Voice of Asia News

مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کی مہم شروع:محمد قیصر چوہان

مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کیلئے بھارتی حکومت نے وہ سب کچھ کرلیا جس کی اسے ضرورت تھی۔ پہلے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کیا گیا ، پھر ایوان بالا راجیہ سبھا سے اس کیلئے بل منظور کروایا گیا اور پھر چھ اگست بروز منگل کو ایوان زیریں لوک سبھا نے بھی مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بل پر اپنی مہر ثبت کردی۔ بھارت نے یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں کردیا۔ اس کی تیاریاں مہینوں سے جاری تھیں۔
نریندر مودی حکومت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھار ت میں ضم کرنے کے بعد سے پاکستان میں جو کھیل کھیلا جارہا ہے ، اسے دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے پاکستان میں ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت عوام کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹائی جارہی ہے۔ حکومت پاکستان نے چھ اگست بروزمنگل کو ہنگامی طور پر دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلایا۔ قوم کو توقع تھی کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد بھارت کو پیغام جائے گا کہ مسئلہ کشمیر پر اور بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستانی قوم متحد ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی جارحیت کے توڑ کیلئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل بھی سامنے آئے گا۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جس نے بھی دیکھا ، اسے شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔پورے اجلاس کے دوران ایک مرتبہ بھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ یہ اجلاس بھارتی جارحیت کی مذمت اور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے بلایا گیا ہے۔ سارے ہی ارکان پارلیمنٹ اپنے رہنماؤں کی خوشامد میں مصروف رہے اور تمام ہی پارٹیوں کے رہنما اپنے خول میں بند نظر آئے۔ بھارت کو سب سے پہلا منفی پیغام ہی یہ گیا کہ اس میں عمران نیازی نے اپنی شرکت ضروری نہیں سمجھی۔ جب حزب اختلاف نے شورمچایاتو ساڑھے تین گھنٹے کے بعد وہ تشریف لائے۔ تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر اعظم سواتی نے قرارداد کا جو متن پیش کیا ، اس میں اصل بات یعنی بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کا کہیں ذکر ہی نہیں تھا۔ حزب اختلاف کے شور پر اسے قرارداد کے متن میں شامل کیا گیا۔اعظم سواتی کا یہ جملہ ریکارڈ ہوا کہ میں نے تو آرٹیکل 370 کا حوالہ دیا تھا جو نکلوا دیا گیا۔ تقریر کی پہلی دعوت شیریں مزاری کو دی گئی مگر ان کا اصل زور بھارت کی مذمت کے بجائے حزب اختلاف کی مذمت پر تھا۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جو غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیا گیا وہ تشویشناک تھا۔پارلیمنٹ کے پورے اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ نے جس رویے کا مظاہرہ کیا اسے بدترین سیاسی ناپختگی کی مثال قرار دیا جاسکتا ہے۔
حکومت نے گرفتاریوں کا کھیل بھی دوبارہ شروع کردیا ہے۔سات اگست بروز بدھ کو مفتاح اسمٰعیل کو گرفتار کیا گیا اورآٹھ اگست بروز جمعرات کو مریم نواز کی گرفتاری عمل میں آگئی جس کے ردعمل میں بلاول زرداری نے پارلیمنٹ میں ایک جذباتی تقریر بھی کی اور ایوان کا واک آؤٹ بھی کیا۔ اس پورے معاملے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مسئلہ کشمیر کہیں دب گیا اور مین اسٹریم میڈیا پر اب یہی موضوعات ہیں۔ مسئلہ کشمیر پر پوری قوم متحد ہے اور سب یک زبان ایک ہی مطالبہ کررہے ہیں کہ بھارت کو اس کا بھرپور جواب دیا جائے۔ حیرت انگیز طور پر پاکستان میں بیشتر سیاسی قیادتوں کی پوری کوشش ہے کہ متحد قوم کو کسی طرح منتشر کردیا جائے اور انہیں مختلف غیر متعلقہ مسائل میں الجھا دیا جائے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس میں تمام ایسی قوتیں کامیاب ہیں اور بتدریج مسئلہ کشمیر پاکستان میں بھی دوسری اور تیسری ترجیح بنتا جارہا ہے۔ اس امر کے بھی اندیشے ظاہر کئے جارہے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ ہوسکتا ہے جس میں فوری طور پر پاکستانی عوام کو مصروف کردیا جائے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بھارت کشمیر میں بنائے گئے اپنے آبی بند کے اسپل ویز کھول کر پاکستان میں سیلابی صورتحال پیدا کرسکتا ہے تاکہ کچھ عرصے تک پاکستان کا ایک بڑا حصہ مفلوج رہے اور مسئلہ کشمیر بتدریج برف خانے کی زینت بن جائے۔ بھارت تو کچھ بھی کرسکتا ہے مگر پاکستان میں پاکستانی رہنما ہی جو کچھ کررہے ہیں ، اسے دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ بھارت کو ڈرنے یا گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں سے ایسا کوئی ردعمل نہیں آے گا جو بھارت کیلئے کوئی مسئلہ پیدا کرسکے۔ ہر سطح سے ایک ہی پیغام واضح الفاظ میں دیا جارہا ہے کہ لائن آف کنٹرول کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی ، جنگ کا کوئی اندیشہ نہیں ہے ، بھارت کے خلاف قطعی طور پر ایسے اقدامات نہیں کئے جائیں گے جن کی بھارت پر زد پڑتی ہو، امن کی صورتحال کوخراب نہیں ہونے دیا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ صرف ایسے اقدامات کی نوید دی جارہی ہے جن سے دوڑ دھوپ کی جھلک تو دکھائی دے مگر عملی طور پر اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلے۔ ان تمام معاملات سے ایک بات ضرور واضح ہوتی ہے کہ مسئلہ کشمیر پر حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں ہی ایک صفحہ پر ہیں۔ کاش کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کشمیر کی آزادی کیلئے ایک صفحے پر ہوتیں مگر اس کے برعکس یہ دونوں ہی مسئلہ کشمیر سے پاکستانی عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کی کشمیر جیسے اہم ترین مسئلے پر سنجیدگی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس اجلاس میں ان کا اہم ترین مسئلہ ان کے نام کی درستی کی قرارداد کی منظوری تھا۔ مذکورہ قرارداد کے تحت اجلاس میں منظور کیا گیا کہ انہیں عمران خان نیازی کے بجائے عمران احمد خان نیازی لکھا اور پکارا جائے۔ ان کا پورا زور اس پر تھا کہ ن لیگ کے دور میں کشمیر کے مسئلے کو خراب کیا گیا۔ اس طرح سے یہ مشترکہ اجلاس بھارت کو کوئی موثر پیغام دینے کے بجائے ایک دوسرے کو گالیاں دینے اور ایک دوسرے کو مودی کا یار کہنے پر صرف ہوا۔ پاکستانی قوم اس وقت ایک صدمے کی حالت میں ہے اور منتظر ہے کہ پاکستان کی سیاسی طاقتیں اہم ترین پاکستانی علاقے جسے قائداعظم نے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا، اسے بھارتی تسلط سے آزاد کرانے کے لیے کیا قدم اٹھاتی ہیں۔ کور کمانڈرز کانفرنس کے ذریعے عسکری قیادت نے دنیا کو درست پیغام دیا ہے کہ وہ پیشہ ورانہ اہمیت کی حامل فوج ہیں اور انہیں ملک کی سیاسی قیادت جو بھی حکم دے گی ، وہ اس کے مطابق عمل کریں گے۔ یہ فیصلہ کرکے انہوں نے گیند سیاسی قیادت کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔ اس کے جواب میں ملک کی سیاسی جماعتیں جس احمقانہ طرز عمل کا مظاہرہ کررہی ہیں ، اسے نرم سے نرم الفاظ میں پاکستانی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔
وزیر اعظم عمران احمد خان نیازی کو یہ بات ضرور سمجھ لینی چاہیے کہ پہلے کے مقابلے میں اب دور تبدیل ہوچکا ہے اور اب مین اسٹریم میڈیا کو قابو کرکے عوام کی توجہ نہیں ہٹائی جاسکتی۔ متبادل ذرائع ابلا غ اب اتنے طاقتور ہوگئے ہیں کہ سرکار کی اس طرح کی کسی بھی منصوبہ بندی کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف تو ایک صفحے پر ہیں مگر بہتر ہوتا کہ یہ عوام کے ساتھ بھی ایک صفحے پر ہوتیں۔ عوامی جذبات اور ہی ہیں اور یہ حزب اقتدار ، حزب اختلاف اور ان کی ڈور ہلانے والوں سے یکسر مختلف ہیں۔ عوام منتظر ہیں کہ کشمیر پر سے بھارتی تسلط کے خاتمے کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل سامنے لایا جائے۔ عوام 1965 اور1971 کی طرح اپنی فوج کی پشت پر کھڑے ہیں بلکہ رضاکارانہ طور پر فوج سے آگے آگے دفاع کشمیر کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ وزیر اعظم عمران احمد خان نیازی کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر انہوں نے عوامی جذبات کے برخلاف بھارت کو رعایتیں دیں اور کشمیر کا سودا کیا تو انہیں بھی مودی کے برابر ہی رکھا جائے گا۔نریندر مودی تو کشمیر پر قبضہ کرکے اپنی قوم کا ہیرو بن گیا ہے مگر ہمارے حکمران غدار وطن ہی قرار پائیں گے۔اگر سرکار نے کشمیرکی آزادی کیلئے کوئی مناسب راستہ اختیار نہ کیا تو حریت کے جذبات سے بھرے نوجوان غیر ریاستی عناصر کا بھی شکار ہوسکتے ہیں جو کسی بھی صورت میں بہتر نہیں ہوگا۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •