ‘ کے استعمال پر پابندی لگانے کی رولنگ پر ہنگامہ مچا رہا جس کا اپوزیشن اراکین نے اپنی تقاریری میں استعمال کر کے نہ صرف تمسخر اڑایا بلکہ تنقید بھی کی۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں وزیراعظم کی طویل غیر حاضری پر بھی اعتراض کیا جاتا رہا۔عہدے پر منتخب ہونے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ وہ باقاعدگی سے نہ صرف اجلاس میں شرکت کریں بلکہ برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز کی طرز پر اراکین کے سوالوں کے جواب بھی دیں گے۔تاہم حاضری کے ریکارڈ کے مطابق وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان نے محض 12 یعنی 14 فیصداجلاس میں شرکت کی ہے۔
وائس آف ایشیا29جولائی 2019 خبر نمبر22

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •