دفعہ370اور35اے ریاست کے متنازعہ ہونے کی مستنددلیل ہے ،سید علی گیلانی کی گفتگو

 

سرینگر(وائس آف ایشیا ) کل جماعتی حریت کانفرنس(گ)نے کہا ہے کہ دفعہ370اور35اے اگرچہ کھوکھلے ہی ہیں، لیکن ان کی اپنی ایک تاریخ، ایک پہچان اور ریاست کے متنازعہ ہونے کی ایک مستند اور عالمی طور پر تسلیم شدہ دلیل ہے اور اب حکومت اس دستاویز کو ختم کرکے یہاں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کا ایک گھناونا اور مکروہ کھیل کھیلنے کی تیاریاں کررہی ہے ۔ انہوں نے حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کسی بھی مہم جوئی کی پوری طاقت سے مزاحمت کی جائے گی۔ایک بیان کے مطابق حریت چیرمین نے کہا کہ خصوصی دفعات کو کھوکھلا اور بے اثر کرنے کے اصل ذمہ دار اور مجرم یہاں کے ہندنواز ہیں۔ انہوں نے ہی جاہ وحشمت کی لالچ میں اِن کی روح کو ختم کرکے رکھ دیا تاکہ ان کے آقاوں کے خاکوں میں رنگ بھر کر وہ اپنی وفاوں کا صلہ حاصل کرتے رہیں۔ لینڈ گرانٹس بل کے مطابق غیر ریاستی لوگوں کو 90سال کے لیے زمین دینے کا قانون انہی شعبدہ بازوں نے بنایا۔ ان کی بکاو قیادت نے علی الاعلان کہہ دیا کہ 370کوئی قرآنی آیت تو نہیں جس کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا اور اگر یہ رکاوٹ ختم ہوگی تو ریاست کی ترقی اور خوشحالی کے دروازے کھل جائیں گے۔ آج یہی لوگ خصوصی پوزیشن کے بچاو کے لیے مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں۔ مرکزی حکومت کو سرزمین کشمیر پر للکارنے کا ڈرامہ رچانے والوں کی لگام تھوڑی سی کیا کسی گئی کہ پوراخاندان بشمول قانونی ضمیر فروش دہلی کے آستانہ پر سجدہ ریز ہوگئے۔ دریں اثناء سید علی گیلانی نے لبریشن فرنٹ کے محبوس چیرمین محمد یسین ملک کی تہاڑ جیل میں بگڑتی صحت پر اپنی گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنے ہی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ گیلانی نے کہا کہ ان کی ہمشیرہ کی طرف سے دی گئی پریس بریفنگ ہم سب کیلئے بہت ہی تشویش کا باعث بنی ہے۔ یاسین ملک پہلے ہی بہت سے عارضوں میں مبتلا ہے اور اگر اس کے علاج و معالجہ کے حوالے سے اسی طرح کی سرد مہری اور عدمِ دلچسپی کا مظاہرہ کیا گیا تو ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاری کے بعد حکومت کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ قیدی کی تمام بنیادی ضرورتیں پوری کریں۔ خاص کر جب قیدی بیمار اور کمزور ہو۔ ہندوستان کے اپنے شہری جب مجرم ہوکر قید کرلیے جاتے ہیں تو وہ ان کی سلامتی اور قانونی چارہ جوئی کے لیے بین الاقوامی اداروں کے دروازے بھی کھٹکھٹاتے ہیں اور انہیں ریلیف دینے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، لیکن آزادی اور اپنے سلب شدہ حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کو یہ بھارت جب گرفتار کرتا ہے تو اس کے ذہن میں انتقامی جذبے کے بغیر کوئی چیز نظر نہیں آرہی ہے۔ حریت چیئرمین نے کہا کہ ریاست کے باہر جیلوں میں قید کشمیری حریت پسندوں کے ساتھ بہت ہی متعصبانہ اور ظالمانہ سلوک کیا جاتا ہے، نہ وقت پر علاج کیا جارہا ہے، نہ معقول غذا فراہم کی جاتی ہے اور نہ ہی دوائیاں دی جاتی ہیں جن سے ان میں سے بیشتر لوگوں کی صحت تشویش ناک حد تک خراب ہوئی ہے، جن میں شبیر احمد شاہ، مسرت عالم بٹ، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، آسیہ اندرابی، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، پیر سیف اﷲ، راجہ معراج الدین کلوال، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، نعیم احمد خان، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، ظہور احمد وٹالی، سید شاہد یوسف، سید شکیل احمد وغیرہ شامل ہیں۔
وائس آف ایشیا07اگست 2019 خبر نمبر64