Breaking News
Voice of Asia News

مشاہد اللہ کی مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کی بجائے پارلیمنٹ کا ماحول خراب کرنے کی کوشش

اسلام آباد (وائس آف ایشیا ) مقبوضہ کشمیر پر آج بھی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا۔اجلاس کی صدارت چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کی۔پارلیمنٹ میں ن لیگی رہنما مشاہد اللہ اور وفاقی وزیر فواد چوہدری کے مابین سخت جملوں کا بھی تبادلہ خیال ہوا۔مشاہد اللہ نے مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کی بجائے پارلیمنٹ کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی۔مشاہد اللہ پارلیمنٹ میں نا مناسب الفاظ کا استعمال کرتے رہے۔انہوں نے وزیراعظمعمران خان کے لیے سلیکٹڈ کا لفظ بھی استعمال کیا۔مشاہد اللہ کے نامناسب الفاظ کو حذف کر دیا گیا،مشاہد اللہ شعر و شاعری بھی کرتے رہے اور وزیراعظم عمران پر تنقید کرتے رہے،مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کے لیے آںے والے مشاہد اللہ خطاب کے دوران ٹریک سے ہٹ گئے۔پارلیمنٹ میں آج بھی ایک غیر سنجیدہ رویہ دیکھنے کو ملا۔گذشتہ روز بھی پارلیمنٹ کا کچھ ایسا ہی ماحول تھا۔ اپوزیشن ارکان ایوان میں مسلسل نعرے بازی اور احتجاج کرتے رہے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایوان کی کارروائی کچھ دیر کے لئے معطل کردی تھی ۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر جیسا اہم ایشو بھی حکومت اور اپوزیشن کو متحد نہ کر سکا۔ بے شک حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بے شمار اختلافات موجود ہیں۔اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاری ہو یا ملک میں خراب معاشی صورتحال ہو۔حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر تنقید کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔حکومت کو بنے ایک سال ہو گیا لیکن اس تمام عرصے کے دوران عوام نے نہ تو حکومت کو سنجیدہ پایا اور نہ ہی اپوزیشن کو۔لیکن مسئلہ کشمیر پر بھی سیاستدانوں کا ایک پیج پر اکٹھا نہ ہونے پر عوام میں بھی مایوسی پیداہونے لگی ہے۔جو سیاسی رہنما عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ ہونے پر تنقید کرتی تھی وہ خود بھی قومی مفاد کو مدِنظر رکھتے ہوئے حکومت کے ساتھ ایک پیج پر کھڑی نہیں ہو سکی۔ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ ہے 22 کروڑ عوام کی سیاسی قیادت کی سیاسی بصیرت؟ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی سیاسی قیادت کی جانب سے اہم قدم نہ اٹھایا گیا تو پھر پاکستان کی عوام کا اپنے سیاسی رہنماؤں سے اعتبار اٹھ جائے گا۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •