Breaking News
Voice of Asia News

مسلمانوں کو اپنے سیاسی اور معاشی حالات دین کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے،خطبہ حج

 
مکہ المکرمہ( وائس آف ایشیا)امام کعبہ محمد بن حسن آل الشیخ نے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ہے کہ امت مسلمہ نفرتوں کو مٹا دے، مسلمان اپنے آپ کو سیاسی طور پر مضبوط کریں، اسلام کی حقیقی تصویر اعلی اخلاق ہے، اﷲ غرور اور تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، آج مسلمانوں کو اپنے سیاسی اور معاشی حالات دین کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے ۔ ا نہوں نے مسجد نمرہ سے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اﷲ نے انسانوں اور جنات کو اپنی عبادت کیلئے بنایا، مسلمانوں کو تقوی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، اﷲ کی توحید اور وحدانیت کو مضبوطی سے پکڑنا چاہیے، جو اﷲ سے ڈرتا ہے اﷲ اسے دنیا و آخرت کے ڈر سے نجات دلاتا ہے، اے عقل والو ! اﷲ کی اس کائنات اور اس کے نظام پر بار بارغور کرو، اﷲ تعالی کی رحمت بہت وسیع ہے، اﷲ نے قرآن میں فرمایا کہ آج اپنی نعمت کو پورا کر دیا، اﷲ نے قرآن میں فرمایا، آج کے دن ہم نے دین مکمل کر دیا، نجات کا راستہ صرف اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے میں ہے، اﷲ نے قرآن میں فرمایا جدا جدا راستے نہ اختیار کیے جائیں، امت مسلمہ میں جس قدر محبت ہوگی اسی قدر امن ہوگا۔خطبہ حج میں کہا گیا کہ ماہ رمضان میں رحمتوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، قرآن میں فرمایا گیا اﷲ اپنی رحمت سے جسے چاہتا ہے علم عطا فرماتا ہے، نبی کریم ﷺ نے مسلم امہ کو ایک جسم کی مانند قرار دیا، اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کا راستہ اختیار کریں، والدین کے بعد رشتے داروں سے اچھا رویہ اختیار کریں، نبی کریمؓ نے فرمایا، تم زمین والوں پر رحم کرو اﷲ تم پر رحم فرمائے گا، رحم دلی سے آپس میں تعاون اور بھائی چارہ قائم کرو، امت کو چاہیے ایک دوسرے سے شفقت کا معاملہ رکھے، نفرتیں ختم کرے، انسان ہو یا جانور، سب سے رحمت کا معاملہ کریں۔ خطبہ میں کہا گیا کہ تمہارے پاس اﷲ کی دلیل آ چکی ہے، اے عقل والو! اﷲ کے نظام پر بار بار غور کرو۔انہوں نے حجاج کرام سمیت تمام امتِ مسلمہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اﷲ کی اس نعمت اور فضل پر خوب خوشیاں منائیں، قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ اﷲ اپنی رحمت سے جسے چاہتا ہے علم عطا فرماتا ہے۔۔ خطبہ حج میں کہا گیا کہ اﷲ کی خصوصی رحمت اور فضل کے باعث انسان جنت میں داخل ہوگا، تقوی کا راستہ اختیار کرنے میں ہی فلاح ہے، اﷲ کی بارگاہ میں سجدہ ریز رہیں، تلاوت قرآن پاک کی عادت بنائیں، جو اپنے نفس کا تزکیہ کرتا ہے اﷲ اسے پاکی عطا فرماتا ہے، فرض نماز کی پابندی کرو، نماز اسلام کا اہم رکن ہے، بیشک اﷲ کی رحمت احسان کرنیوالوں کے قریب ہے، اﷲ کی رحمت سے ہی ہم شیطان کے وسوسوں سے بچے رہتے ہیں، مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، مومن ایک دوسرے کیلئے مغفرت کی دعا کرے۔ خطبہ حج میں کہا گیا کہ نماز قائم کریں، برائی کو روکیں، اﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں، اہل ایمان اﷲ سے رحمت مانگیں، فرشتے اہل ایمان کیلئے رحمت کی دعا کرتے ہیں، غلطیاں معاف کرنے سے بھائی چارے کی فضا پیدا ہوتی ہے، اپنے گناہوں سے توبہ کرو، اﷲ کی رحمت کے دروازے کھلے ہیں، حجاج کرام ! آپ لوگ وہاں موجود ہیں جہاں رحمتوں کا نزول ہو رہا ہے، حجاج کرام دعا میں مشغول رہیں، سب کیلئے دعائیں کریں، نبی کریمؓ نے بچوں کے ساتھ رحم دلی کی تلقین فرمائی ۔امام الشیخ محمد بن حسن آل الشیخ نے مزید کہا کہ سعودی حکومت نے حجاج کے لیے بہت خدمات انجام دی ہیں، سعودی حکومت کی کوشش سے حجاج کو ہرقسم کی سہولت مل رہی ہے۔مفتی اعظم نے سعودی عرب میں حاجیوں کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں، بہترین انتظامات کرنے والے منتظیمن اور دیگر اداروں کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لیے دعائے خیر کی۔امام الشیخ محمد بن حسن آل الشیخ نے خطبے کے آخر میں مسلم امہ کو تلقین کی کہ تلاوت قرآن پاک کو اپنی عادت بنائیں، اﷲ کی رحمت کی طرف توجہ کریں، آج کے دن اپنے اور اپنے رشتہ داروں کے لیے مغفرت کی دعا کریں۔انہوں اﷲ کے حضور تمام امت مسلمہ کے اتحاد اور مسلمان مرحومین کے لیے دعائے مغفرت بھی فرمائی۔انہوں نے سعودی عرب میں حاجیوں کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں، بہترین انتظامات کرنے والے منتظیم اور دیگر اداروں کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لیے دعائے خیر کی۔انہوں نے خادم الحرمین شرفین سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے بھی دعائے خیر کی۔سعودی عرب میں فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے آئے لاکھوں عازمین میدان عرفات میں جمع ہیں انہوں نے مسجد نمرہ میں حج کا خطبہ سنا۔گزشتہ روز منی میں قیام کے بعد عازمین ہفتہ کی صبح یعنی 9 ذی الحج کو میدان عرفات میں جمع ہیں جہاں وہ حج کا رکن اعظم یعنی وقوف عرفہ ادا کر رہے ہیں۔ خطبہ سننے کے بعد عزام کرام نے نماز ظہر اور عصر ایک ساتھ ادا کی۔واضح رہے کہ رواں برس سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار فرزندان اسلام مسلسل تین روز تک 3 خطبے سنیں گے۔ پہلا خطبہ گزشتہ روز جمعہ کا سنا گیا جب کہ دوسرا خطبہ ہفتہ کو خطبہ حج تھا اور تیسرا خطبہ آج نماز عید الاضحی کا سنا جائے گا۔عازمین حج غروب آفتاب کے ساتھ ہی میدان عرفات سے مزدلفہ روانہ ہوں گے جہاں وہ نمازِ مغرب اور عشا ایک ساتھ ادا کریں گے، عازمین رات بھر کھلے آسمان تلے قیام کریں گے اور رمی کے لیے کنکریاں چنیں گے۔ آج دس ذی الحج کو طلوع آفتاب کے بعد حجاج کرام مزدلفہ سے رمی کے لیے جمرات جائیں گے پھر قربانی کے بعد سر منڈوا کر احرام کھول دیں گے اور طواف زیارت کریں گے۔ہر سال کی طرح اس سال بھی سعودی حکام نے فرزندان اسلام کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کی ہیں، تاکہ مناسک حج کی ادائیگی کے دوران کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔خیال رہے کہ رواں برس 22 لاکھ سے زائد عازمین فریضہ حج ادا کر رہے ہیں جن میں سب سے زیادہ تعداد انڈونیشیا کے عازمین کی ہے جب کہ دوسرے نمبر پر پاکستانی عزام کا ہے۔امسال انڈونیشیا سے ڈھائی لاکھ عازمین جب کہ پاکستان سے 2 لاکھ عازمین فریضہ حج ادا کر رہے ہیں۔
وائس آف ایشیا10اگست 2019 خبر نمبر42

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •