Breaking News
Voice of Asia News

حکومت اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی توجہ بھارتی جارحیت کی طرف دلوائے سابق عسکری ماہرین

اسلام آباد ( وائس آف ایشیا) سابق فوجیوں کی تنظیم ویٹرنز آف پاکستان (سابقہ پیسا)نے بھارت کی جانب سے ریاست جموں کشمیرکے مقبوضہ حصے کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی بھرپور مذمت کی اور کہا جموں کشمیرکو سپیشل سٹیٹس اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے دیا تھا اور بھارت یکطرقہ طور پر ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا کیونکہ اسکی کوئی قانونی حیثیت نہیں ، ویٹرنز آف پاکستان کی ایک ہنگامی میٹنگ کے دوران سابق عسکری ماہرین نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی توجہ اس مسئلے کی طرف دلوائے اور دیگر متعلقہ فورمز پر بھی بھرپور آواز اٹھائے۔ انھوں نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے پارلیمنٹ کی مشترکہ قرارداد میں آرٹیکل 370 کا ذکر نہ کرنے پر اعتراض کیا جا رہا ہے جو غلط ہے کیونکہ سپیشل سٹیٹس اور آرٹیکل370 دو مختلف چیزیں ہیں۔بھارتی آئین کے آرٹیکل370 کا حوالہ دینا بھی غلط ہے کیونکہ جموں و کشمیر متنازعہ علاقہ ہے جس پربھارتی آئین لاگو نہیں ہوتا۔اگر ہم کشمیر کے تناظر میں بھارتی آئین کا حوالہ دینگے تو یہ جموں کشمیر پر بھارت کے قبضے جو جائز ماننے کے مترادف ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی جانب سے ریاست کو متنازعہ قرار دیئے جانے کے بعد آزاد کشمیر میں انتخابات ہوئے جس کے نتیجہ میں چوہدری غلام عباس پہلے صدر اور سردار ابراہیم پہلے وزیر اعظم بنے اور اب بھارت کی جانب سے تنازعے کی نوعیت تبدیل کرنا اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف وزری ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کا حوالہ دئیے بغیر اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی توجہ بھارتی جارحیت کی طرف دلوائے۔
وائس آف ایشیا10اگست 2019 خبر نمبر40

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •