مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد ہفتے کو بھی کرفیو نافذ رہا

سری نگر(وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد ہفتے کو بھی کرفیو نافذ رہا، مواصلاتی رابطے معطل رہے۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں چھٹے روز بھی کرفیو اور دیگر پابندیوں کے باعث ، خوراک اور ادویات کی قلت کی وجہ سے شہریوں کو سخت تکلیف کا سامنا ہے۔ کے پی آئی کے مطابق بھارتی تحقیقاتی ایجنسی این آئی ائے نے مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے سابق رکن اور عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجنیر رشید کو کپواڑہ سے گرفتار کر لیا گیا ہے ان پر مقبوضہ کشمیر کے مجاہدین کی مدد کا الزام ہے ۔ ادھر وادی بھارتی فوجیوں کے حصار میں ہے، کشمیری گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے، کھانے پینے کی اشیا ختم ہونے لگیں۔ وادی میں ٹیلی وژن، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سہولیات معطل ہیں ۔ مقبوضہ علاقے کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ روز کرفیو میں معمولی نرمی کے دوران ہزاروں افراد نے بھارت مخالف احتجاجی مظاہرہ کیا، پولیس کی فائرنگ سے درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ شمالی کشمیر کے سوپور ٹاون میں پتھراو کے واقعات پیش آئے ہیں حریت کانفرنس کے قائدین سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق سمیت تقریبا تمام حریت رہنما گھروں اور تھانوں میں نظر بند ہیں۔
وائس آف ایشیا10اگست 2019 خبر نمبر3