Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر، ذرائع ابلاغ کی معطلی اور کرفیو جاری ،کشمیری گھروں میں محصور

سرینگر ( وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیر میں مواصلات کے تمام ذرائع ہفتہ کو چھٹے روز بھی معطل رہیں۔ قابض انتظامیہ نے انٹرنیٹ اور ٹیلیفون کے رابطے منقطع اور ذرائع ابلاغ پر پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق بھارتی حکومت نے ملکی آئین کی دفعہ 370کی منسوخی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کوروکنے کیلئے مقبوضہ علاقے میں ٹیلیویژن ، ٹیلیفون اور انٹرنیٹ کی سہولیات ختم کر دی ہیں۔ بھارت نے دفعہ 370پانچ اگست بروز پیر منسوخ کردی تھی۔ اس اقدام سے پہلے قابض انتظامیہ نے علاقے میں مواصلات کا نظام منقطع اور کئی سیاسی رہنماؤں کو گرفتارکرلیا تھا۔ دریں اثناء قابض انتظامیہ نے مقبوضہ علاقے کے اطراف و اکناف میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر کے اسے مکمل طور پر ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر رکھا ہے۔ مقبوضہ علاقے میں کرفیو او ر دیگر پابندیاں بدستور نافذ ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی عدم دستیابی کے باعث مقبوضہ علاقے کا اس وقت وقت بیرونی دنیا سے رابطہ بالکل معطل ہے ۔ مقامی اخبارات پیر کے روز سے شائع نہیں ہو رہے اور نہ ہی اخبارت اپنے آن لائن ایڈیشن اپ ڈیٹ کر پا رہے ہیں۔سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق سمیت تقریباً تمام حریت رہنما گھروں اور تھانوں میں نظر بند ہیں۔ ستر گرفتار حریت رہنماؤں اور کارکنوں کو سرینگر سے بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر آگرہ کی جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدالقیوم اور کشمیرچیمبر آف کامرس کے عہدیدار مبین شاہ بھی بھارتی جیل میں منتقل کیے جانے والوں میں شامل ہیں۔ بھارت نواز سیاست دانوں فاروق عبداﷲ ، عمر عبداﷲ ، محبوبہ مفتی اور سجاد لوں سمیت 560سے زائد سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ مقبوضہ علاقے کے لوگوں کو بچوں کی غذا اور زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کی وجہ سے اس وقت سخت تکلیف کا سامنا ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •