Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر میں دسویں روز بھی لاک ڈاون، کشمیری بدستور گھروں میں محصور بچے بھوک سے بلبلانے لگے، غذا،ادویات کی بھی قلت

 
سرینگر ،اسلام آباد( وائس آف ایشیا )مقبوضہ کشمیر میں بدھ کوکرفیو اور لاک ڈاون دسواں روز بھی جاری رہا، بھارتی فورسزنے کئی علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ کشمیری بدستور گھروں میں محصور ہیں، بچے بھوک سے بلبلانے لگے، غذا اورادویات کی بھی قلت ہے۔بھارت کے جبر کے سامنے کشمیری ڈٹ گئے ہیں، کرفیو لاک ڈاون سمیت ہر طرح کی پابندیوں کے باوجود کشمیریوں نے بھارتی اقدامات کو پوری طرح مسترد کر دیا ہے۔ بھارت نے سیکیورٹی مزید بڑھا دی ہے۔سری نگر ،اسلام آباد،کپواڑہ ،بڈگام سمیت کشتواڑ، پلواما اور پونچھ میں ہزاروں قابض فوجی گشت کر رہے ہیں، مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ مسلسل بند ہے، کشمیری اخبارات اب تک اپڈیٹ نہیں ہو سکے، اخبارات پر صرف تاریخ بدل رہی ہے، خبریں پرانی ہی ہیں، بیرونی دنیا کا مقبوضہ وادی سے رابطہ منقطع ہے، حریت رہنما مسلسل نظر بند ہیں۔ 15 اگست کو بھارتی یوم آزادی کو کشمیری عوام یوم سیاہ کے طور منائیں گے،5 اگست کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت واپس لینے کے فیصلے کے بعد سے مقبوضہ وادی میں کرفیو لگادیا گیا تھا جس کے بعد سے لینڈ لائن، موبائل فون، انٹرنیٹ اور ٹی وی نشریات بھی بند ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق ہزاروں کشمیریوں نے عید الاضحی کے موقع پر سڑکوں پر احتجاج کیا، مظاہروں کے دوران کشمیری عوام نے بھارت سے مقبوضہ وادی چھوڑنے کا مطالبہ کیا اور آزادی کے نعرے لگائے۔،علاوہ ازیں پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت نے عید الاضحی پر مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں کشمیریوں کی مذہبی آزادی پر قدغن لگائی گئی۔دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پابندیوں اور لاکھوں کشمیریوں کے بنیادی مذہبی حقوق پر قدغن سے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘مقبوضہ وادی فوجی جیل بن گیا ہے جہاں کشمیریوں کو سری نگر کے تاریخی جامعہ مسجد میں عید کی نماز پڑھنے سے روکا گیا۔انہوں نے کہا کہ ٹیلی فون، لینڈ لائن اور سیلولر و انٹرنیٹ سروسز کی گزشتہ ایک ہفتے سے بندش سے کشمیریوں سے مذہبی تہوار کے موقع پر اپنے اہلخانہ اور اپنے پیاروں سے بات کرنے کا حق چھینا گیا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے و دیگر متعلقہ اداروں سے مذہب کے خلاف جرائم اور عالمی قوانین کی پاسداری نہ کرنے پر بھارت کا احتساب کرنے کا مطالبہ کرتا ہے’۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •