Breaking News
Voice of Asia News

کشمیر کسی ایک نہیں یہ پاکستان کے عوام کا مقدمہ ہے، فردوس عاشق اعوان

اسلام آباد (وائس آف ایشیا)وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ کشمیر کسی ایک جماعت یا حکومت کا نہیں یہ پاکستان کے عوام کا مقدمہ ہے اور سب کو مل کر طاقت اور یکجہتی سے لڑنا ہے۔ یہ کوئی پاکستان میں تصور نہیں کر سکتا کہ اسرائیل یہاں اپنے کسی بغل بچے کو مضبوط کر کے کشمیریوں کو دیوار سے لگا دے اور ان کو اقلیت میں تبدیل کر دے اور اس قسم کے قوانین بنائے کہ ان کو مہاجرین کا درجہ دینے کے لئے تمام پس پردہ سازشیں کرے، اس حوالہ حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے ہے کہ ہم یہ نہیں ہونے دیں گے، حکومت اپوزیشن سے مشاورت کے بعد راہ ہموار کرے گی۔ بطور خود مختار ملک پاکستان نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370اور 35اے کو کبھی بھی نہیں مانا اور پاکستان نے ہمیشہ اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ آرٹیکل 370اور 35اے کشمیریوں کے حق استصواب رائے کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے اور اس کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کرتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار فردوس عاشق اعوان نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز وزیر اعظم عمران خان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لئے اپنے چیمبر میں 11بجے سے ہی موجود تھے۔ اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کے ساتھ قرارداد پیش ہوتا تھی تاہم جب قرارداد اپوزیشن کے سامنے رکھی گئی تو اپوزیشن نیا مطالبہ کر دیا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرکے انہیں ایوان میں لایا جائے اس کے بغیر نہ ہم کوئی قرارداد پیش ہونے دیں گے اور نہ کسی کاروائی میں حصہ لیں گے۔ پروڈکشن آرڈرز جاری کر کے انہیں پارلیمنٹ لانے کی وجہ سے سب کو انتظار کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان آرٹیکل 370کو مانتا ہی نہیں تو ہم اس کا دفاع کیوں کریں اس لئے حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ اس حوالہ سے مذاکرات کئے اور اپوزیشن نے حکومت کی بات مان لی اور پھرسب نے قومی مفاد میں فیصلہ کیا کہ اس کو قرارداد میں شامل نہیں آنا چاہیئے اور پھر وہ پیش نہیں ہوئی۔ فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے بیان کے بعد بھارت نے نئی مہم جوئی کر دی اس لیئے وزیر اعظم عمران خان نے امریکی صدر کے بیان پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا اور وزیر اعظم سمجھتے تھے کہ ابھی اس راستہ سے بہت سی رکاوٹیں ہٹانا باقی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کا نریندر مودی کے حوالہ سے اندازہ غلط نہیں تھا بنیادی طور پر ایک قیادت دوسری قیادت سے توقع کرتی ہے اور ہم یہ توقع کر رہے تھے یہ الیکشن کا بخار ہے اور الیکشن کے بعد اتر جائے گا اور ان کو احساس ہو گا کہ خطہ میں استحکام آنا ضروری ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن کی خواہش رکھنا کوئی جرم تو نہیں ہے اور اس امن کی خواہش کو الفاظ کے زریعہ بیان کرنا قیادت کی کوالٹی ہوتی ہے کہ وہ تصادم پر یقین نہیں رکھتی بلکہ وہ مشاور ت اور مذاکرات پر یقین رکھتی ہے ۔نریندر مودی نے وزیر اعظم عمران خان کی قدرتی خواہش کہ ہم خطہ میں غربت، بیروزگاری کے خلاف لڑیں اور خطہ میں مجموعی معاشی بدحالی کے خلاف لڑیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی چونکہ اس وقت ہوا کے گھوڑے پر سوار ہے اور طاقت کے نشہ میں چور ہے اور وہ خطہ میں سپر پاور بننے کا خواب دیکھ رہا ہے اس نے اس کی عکاسی کی ہے اور پاکستان اچھی طرح سے جانتا ہے کہ اس نے اپنے حقوق کا کیسے تحفظ کرنا ہے کیسے بھارت کے مائنڈ سیٹ کو شکست دینی ہے ۔ بھارتی طیاروں کا گرایا جانا اور پھر اس کے پائلٹ کا واپس کرنا اس سے پاکستان کا بیانیہ مظبوط ہوا ہے کمزور نہیں ہوا۔
وائس آف ایشیا07اگست 2019 خبر نمبر4

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •