Voice of Asia News

مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرادردادوں اور کے مطابق متنازعہ اور حل طلب ہے

برمنگھم( وائس آف ایشیا) تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرادردادوں اور کے مطابق متنازعہ اور حل طلب ہے 370 اور 35  کے خاتمے سے کشمیر کی جدو جہد ختم نہیں ہوگی اب تحریک ایک نئے اور آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے کشمیریوں نے بھارتی تسلط اور آئین کو کبھی تسلیم نہیں کیا بھارت جتنے مرضی ہے حربے اور ہتھکنڈے استعمال کر لے کشمیری آزادی کی جد و جہد سے دستبردار نہیں ہونگے ایک لاکھ سے زیادہ قربانیوں اور لٹتی ہوتی عصمتوں پر کسی کو سازش اور سودا کرنے اجازت نہیں دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلہ کشمیر کا فریق اور وکیل بھی ہے بین القوامی محاذ اور فورم پر پاکستان نمائیندگی کرتاہے پاکستان کی سفارتی اور سیاسی حمائت کا بڑا امتحان ہے کہ اس موقع پر حکمران کیا کارکردگی دکھاتے ہیں اس طرح کے حالات اور مواقع بار بار نہیں آتے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلاقات کو محدود کرنے صرف کافی نہیں ہیں اس وقت پوری دنیا نے بھارتی اقدامات کی مذمت کی ہے اقوام متحدہ کو متحرک کرنے کے لیے حکومت مسلم ممالک کو اپنے ساتھ کھڑا کرئے امریکہ نے پہلے ہی ثالثی کی پیش کش کی ہے سکیورٹی کونسل کے مستقل ممالک بھی موجود صورت حال پر اپنا ردعمل دے چکے ہیں اور حکومت نے اگر سفارتی کوششوں سے فائدہ نہ آٹھایا تو پھر مسلہ کا ایک ہی حل ہے کہ آٹھ بھارتی فوج کو مقبوضہ کشمیر سے نکالنے کے لیے اپنی فوج کو داخل کرئے۔ محمد غالب نے کہ کہ بھارت جنگ کی تیاریاں کر رہا ہے مذید فوج مقبوضہ کشمیر میں تعینات کر دی ہے بھارت غیر کشمیریوں کو آباد کر کے مسلمانوں کی اکثریت کو ختم کرنے کی سازشیں کر رہا ہے تاکہ رائے شماری کے نتائج بھارت کے حق میں ہوں حکومت پاکستان اس پر خاموش نہ رہے اور بھارت کے ناپاک ارادوں اورمذموم منصبوں کو روکنے کے لیے ٹھوس پالیسی اختیار کرئے اور نتائج سے دنیا کو آگاہ کر دیا جائے۔
وائس آف ایشیا10اگست 2019 خبر نمبر44

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •