Voice of Asia News

بچوں کے لیے انسداد ٹائیفائیڈ مہم سندھ بھر میں چلے گی

کراچی( وائس آف ایشیا)کراچی سمیت صوبے میں پہلی بار بچوں کوٹائیفائیڈ سے بچاوکی حفاظتی ویکسین مہم شروع کی جارہی ہے تاہم نومبرکے اختتام تک ٹائیفائیڈ ویکسین کوبچوں کے قومی حفاطتی ٹیکہ جات پروگرام (ای پی آئی ) میں شامل کرلی جائے گی۔حکومت سندھ نے صوبے کے بچوں کوٹائیفائیڈکے جراثیم سے سے محفوظ رکھنے کیلیے پہلی بارٹائیفائیڈکی حفاظتی ویکسین لگانے کا حتمی پروگرام مرتب کرلیا ہے۔ ٹائیفائیڈ حفاظتی ویکسین 9ماہ سے 15سال عمر تک کے بچوں کوانجکشن کے ذریعے لگائی جائیگی جبکہ مہم حیدرآباد سمیت سندھ کے 8 اربن اضلاع کے بچوں میں بھی حفاظتی ویکسین لگائی جائیگی۔ای پی آئی پروگرام کے صوبائی منیجر ڈاکٹر ظہوربلوچ نے بتایاکہ ٹائیفائیڈ ویکسین مہم کے دوران 11لاکھ بچوں کو ٹائیفائیڈ کے جراثیم سے بچاوکی حفاظتی ویکسین لگائی جائیگی یہ مہم 3دن تک جاری رہے گی جبکہ بچوں کو ٹائیفائیڈکے جراثیم سے محفوظ رکھنے کیلیے اس ویکسین کوپہلی بار بچوں کے قومی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات میں بھی روٹین ویکسین کے طورپر شامل کیاجارہا ہے جس میں بچوں کی روٹین ایمونائزیشن کے دوران ٹائیفائیڈ ویکسین کی ایک ڈوز لگائی جائیگی۔ای پی آئی میں شامل کی جانے والی ٹائیفائیڈ ویکسین کو اس لیے شامل کیا جارہا ہے کہ پاکستان میں ٹائیفائیڈکے جراثیم پردستیاب اینٹی بائیٹک کے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہورہے جس پر ماہرین صحت اورعالمی اداروں کی سفارش کے بعد ٹائیفائیڈ ویکسین کوبچوں کی روٹین ایمونائزیشن میں شامل کرنے کا فیصلہ کیاگیا جو رواں سال نومبر تک شامل کر لی جائیگی،نئی حفاظتی رٹین ویکسن کے ساتھ 9ماہ کی عمرکے بچہ کو صرف ایک ڈوزلگائی جائیگی۔ ویکسین لگانے سے بچہ زیادہ عرصے تک ٹائیفائیڈکے جراثیم سے محفوظ رہ سکے گا۔واضح رہے کہ کراچی،حیدرآباد سمیت اندرون سندھ میں ٹائیفائیڈکی وباء نے ماہرین صحت کو تشویش میں مبتلا کررکھا ہے کیونکہ ٹائیفائیڈکے جراثیم نے موجود دستیاب اینٹی بائیٹک کے خلاف مزاحمت اختیارکرلی ہے جس کی وجہ سے ماہرین صحت کواینٹی بائیٹک ادویات دینے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے جس کی وجہ سے بچوں کو زیادہ مقدارمیں اینٹی بائیٹک دینا پڑی رہی ہے، ٹائیفائیڈکے جراثیم زیادہ طاقتور ہونے کی وجہ سے بچوں کے قومی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکے جات میں ٹائیفائیڈ سے محفوظ رکھنے کیلیے مذکورہ ویکسین کوقومی پروگرام (ای پی آئی) میں شامل کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔
وائس آف ایشیا08اگست 2019 خبر نمبر34

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •