Voice of Asia News

سقوط کشمیر :محمد قیصر چوہان

بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی’’ نیم خود مختار‘‘ حیثیت ختم کردی۔ ریاست کووفاقی علاقہ قرار دیتے ہوئے اسے 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کردیا۔نریندرمودی حکومت نے اس حوالے سے صدارتی فرمان بھی جاری کرادیا جس کے مطابق بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35اے کومنسوخ کردیا گیا ہے جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی علاقہ کہلائے گا جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔لداخ کوجموں و کشمیرسے الگ کرتے ہوئے اسے وفاق کے زیر انتظام علاقہ بنادیا گیا جس کی قانون ساز اسمبلی نہیں ہوگی۔کشمیریوں کواب اپنا پرچم لگانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر پر 72 برس سے ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ رہی ہے، پاکستان کشمیر کا دعویدار ہے لیکن مدعی اس قدر سست ہے کہ جب بری طرح تشدد کیا جاتا ہے کشمیریوں کو لہولہان کر دیا جاتا ہے تو ایک بیان داغ دیا جاتا ہے۔بھارتی فورسز نہتے کشمیری عوام پر کلسٹر بم پھینک رہی ہیں۔ پاکستانی حکومت کی جانب سے صرف مذمت، سخت احتجاج اور بھارت کو تنبیہ سے آگے کچھ نہیں کرسکتی۔ جب سے امریکی صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی ہے اس کے بعد سے نریندر مودی کا دماغ حد سے زیادہ خراب ہو گیا بھارتی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ نریندر مودی مذاکرات کے بغیر مسئلے حل کرانا جانتے ہیں۔ اس کے بعد سے کشمیر میں بھارتی مظالم میں اضافہ ہوگیا۔ وادی میں دس ہزار فوجی بھی بھیج دیے۔ اب کلسٹر بم بھی مار دئیے گئے۔ سقوط کشمیر کی خبریں کئی روز سے آرہی تھیں جبکہ تین دن قبل اس کی تصدیق ہوگئی تھی کہ مودی نے کشمیرکی متنازع حیثیت ختم کرنے کیلئے پا نچ اگست کو بھارتی پارلیمنٹ کے اجلاس میں بل پیش کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کیلئے بی جے پی کے تمام اراکین پارلیمنٹ کو لازمی طور پر اپنی حاضری یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلئے تمام بھارتیوں اور غیر ملکیوں کو مقبوضہ کشمیر فوری خالی کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے تھے جبکہ وادی میں اضافی بھارتی فوج بھی تعینات کردی گئی تھی۔ مقبوضہ جموں و کشمیر یوں تو بھارت کے تسلط ہی میں تھا مگر عالمی طور پر اس تسلط کو تسلیم نہیں کیا گیا تھا اور یہ متنازع علاقہ ہی تصور کیا جارہاہے۔ بھارتی حکومت نے وادی کو بھارت میں ضم کرنے کے اعلان کے بعد اب اس کی متنازع حیثیت ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ مودی حکومت نے خود بھارتی آئین کو پامال کر کے شق 370 ختم کر دی جو کشمیر کو علیحدہ حیثیت دیتی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ سے زائد بھارتی فوج کی موجودگی کے باوجود کشمیری آزادی کے نعرے بلند کرتے رہے ہیں اور انہوں نے ان نعروں کی قیمت بھی ادا کی ہے۔ یہ پاکستان کی ذمہ داری تھی کہ وہ کشمیر میں بسنے والوں کو بھارتی تسلط سے آزادی دلاتا مگر پاکستان کا کردار کشمیر کی آزادی کے سلسلے میں مایوس کن ہی رہا۔ گزشتہ کئی عشروں سے پاکستان نے کشمیر کے مسئلے کو پس پشت ڈال رکھا تھا اور اس کے بجائے بھارت سے امن کی آشا کی بات کی جاتی رہی۔ بھارت نے اس سے خوب فائدہ اٹھایا اور اب اپنے قدرتی اتحادی اسرائیل کے ساتھ مل کر کشمیر میں وہی کھیل کھیلا جو اسرائیل فلسطین میں کھیل رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے آنے والی ان اطلاعات کے باوجود کہ کشمیر کو بھارت کے ساتھ ضم کرنے کا اقدام کیا جارہا ہے ، پاکستان کی جانب سے کوئی جوابی پیش قدمی نہیں دکھائی دی۔
پاکستان کی جانب سے امن کی بے جواز پالیسی کے سبب پاکستان اپنے ایک اہم علاقے سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں سے پاکستان آنے والے سارے دریا پھوٹتے ہیں جن پر بھارت پہلے سے بند بنا کر پاکستان کو خشک سالی اور سیلاب سے دوچار کرتا رہا ہے۔ پاکستان کے ارباب اختیار کو سمجھنا چاہیے کہ یہ احمقانہ سلوگن ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ جنگ یقینا کسی مسئلے کا حل نہیں مگر یہ مسئلے کے حل کی طرف ضرور لے جاتی ہے۔ فلسطینی اسرائیل کے ساتھ اور کشمیری اگر بھارت کے ساتھ معرکے کی وہی صلاحیت رکھتے ہوتے جو طالبان کے پاس ہے تو امریکا کی طرح اسرائیل اور بھارت بھی مذاکرات کی میز پر بیٹھے اپنے زخم چاٹ رہے ہوتے۔ اگر طالبان بھی محض احتجاج کی راہ اختیار کرتے تو ان کا حال بھی وہی ہوتا جو اسرائیل نے فلسطین کے ساتھ کیا ہے۔ اگر پاکستان پلوامہ واقعے کے بعد بھارتی دراندازی کا جواب نہ دیتا تو کیا بھارت باز آسکتا تھا۔ ہر جگہ امن کی خواہش کام نہیں آتی ہے اور لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ اگر پاکستان بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے نہ کرتا تو اب تک بھارت پاکستان کو ہڑپ نہ کرتا تو بھی اس کی حیثیت کو بھوٹان سے کمتر کرچکا ہوتا۔ اگر کوئی ملک اپنا دفاع نہیں کرنا چاہتا اور دشمن کی جارحیت کے سامنے بھی امن کی رٹ لگانااسے پسند ہے تو پھر اس ملک کو فوج رکھنے کا کوئی حق نہیں۔ بہتر ہے کہ سوئٹزرلینڈ کا ماڈل اپنا لیا جائے۔ کشمیری اب بھی پراُمید ہیں کہ کوئی محمد بن قاسم ان کی مدد کو پہنچے گا مگر پاکستان کی دوڑ دھوپ دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی اُمیدیں بے سود ہیں۔ پاکستان اپنے عوام کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کیلئے دوڑ دھوپ ضرور کرے گا یعنی پہلے اسلامی ممالک کی تنظیم کے پاس جائے گا ، پھر اقوام متحدہ کی جنرل کونسل اور پھر سلامتی کونسل میں روئے دھوئے گا۔ مگر ان عالمی فورموں پر آج تک کون سا مسئلہ حل ہو اہے جو اب حل ہوجائے گا۔ سب تقریریں کریں گے اور ایک مذمتی قرارداد منظور ہوجائے گی اور بس۔
پاکستان نے اعتماد سازی کے اقدامات کے نام پر بھارت کے ہر املا پر عمل کیا۔ حافظ سعید اور ان کی جماعت پر پابندی لگائی ، انہیں گرفتار کیا ، کشمیری مجاہدین کو دہشت گرد قرار دیا ، کلبھوشن کو فوری طور پر سزا دینے کے بجائے معاملہ لٹکا کر رکھا کہ بھارت اس پر اپنے دوستوں کے ذریعے میدان ہموار کرسکے ، کرتار پور کا راستہ یکطرفہ کھولا اور اس کیلئے راتوں رات راستے بھی بنا ڈالے ، بھارت کو سلامتی کونسل کی نشست کیلئے نہ صرف خود ووٹ دیا بلکہ اپنے دوست ممالک کو بھی پیغام بھیجا کہ بھارت کو سلامتی کونسل کا رکن بنانے پر پاکستان کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ پاکستان نے بھارت کو خوش کرنے کے کون کون سے اقدامات نہیں کیے۔ اس کا جواب بھارت نے یہ دیا کہ پلوامہ حملے کا الزام لگا کر پاکستانی سرزمین پر حملہ کردیا۔ اور اب پاکستان کی مستقل منمناہٹ کو دیکھتے ہوئے بھارت نے کشمیر کو ضم کرنے کا اعلان ہی کردیا ہے۔ اسی بھارت کی اس وقت آواز بھی بلند نہیں ہوئی تھی جب چین نے ڈوکلام کے علاقے میں قبضہ کرکے بھارتی فوجیوں کو چلتا کردیا تھا۔ پاکستانی قیادت کو چاہیے کہ وہ تاریخ سے سبق حاصل کرے۔ بدر ، احد اور یرموک کے غزوات نہ ہوتے تو مسلمان ختم ہوچکے ہوتے۔ ہدایت بھی یہی ہے کہ گھوڑے تیار رکھو کہ گھوڑوں کی سموں کے زمین پر پڑنے والی ضربوں سے اڑنے والی دھول کی قسم رب العالمین نے بھی اپنی مقدس کتاب میں کھائی ہے۔ریلیوں اور احتجاجی مظاہروں کی صورت میں ہونے والے ماتمی جلسوں کا کچھ حاصل حصول نہیں ہے۔ ابھی نہیں یا پھر کبھی نہیں کے مصداق فوری فیصلے کرنے ہوں گے۔ تاہم کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت کشمیر کے حل کیلئے کیے جانے والے نریندر مودی کے فیصلے سے متفق نہیں تو حامی ضرور ہے اور دوڑ دھوپ اور دھمکیاں محض خانہ پری ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور تاریخ کی کتابوں میں ان کا نام میر جعفر اور میر صادق کے ساتھ ہی لکھا جائے گا۔ کشمیری تو کل بھی جدوجہد کررہے تھے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ بھارتی جبر و تشد د کے سامنے انہوں نے پہلے بھی سر تسلیم خم نہیں کیا تھا اور اب بھی وہ ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار ہیں مگر جس طرح تمام مسلم ممالک نے اپنے کشمیری بھائیوں کو پیٹھ دکھائی ہے ، اس کے بعد سے پوری دنیا میں مسلمان مزید ابتلا کا شکار ہوں گے۔ میانمار جیسا ملک دھڑلے کے ساتھ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کررہا ہے۔ چینی صوبے سنکیانگ میں دس لاکھ سے زائدمسلمان زیر حراست ہیں اور انہیں جبری طور پر اپنا مذہب چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ فلسطینی پہلے ہی لاچار ہیں ایسے میں پاکستان کی جانب سے خاموشی سے دنیا بھر میں مسلمانوں پر مظالم کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ پاکستان کے حکمرانوں کو اب نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے کہ بھارت کیلئے اعتماد سازی کے اقدامات کا اب وقت گزرچکا۔ انہیں اب پاکستانی قوم کی اعتماد سازی کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ پاکستانیوں کے دل اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور وہ پاکستان کی شہ رگ کشمیر کو آزاد کروانے کیلئے ہر ممکن اقدام کیلئے تیار ہیں۔ اگر پاکستان کے حکمرانوں نے پاکستانی عوام کے جذبات نہیں سمجھے تو جذبات کا یہ سیلاب انہیں بھی بہاکر بھی لے جاسکتا ہے۔
نام نہاد عالمی برادری دنیا بھر میں مسلمانوں کے قتل عام پر کبھی جنبش نہیں کرتی۔ اسے تو توہین رسالت کی مجرمہ آسیہ مسیح کی فکر ہوتی ہے۔ قادیانی اقلیت کی فکر ہوتی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کو جے رام نہ کہنے پر جلا ڈالنے پر دنیا کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گن کے استعمال پر انسانی حقوق کی تنظیمیں سوتی رہتی ہیں پھر مہینوں بعد اپنی رپورٹ میں تشویش ظاہر کرتی ہیں۔ لیکن بھارت کے ہاتھ بھی اسرائیل کی طرح نہیں پکڑے جاتے۔ اسے کسی قسم کی عالمی پابندیوں کا خوف نہیں۔ کوئی مسلمان ملک ایٹم بم بنا لے یا کوئی میزائل یا طیارے خرید لے تو اسے محض یہ سامان خریدنے پر ٹرمپ بہادر دھمکیاں دیتے ہیں اور پیلٹ گنوں اور کلسٹر بموں کے استعمال پر صرف زبانی جمع خرچ کوئی پابندی کوئی رکاوٹ کچھ نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ عالم کفر ایک ہے بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ عالم اسلام ایک نہیں ہے۔ سب نے اپنی اپنی الگ دکان بنا رکھی ہے۔ امریکی کاسہ لیسی میں ایک دوسرے سے بڑھ گئے ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ کشمیر پاکستان کا مسئلہ ہے اور پاکستانی حکمران ہی بودے بنے ہوئے ہیں۔ جہاد کے نام سے ایسے بدکتے ہیں جیسے یہ کوئی غلط چیز ہے۔ حالانکہ بھارت کی لاکھوں کی افواج کو ناکوں چنے چبوانے والا یہ جہاد ہی تھا۔ ہمارے حکمرانوں نے جہاد سے روگرانی کی اور اب امریکی صدرٹرمپ کی ثالثی کی طرف نظریں ہیں۔ میر کیا سادہ ہی ،بھلا ٹرمپ پاکستان کے لیے کسی مسئلے میں ثالثی کیونکر کرے گا۔امریکا صرف اور صرف اپنے مفادات کا دوست ہے۔
کشمیر کا مسئلہ سب سے زیادہ پاکستانی حکمرانوں نے خراب کیا ہے۔ پاکستان میں ہر حکمران کشمیر پر مختلف موقف اختیار کرتا ہے کبھی جنرل پرویز کشمیر پر تھرڈ آپشن کی بات کرتے ہیں تو کبھی بے نظیر، راجیو کی آمد پر کشمیر ہاؤس کے بورڈ اترواتی ہیں اور کبھی نواز شریف گجرات کے قسائی دہشت گرد مودی کو ویزے کے بغیر ذاتی مہمان کے طور پر اپنے گھر بلا لیتے ہیں اور اب عمران خان ملاقات کے لیے بے چینی کا مظاہرہ کرکے پاکستان کی بے عزتی کروا چکے ہیں کہ کسی طرح وہ دعوت دے دے… اب عالم اسلام کیا کرے گا۔ وہ وقت گزر گیا جب عالم اسلام فلسطین کے لیے ایک ہو جاتا تھا اور پورے عالم اسلام میں کوئی ملک نہیں بچتا تھا جہاں کشمیر کے لیے آواز نہ اٹھتی ہو اور فلسطین کے لیے جلوس نہ نکلتا ہو۔ لیکن یہی عالم اسلام جو کسی زمانے میں کلسٹر بم تھا اب ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہے۔سعودی عرب اور ایران کی لڑائی، سعودی عرب اور یمن کی لڑائی، عراق اور عربوں کی لڑائی، شام میں کون کس سے لڑ رہا ہے اس کا پتا ہی نہیں چل رہا۔ مصر میں اخوان کو کچل کر رکھ دیا گیا۔ باقی اسلامی ممالک تو قابل ذکر بھی نہیں۔ لے دے کر ترکی سے آواز اٹھتی ہے۔ تو اس پر بھی اسلامی ممالک سے ہی اعتراض اٹھتا ہے مدعی سست ہو تو کوئی دوسرا کیا کرے گا۔ اب اے پی سی بلائی جائے گی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا۔ تقریریں کی جائیں گی اور پھر خاموشی… عالم اسلام کا کلسٹر بکھر چکا ہے۔ جس روز یہ متحد ہو گئے ایک آواز ہو گئے تو پھر کسی کا کلسٹر بم کام نہیں کرے گا۔ لیکن اس کیلئے ان ممالک میں دلیر، اسلامی اور حقیقی قیادت کی ضرورت ہے جب تک حقیقی اسلامی قیادت نہیں آئے گی۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •