Breaking News
Voice of Asia News

یورپی کو،مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیاعلی رضا

 
برسلز (وائس آف ایشیا) کشمیرکونسل یورپی یونین کے چیئرمین علی رضا سید نے یورپی ہیڈکوارٹرز برسلز میں اعلیٰ یورپی حکام سے ملاقات میں انہیں بھارت کی طرف سے دفعہ 370 اور 35Aکی منسوخی جس کے تحت جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی کے بعد مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق علی رضا سیدنے یورپی وزارت خارجہ (ایکسٹرنل ایکشن سروس) کے دفتر میں پاکستان ، افغانستان اور بھارت سے متعلق امور کے سربراہان کے ساتھ طویل ملاقات کے دوران یورپی حکام کو خطے کی موجودہ صورتحال خصوصاً بھارتی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر کی جداگانہ حیثیت کو ختم کرکے اس متنازعہ خطے کے ایک بڑے حصے کو بھارت میں شامل کرنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے آگاہ کیا۔اس موقع پر یورپی یونین کے سابق سفیر اور کشمیرکونسل ای یو کے سینئر مشیر مسٹر انتھونی کرزنر اور کشمیرکونسل ای یو کی عہدیدار مس رامونا بنزربھی موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خطے کے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور صورتحال کو بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ یورپی حکام نے مقبوضہ کشمیر کی خراب صورتحال پر تشویش بھی ظاہر کی۔علی رضا سید نے کہاکہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور بھارت نے جموں و کشمیر کی جداگانہ حیثیت کو ختم کرکے غاصبانہ اقدام کیا ہے۔انھوں نے کہاکہ خطے کے تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال خاص طورپر بھارت کی طرف سے دفعہ 370اور35Aکی منسوخی کے خطرناک نتائج برا?مد ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور سینکڑوں سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کرلیاگیا ہے جبکہ وہاں مسلسل کرفیو نافذ ہے اور لوگوں کا قافیہ حیات تنگ کردیاگیا ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کے حکام سے کہاکہ وہ حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنے کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم بند کروائیں اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا اہم کردار ادا کریں۔کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین نے ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہاہے کہ یہ ملاقات انتہائی مفید اور تعمیری رہی اور یورپی حکام نے انکے موقف کو غور سے سنا ہے۔
وائس آف ایشیا09اگست 2019 خبر نمبر66

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •