Voice of Asia News

یمن ،خوراک کے عالمی پروگرام کی جزوی معطلی کے نتیجے میں تشویش بڑھ گئی

 
صنعاء ( وائس آف ایشیا) یمن میں خوراک کے عالمی پروگرام کی جزوی معطلی کے نتیجے میں متاثرہ خاندانوں میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق یمن میں خوراک کے عالمی پروگرام کی جزوی معطلی کے نتیجے میں متاثرہ خاندانوں میں تشویش بڑھتی جارہی ہے۔صنعاء کے رہائشی محمد قائد نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اپنے چار سالہ بچے نازع کے بارے میں پریشانی لاحق ہے، میرے سات بچے ہیں اور میں مایوس ہوں کہ اپنے بچوں کو کس طرح پالوں گا انہوں نے بتایا کہ اب ہمارا گزر سفر ریستورانوں میں بچے کھچے چاول پر ہے، ہم ڈش واشر کو 80 سینٹ دیتے ہیں تاکہ وہ بچے ہوئے چاول فراہم کرے۔مین میں مفلس اور بھوکے خاندانوں نے اپنے بچوں کو سکول جانے سے روک دیا ہے تاکہ وہ بوسی ٹکڑے جمع کرکے لائیں تاکہ بھوک سے بچا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ میرے بچے روتے رہتے ہیں چونکہ میں انہیں دو انڈے خرید کر نہیں دے سکتا بس ہمیں چائے پر ہی گزارا کرنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ میرے اہل خانہ کیلئے خوراک کے عالمی ادارے کی طرف سے ہر ماہ امداد فراہم ہوا کرتی تھی جس میں 75 کلوگرام گندم، کوکنگ آئل کی دو بوتلیں، چینی اور دالیں ہوا کرتی تھیں۔ادارے سے رسد اس وقت بند ہوئی جب خوراک کے عالمی ادارے اور حوثی حکام کے درمیان تعطل کی صورت حال پیدا ہوئی۔دونوں فریقوں نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا آیا غذا کی تقسیم کے کام کی نگرانی کون کرے گا۔اب اقوام متحدہ کے اہلکار وں کے مطابق حوثیوں نے اس بات کی اجازت دے دی ہے کہ بائیومیٹرک رجسٹریشن نظام وضع کیا جائے، تاکہ غذائی امداد کے ضائع ہونے کا امکان باقی نہ رہے۔ادارے نے کہا کہاگلے ہفتے صنعا کی 850000 کی آبادی میں خوراک کی جزوی امداد بحال ہوجائے گی لیکن، ایسے میں جب لڑائی چھٹے سال میں داخل ہو رہی ہے، امداد کا کام تیزی سے نہیں ہو پا رہا ہے۔واضح رہے کہ قائد یمن کے دارالحکومت صنعا میں بسنے والے ہزاروں مکینوں میں سے ایک ہیں، یہ حوثیوں کا مضبوط ٹھکانہ ہے، جن کا انحصار جاری تنازعے میں بین الاقوامی انسانی امداد پر تھا۔لڑائی کی وجہ سے قائد کی زندگی کو مشکلات کا سامنا ہے، اور ان کا خاندان بچے کھچے روٹی کے ٹکڑوں پر گزارا کر رہا ہے۔
وائس آف ایشیا10اگست 2019 خبر نمبر59

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •